لیفٹیننٹ گورنر نے ایمز ،آئی آئی ٹی اور چڑیا گھر جموں کی پیش رفت کا جائیزہ

 جموں//لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اتوار کو راج بھون میں اپنے دفتر سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کیمرے سے لگے ڈرون کے ذریعے جموں ڈویژن کے میگا پروجیکٹوں کی پیش رفت کا جائیزہ لیا ۔ اس جائیزے میں ایمس جموں ، آئی آئی ٹی جموں اور جموںچڑیا گھر تین زیر تکمیل پروجیکٹ شامل تھے ۔لیفٹیننٹ گورنر نے پروجیکٹوں پر تیزی سے پیش رفت کیلئے عمل آوری ایجنسیوں کی کوششوں کی تعریف کی ۔ اجلاس کے دوران پروجیکٹوں کی فزیکل اور مالیاتی پیش رفت کے بارے میں بریفنگ دی گئی ۔ ایمز جموں کے ڈائریکٹر پروفیسر ( ڈاکٹر ) شکتی گپتا نے بتایا کہ وجئے پور میں ایمس جموں کے پروجیکٹ کیلئے 1661 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے جس میں تعمیر کیلئے 1452 کروڑ روپے ، طبی آلات اور فرنیچر کیلئے 209 کروڑ روپے جبکہ اب تک 1253.78 کروڑ روپے کے کاموں کے ٹینڈر کئے گئے ہیں ۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ کام کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کیلئے سائٹ پر تعینات افرادی قوت میں کئی گنا اضافہ کیا گیا ہے ۔ آئی آئی ٹی جموں کے مستقل کیمپس پر ہونے والی پیش رفت کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے آئی آئی ٹی جموں کے ڈائریکٹر ڈاکٹر منوج سنگھ گوڑ نے میٹنگ میں بتایا کہ اس پروجیکٹ کیلئے 1283.94 کروڑ روپے کی رقم منظور کی گئی ہے ۔ جموںچڑیا گھر کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے سریش کمار گپتا   نے بریف کیا کہ جے کے آئی ڈی ایف سی کے تحت 62.41 کروڑ روپے کے فیز 1 کی کل پروجیکٹ لاگت کے مقابلے میں 49.17 کروڑ روپے کے فنڈز منظور کئے گئے ہیں ۔ میگا پروجیکٹس کی تکمیل کی متوقع تاریخیں ایمس جموں کے فیز 1 کیلئے مارچ 2023 ، جمبو چڑیا گھر کے فیز 1 کیلئے ستمبر 2022 اور آئی آئی ٹی جموں کے فیز 1C کیلئے اپریل 2023 ہیں ۔ ڈویژنل کمشنر جموں ڈاکٹر راگھو لانگر اور ایگزیکٹو ایجنسیوں کے متعلقہ افسران نے بھی میٹنگ میں شرکت کی ۔ 
 

