لل دید ہسپتال میں ٹیسٹ ڈوز سے حاملہ خاتون کی موت

سرینگر //لل دیدہسپتال سرینگر میںجواں سال حاملہ خاتون کی موت کیخلاف تیمارداروں نے احتجاجی مظاہرے کئے جس کے نتیجہ میں گھنٹوں تک گاڑیوں کی نقل و حمل متاثر رہی۔ عیدگاہ سرینگر سے تعلق رکھنے والی حاملہ خاتون کو لل دید ہسپتال میں داخل کیاگیا اور اینٹی بائیوٹک Ceftraxone کے ٹیسٹ ڈوز سے اس کی موت ہوگئی ہے جس کے خلاف جمعرات کوتیمارداروں نے احتجاجی دھرنادیا اور مظاہرے کئے۔ مظاہرے میںشامل تیمارداروں کاکہنا ہے کہ ہسپتال میں زیر علاج حاملہ خواتین کے علاج و معالجہ میں نہ صرف لاپرواہی برتی جارہی ہے بلکہ تیمارداروں سے مختلف بہانوں کے ذریعے سے پیسے لئے جارہے ہیں جبکہ اسپتال انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ احتجاج میں شامل تیمار دار بلال احمد نے کہا کہ لل دید اسپتال کے لیبر روم میں ڈاکٹروں اور عملے کی عدم توجہی کی وجہ سے کئی خواتین جان گنوا دیتی ہیں۔ بلال احمد نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ لیبر روم میں ڈاکٹر سے لیکر چپراسی اور سیکورٹی تک مختلف بہانوں سے تیمارداروں سے پیسے اینٹھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسپتال میں جاری رشوت ستانی کی وجہ سے تیماردارسڑک پر آکر احتجاج کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔لل دید اسپتال کے باہر احتجاجی دھرنے کی وجہ سے کئی گھنٹوں تک ٹریفک جام رہا جسکی وجہ سے راہگیروں اور مسافر گاڑیوں میں سوار لوگوں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ خاتون کی موت ٹیسٹ ڈوز سے ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر شبیر احمد نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا’’ مذکورہ خاتون کو اینٹی بائیوٹک دینے سے قبل ٹیسٹ ڈوذدیا گیا جو دی جاننے والی دوائی کا 0.5فیصد ہوتا ہے۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ مذکورہ خاتون میں ٹیسٹ ڈوز سے ہی الرجی ہوئی اور اسکی طبیعت بگڑتی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ خاتون کو انتہائی نگہداشت والی ایمبولنس گاڑی میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اسکی موت واقع ہوگئی ہے۔واضح رہے کہ لل دید اسپتال سرینگر میں 2017کے دوران بھی عملہ کی لاپرواہی کی وجہ سے حاملہ خواتین کی موت واقع ہوگئی تھی ۔