لوگ نقل و حمل محدود رکھیں

  بورڈ اور مسابقتی امتحانات حسب ِشیڈول ہونگے، متاثر ممالک سے لوٹنے والے خود اپنی جانچ کرائیں

 
جموں// حکومت نے جموں کشمیر میں سکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں 31مارچ تک تدریسی عمل معطل کرنے اور آنگن وارڈی مراکز بندکرنے کا اعلان کرتے ہوئے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ کورونا وائرس سے ابھرنے والی صورتحال کے نتیجہ میں احتیاطی اقدام کے طور غیر ضروری سفر و اجتماع اور پبلک ٹرانسپورٹ کے غیر ضروری استعمال سے گریز کریں۔تاہم یہ واضح کیا گیا کہ بورڈ اورمسابقتی امتحانات شیڈول کے مطابق ہونگے ۔ان باتوں کی جانکاری حکومت کی جانب سے مشن ڈائریکٹر نیشنل ہیلتھ مشن جموںوکشمیر بھوپندر کمار نے ناظم اطلاعات صحرش اصغر اور نوڈل آفیسر کورونا وائرس ڈاکٹر شفقت خان کی موجودگی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران دی ۔انہوںنے کہا’’تمام تعلیمی ادارے بشمول(سرکاری و نجی سکول) ،کالج اور یونیورسٹیوں میں تدریسی عمل 31مارچ تک معطل رہے گاجبکہ آنگن واڑی مراکز بھی 31مارچ تک بند رہیں گے تاہم بورڈ اور دیگر مسابقتی امتحانات حسب شیڈول منعقد ہونگے‘‘۔مشن ڈائریکٹر نے لوگوں اور صحافیوں کو مشورہ دیا کہ وہ عوامی اجتماعات ،غیر ضروری سفر اور پبلک ٹرانسپورٹ کے غیر ضروری استعمال سے اجتناب کریں۔ان کا اس ضمن میں کہناتھا’’عوام اور صحافیوں کو چاہئے کہ وہ سماجی فاصلہ بنائیں ۔سفر اور پبلک ٹرانسپورٹ کے غیر ضروری استعمال سے اجتناب کریں‘‘۔
بھوپندر کمار کا مزید کہناتھا’’صورتحال کی متواتر اور قریب سے نگرانی کی جارہی ہے ۔تاحال مشتبہ مریضوں کے قریبی رابطہ میں رہنے والے 1211مسافروں اور لوگوں کو متحرک نگرانی میں رکھاگیا ہے جن میں سے150نے 28روزہ قرنطینہ کی مدت مکمل کرلی ہے جبکہ 12فی الوقت ہسپتالوں اور968گھروں میںقرنطینہ کردئے گئے ہیں،نیز 81کو خانہ نگرانی میں رکھاگیا گیا ہے ‘‘۔ان کا کہناتھا’’مشتبہ مریضوں کے64نمونے جانچ کیلئے بھیجے گئے ہیں۔64نمونوں میں سے28کی رپورٹ منفی آئی ہے ۔ایک نمونہ مثبت پایا گیا جبکہ دیگر35رپورٹوںکا انتظار ہے جبکہ سکمز صورہ اور جی ایم سی جموں میں کورونا وائرس لیبارٹریاںقائم کی جاچکی ہیں‘‘۔کمار نے چین ،ہانک کانگ ،جنوبی کوریا ،جاپان ،تھائی لینڈ ،سنگا پور ،ایران ،فرانس ،سپین ،اٹلی ،ملیشیا اور جرمنی جیسے بیرونی ممالک سے لوٹنے والے افرد سے اپیل کی کہ وہ واپس لوٹتے ہی از خود اپنے آپ کو الگ تھلگ رکھیں اور حکومت کی جانب سے وضع کئے گئے احتیاطی اقدامات پر عمل کرکے انفیکشن کے پھیلائو کو روکنے میں مدد کریں۔انہوںنے کہا کہ چونکہ یہ وائرس 100ممالک سے زیادہ تک پھیل چکا ہے ،اس لئے امکان ہے کہ ایسے ممالک کا سفر کرنے والے انفیکشن سے متاثرہ لوگوں کے ساتھ رابطے میں آئے ہونگے ،لہٰذا یسے لوگوں کو از خود اپنی طبی جانچ کرانی چاہئے اورگھروں میں مخصوص مدت کیلئے الگ تھلگ رہیں اور کسی بھی بیماری کی صورت میں صحت محکمہ کو رپورٹ کریں۔
مشن ڈائریکٹر نے مزید کہا’’کچھ ممالک میں بڑی تعداد میں کیس رپورٹ ہوئے ہیں اور وہاں بڑی تعداد میں اموات ہوئی ہیں ۔ایسے ممالک سے آنے والے مسافروں میں انفیکشن زدہ ہونے کا بہت زیادہ امکان ہے ،لہٰذا باہر سے آنے والے تما م افراد کو از خود رہنما ہدایات پر عمل پیرا ہونا چاہئے‘‘۔اس دوران نوڈل آفیسر ڈاکٹر شفقت خان نے دعویٰ کیا کہ جموں میں کورونا وائرس کا کوئی دوسرا مثبت کیس نہیں ہے۔انہوںنے لوگوں سے پھر اپیل کی کہ وہ خوفزدہ نہ ہوجائیں اور حکومت کی جانب سے جاری کی جانے والی معلومات پر بھروسہ کریں۔اس دوران حکومتی ترجمان روہت کنسل کی جانب سے کئے گئے ایک ٹویٹ میں کہاکہ پورے جموں صوبہ میں 31مارچ تک سنیما گھر بند رہیں گے۔