لندن//برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں لیٹیمر روڈ پر واقع گریفنل ٹاور میں بھڑک اٹھنے والی آگ نے 24 منزلہ عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لوگ اس میں پھنسے ہوئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق یہ آگ مقامی وقت کے مطابق شب ایک بج کر 16 منٹ پر بھڑک اٹھی جسے بجھانے کے لیے 200 فائر فائیٹرز مصروف ہیں۔میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ ’لوگوں کو مختلف قسم کی چوٹیں آئی ہیں جن کا علاج معالجہ کیا جا رہا ہے۔‘ آگ نے پورے گریفنل ٹاور کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور عمارت کے منہدم ہونے کا خدشہ ہے۔ادھر لندن کی فائر بریگیڈ کا کہنا ہے کہ آگ بجھانے کے لیے 40 گاڑیوں کو روانہ کیا گیا تھا جبکہ شہر کے میئر صادق خان نے اسے ’بڑا واقعہ‘ قرار دیا ہے۔تقریباً چار بجے علی الصبح پولیس نے بتایا کہ ’رہائشی ابھی تک اس ٹاور کو خالی کر رہے ہیں۔‘زرائع نے بتایا: ’ہم عمارت کا ملبہ گرتے دیکھ رہے ہیں، دھماکوں اور شیشے ٹوٹنے کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔‘پولیس گھیرے کو وسیع کرتی جا رہی ہے اور عمارت کے زمین بوس ہونے کے خطرے کے پیش نظر عوام کو اس عمارت سے دور کر رہی ہے۔’میلوں دور سے عمارت کو جلتے دیکھا جا سکتا ہے۔‘ انھوں نے بتایا کہ ’دسویں منزل سے اوپر کی منزلیں بے تحاشا جل رہی ہیں۔‘لندن فائر بریگیڈ کے نائب کمشنر ڈین ڈیلی نے کہا کہ آگ بجھانے والا عملہ ’آگ پر قابو پانے کے لیے انتہائی مشکل حالات میں کام کر رہا ہے۔‘’یہ بہت بڑا اور سنگین معاملہ ہے اور ہم نے مختلف وسائل اور مخصوص آلات کام پر لگا رکھے ہیں۔‘چینل فور کے پروگرام امیزنگ سپیسز کے میزبان جارج کلارک نے ’ریڈیو فائیو لائیو‘ کو بتایا کہ ’میں راکھ سے ڈھکا جا رہا ہوں جو کہ بہت برا ہے۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں عمارت سے صرف 100 میٹر دور ہوں اور میں راکھ سے ڈھک چکا ہوں۔‘’یہ بہت تکلیف دہ منظر ہے۔ میں نے کسی کو دیکھا ہے جو اپنی ٹارچ جلا کر عمارت کے اوپر والے حصے کو دیکھ رہا ہے لیکن وہ باہر نہیں جا سکتا ہے۔‘ایک عینی شاید ٹم ڈونی نے بتایا کہ ’عمارت کا ایک حصہ مکمل طور پر جل چکا ہے۔ یہ بہت برا ہے، بہت برا لگ رہا ہے۔ میں نے پہلے کبھی ایسا کچھ بھی نہیں دیکھا ہے۔ یہ بہت بڑی آگ کی طرح ہے۔‘