سرینگر // حکومت کی جانب سے کمیٹی برائے فکزیشن آف پرائیویٹ سکول فیس نے کہا ہے کہ پرائیویٹ سکول منتظمین و مالکان کیلئے سکولی بچوں کیلئے گاڑیاں دستیاب نہ رکھنے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے انہیں فوری طور پر 10سوالوں پر مشتمل سوالنامہ ارسال کردیا ہے۔سابق جسٹس مظفر حسین عطار کی سربراہی میں حکومت کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی نے پرائیویٹ سکول منتظمین سے کہا ہے کہ وہ ایسے اعدادوشمار اور تفصیلات پیش کریں اگر انہوں نے لاک ڈائون کے دوران والدین یا طلباء سے گاڑیوں کی فیس وصول کی ہو۔سکولوں نے کتنی گاڑیاں رکھی تھیں،کل گاڑیوںکتنی ہیں، لاک ڈائون کے دوران کتنے ڈرائیوروں اور کنڈیکٹروں کی تعداد اسکولوں میں تھی،گاڑیوں کا کتناانشورنس پریمیم ادا کیاگیا،ٹیکس کی ادا ئیگی ہوئی یا نہیں، کتنی ہوئی ہے،بینکوں سے لئے گئے قرضہ پر کتنا سود دیا گیا، ایسے ڈرائیوروں اور کنڈیکٹروں کی تنخواہ کتنی ہے، جو موجود تھے،لاک ڈاؤن کے دوران اسکول کے انتظام کی گاڑیوں کی تعداد کتنی تھی وغیرہ۔سکولوں کے منتظمین کے نام چھٹی میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی کو نجی سکولوں کی جانب سے متعدد درخواستیں موصول ہوئی۔ سکولوں کی انجمن کی جانب سے کہا گیا کہ لاک ڈائون کے دوران طلاب سے ٹرانسپورٹ چارجز نہیں لئے گئے لیکن سکولوں کو ڈرائیوروں اور کنڈیکٹروں کو ماہانہ تنخواہ دینی پڑی۔لاک ڈاؤن مدت کے دوران نجی اسکولوںکوبینکوں سے لئے گئے قرض پر سود کی ادائیگی کرنی پڑی،بسوں کو صحیح حالت میں رکھنے کیلئے بھی خرچہ کرنا پڑا۔خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ والدین نے بھی شکایات درج کروائی ہیں۔ان شکایات میں کہا گیا ہے کہ کوویڈ مدت کی ٹرانسپورٹ فیس بھی طلاب سے وصول کی گئی۔خط میں کہا گیا ہے کہ حکومتی کمیٹی نے اسکولوں کو ہدایت کی تھی ٹرانسپورٹ فیس وصول کرنے کے بارے میں تب تک کوئی فیصلہ نہ لیا جائے جب تک عدالت میں معاملہ پر غور نہیں کیا جاتا۔خط میں کہا گیا ہے کہ والدین کو کوفت سے بچانے کیلئے متذکرہ سوالنامہ کے جوابات فوری طور پر کمیٹی کے سامنے تحریری طور پر پیش کئے جائیں تاکہ اس اہم معاملے پر کوئی فیصلہ لیا جاسکے۔