لولاب میں ایمبو لنس روکنے پر احتجاج ،تحقیقات کی مانگ

کپوارہ//پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ کے ذریعہ سب ضلع ہسپتال سوگام کی ایمبولنس کو ڈیڑھ گھنٹہ تک روکنے پر طبی اور نیم طبی عملہ نے احتجاج کیا۔ ہسپتال کی ایمبولنس زیر نمبرJK09A/0812مریض کوچھوڑ کر جب کھوڈی گاگل سے واپس آرہی تھی تو بڑی بیرہ لولاب میں ناکہ پر بیٹھے ایس او جی ٹیم نے ایمبولنس کو 95منٹوں تک روک لیا۔ اس موقعہ پر عملہ نے کہاکہ ہسپتال میں آپریشن تھیٹر میں کئی مریضوں کی سرجری ہورہی ہے اور وہاں ایمبولنس کی ضرورت پڑجائے گی لیکن ایس او جی اہلکاروں نے ڈرائیور سے گاڑی کے کاغذات اور لائسنس دکھانے کیلئے کہا تاہم انہیں کہا گیا کہ کچھ دیر مزید انتظار کرو جو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے جبکہ لولاب میں برفانی تودے کے ذد میں آکر زندہ دفن ہونے والے دوشہریو ں کی نعشو ں کو بھی ڈوبن سے رنگ ورنو لانا تھا اس لئے ایمبولنس کا اسپتال پہنچنانا پہلے ضروری تھا ۔پولیس کی جاب سے اسپتال ایمبولنس روکنے پر سب ضلع اسپتال سوگام کے عملہ نے فوری طور احتجاج کیا اور واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔بلاک میڈیکل آ فیسر سوگام ڈاکٹر فردوس احمد بٹ کا کہنا ہے کہ پولیس نے اسپتال ایمبولنس کو روک کر قانون سے کھلواڑ کیا ۔انہو ں نے کہا کہ اگر ناکہ پر بیٹھی پولیس پارٹی کو ایمبولنس کے بارے میں کوئی شک تھا اور ان کو گا ڑی سمیت اسپتال پہنچناتھا اور وہا ں گا ڑی کی تلاشی لینی تھی لیکن انہو ں نے ایسا نہیں کیا بلکہ ایمبو لنس کو وہا ں ہی روک دیا ۔بی ایم او کا مزید کہنا ہے کہ انہو ں نے ایک چھٹی زیر نمبر BMOS/1270/73بتاریخ 25/01/2019 ضلع انتظامیہ اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کے نام لکھ دی اور تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ آ ئندہ ایسے واقعات  پیش نہ آسکیں۔ اس حوالہ سے پولیس کے ایک اعلیٰ آفیسر نے کشمیر عظمیٰ کو بتا یا کہ 26جنوری کے حوالہ سے کچھ روز سے معمول کے مطابق تلاشی ہورہی تھی کہ ا س دوران گاڑیو ں کی ایک لمبی لائن لگ گئی جس میں بلاک میڈیکل آ فیسر سوگام کی ذاتی گا ڑی اور ایمبو لنس بھی تھی ۔انہو ں نے کہا کہ جب بی ایم او کی گا ڑی ،جو ایمبولنس سے آگے تھے ،کی تلاشی لی گئی جس پر اس کو غصہ آ یا اور وہ ایمبو لینس گا ڑی کے ڈرائیور کو اپنی ذاتی گا ڑی میںبٹھا کر وہا ں سے چلے گئے اور ایمبولنس کو وہا ں پر چھو ڑ دیا لیکن پھر بھی پولیس اہلکارو ں نے ایمبو لنس گا ڑی کی تلاشی لی ۔انہو ں نے کہا کہ ایمبو لنس گا ڑی کو جان بوجھ کر نہیں روکا گیا بلکہ معمول کی تلاشی ہورہی تھی ۔