دبئی ایکسپو ۔ جے اینڈ کے کیلئے صنعتی سرمایہ کاری کا گیٹ وے

 جموں و کشمیر میں فوڈ پروسیسنگ یونٹ تیار کرنے کیلئے 600 ملین روپے دینے کا وعدہ 

جموں//حال ہی میں ختم ہونے والی دبئی ایکسپو نے پورے جموں و کشمیر کیلئے صنعتی سرمایہ کاری کیلئے گیٹ وے کھول دیا ہے، جو یہاں کی صنعتی ترقی کیلئے نئے دور کی صبح ثابت ہو گا ۔ ایکسپو میں شرکت کے دوران جموں و کشمیر حکومت کو سرمایہ کاری کیلئے دبئی میں مقیم صنعت کاروں کی طرف سے حوصلہ افزاء جواب ملا ۔ کئی عالمی سرمایہ کار اب جموں و کشمیر کی غیر استعمال شدہ مارکیٹ اور صنعتی صلاحیت پر نظریں جمائے ہوئے ہیں ۔ ایکسپو کے دوران جموں و کشمیر حکومت نے ممکنہ شعبوں میں رئیل اسٹیٹ ، انفراسٹرکچر ، سیاحت ، صحت کی دیکھ بھال ، فوڈ پروسیسنگ اور دیگر میں کم از کم چھ معاہدوں پر دستخط کئے ، جس سے بڑی مقدار میں سرمایہ کاری ہوئی جو جموں و کشمیر کی صنعتی ترقی کیلئے قابلِ ذکر ہو گی ۔ ایکسپو میں شرکت کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کی متعدد معروف کمپنیوں جیسے المایا گروپ ، ایم اے ٹی یو انویسٹمنٹ ایل ایل سی ،سینچری فائنانشل ، نون ای کامرس اور دیگر نے جموں و کشمیر کی حکومت کے ساتھ مفاہمت کی یاداشتوں پر دستخط کئے ۔ اس کے علاوہ میگنا ویوز پرائیویٹ لمٹیڈ ، ایمار گروپ اور لولو انٹر نیشنل کے ساتھ لیٹر آف انٹینٹ پر بھی دستخط کئے گئے ۔ ایکسپو کے دوران ایمار گروپ نے جموں و کشمیر حکومت کے ساتھ سرینگر میں 500,000 مربع فُٹ کا شاپنگ مال تیار کرنے کیلئے ایک معاہدے پر دستخط کئے ۔ ایمار متحدہ عرب امارات کا سب سے بڑا رئیل اسٹیٹ ڈویلپر ہے اور اس سرمایہ کاری سے مزید سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہونے کی امید ہے ۔ لولو گروپ نے بھی جموں و کشمیر میں فوڈ پروسیسنگ یونٹ تیار کرنے کیلئے 600 ملین روپے دینے کا وعدہ کیا ہے ۔ مزید براں یو اے ای سنچری فائنانشل جس کا مالک جموں و کشمیر کے ضلع ڈوڈہ سے تعلق رکھتا ہے جموں و کشمیر یو ٹی میں تین ہوٹلوں اور ایک تجارتی رہائشی کمپلیکس کی تعمیر کیلئے سرمایہ کاری کرے گا ۔ دبئی کی بندر گاہوں کی بڑی کمپنی ڈی پی ورلڈ جموں و کشمیر میں اندرون ملک بندر گاہ بنانے کیلئے تیار ہے اور اس منصوبے کیلئے 250 ایکڑ کی جگہ کو جلد ہی حتمی شکل دی جائے گی ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان منصوبوں سے نہ صرف مقامی نوجوانوں کو روز گار کے خاطر خواہ مواقع میسر آئیں گے بلکہ زراعت کے شعبے کو بھی فائدہ پہنچے گا اور کسانوں کی معاشی حالت بہتر ہو گی ۔ جموں و کشمیر ۔ دبئی شراکت داری کے تحت دُنیا کے مشہور جی آئی ٹیگ والے کشمیری زعفران کو دبئی کے لولو ہائپر مارکیٹ میں لانچ کیا گیا ہے ۔ دبئی میں سرمایہ کاروں کے اجلاس میں شرکت کے دوران لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اپنے خطاب میں جموں و کشمیر کی مضبوط کاروباری صلاحیت کو اجاگر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک سوتے ہوئے کاروباری مقام سے مواقع اور سرمایہ کاری کی سرزمین پر منتقل ہو گیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر صنعتوں کو آسانی سے دستیاب وافر وسائل کے ساتھ مقابلہ کرنے ، درست کرنے اور تعاون کرنے کا موقع فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ یہاں پر ماہرین نے ان تمام پیش رفت کو ایک ماسٹر اسٹروک قرار دیا ہے کیونکہ اس کی اقتصادی اہمیت کے علاوہ سیاسی اور سفارتی اہمیت بھی ہے ۔ یہ سفارتی طور پر ایک بہت بڑا اقدام ہے کیونکہ او آئی سی کا ایک اہم ملک ہونے کے ناطے متحدہ عرب امارات یونین کے زیر انتظام علاقے میں سرمایہ کاری کر رہا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہندوستان کے درست ہونے کے دعوے کو تسلیم کرتے ہیں ۔