عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//کشمیروادی میں زراعت اور باغبانی ہی لاکھوں لوگوں کے ذریعہ معاش کا واحد یااہم وسیلہ رہاہے،لیکن ان دونوں شعبوں کو وسعت نہ دینے اور کوئی منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے کوئی توسیع نہ ملی ،بلکہ حدتویہ ہے کہ پیداواری اراضی کی ہیت تبدیل کئے جانے اورغیر معیاری کھادوں اور کیڑے مار ادویات کی درآمد اورکاروبار نہ خاص کر میوہ صنعت کو بھاری نقصان پہنچایا۔ایسے میں مرکزی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی جانب سے سال 2016کی ایک پہل اب 10سال بعد ایک نیا انقلاب بپا کرنے کیساتھ ساتھ ایک نئی اُمید بن گئی ہے۔کشمیروادی میں زراعت کا شعبہ اب صرف غذائی اجناس کی پیداوار تک محدود نہیں رہا بلکہ خوشبودار اور رنگین فصلوں کی کاشت میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی جا رہی ہیں، جن میں لیونڈر کی کاشت خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ پرپل یاارغوانی ریولوشن یا لیونڈر انقلاب نے نہ صرف زراعت کے شعبہ کی معاشی حالت کو مستحکم کیا ہے بلکہ وادی میں سیاحتی سرگرمیوں کو بھی نئی زندگی بخشی ہے۔
پرپل یاارغوانی ریولوشن یا لیونڈر انقلاب کا آغاز سال2016 میں مرکزی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (سی ایس آئی آر) کے تحت’اروما مشن‘ کے ذریعے کیا تھا۔ اس مشن کا بنیادی مقصد خوشبودار فصلوں کی کاشت کو فروغ دینا، درآمد شدہ خوشبودار تیلوں پر انحصار کم کرنا اور مقامی سطح پر خوشبودار فصلوں پر مبنی زرعی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق آج جموں و کشمیر کے تقریباً تمام بیس اضلاع میں لیونڈر کی کاشت کی جا رہی ہے، جس سے زراعت کے شعبہ میں ایک نیا انقلاب دیکھنے کو مل رہا ہے۔لیونڈر کا باغ:ضلع اننت ناگ کے سرہامہ علاقے میں واقع وادی کشمیر کا سب سے بڑا لیونڈر فارم اس انقلاب کی ایک نمایاں مثال ہے۔ مقامی سطح پر’سرکاری باغ‘ کے نام سے معروف یہ فارم 32 ہیکٹر اراضی پر پھیلا ہوا ہے، جس میں سے 10.2 ہیکٹر رقبہ پر لیونڈر کی کاشت کی گئی ہے۔ باغ میں تقریباً ایک لاکھ60 ہزار لیونڈر کے پودے موجود ہیں، جن سے سالانہ70 سے80 کوئنٹل پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ اس پیداوار سے تقریباً 70 سے80 لیٹر لیونڈر آئل تیار کیا جاتا ہے۔لیونڈر انقلاب:باغ میں لیونڈر آئل ڈسٹلیشن پلانٹ بھی قائم کیا گیا ہے، جہاں لیونڈر کے پھولوں سے خوشبودار تیل نکالا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ باغ کے دیگر حصوں میں مختلف طبی اور خوشبودار پودے مثلاً بنفشہ، مشک بالا، روزمیری اور بلغاریہ گلاب بھی کاشت کیے جا رہے ہیں، جبکہ گلاب کے پھولوں سے عرقِ گلاب بھی تیار کیا جاتا ہے۔ چیف ایگریکلچر آفیسر اننت ناگ شاہنواز شاہ نے کہا کہ لیونڈر نہ صرف روایتی زراعت کا ایک منافع بخش متبادل بن کر ابھرا ہے بلکہ یہ دیہی معیشت کو بھی نئی سمت فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرہامہ لیونڈر فارم کو ایگرو ٹورازم کے ایک اہم مرکز کے طور پر فروغ دینے کی کوششیں جاری ہیں۔