لازمی بنانے کے عمل کو ختم نہیں کیا گیا تو اسمبلی انتخاب کا بائیکاٹ کریں گے:کشمیری پنڈت M-form

جموں //بے گھر کشمیری پنڈتوں کی ووٹر رجسٹریشن کے مشکل ترین عمل پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے این سی اقلیتی سیل نے متنبہ کیا ہے کہ اگر سرکار نے آنیوالے اسمبلی انتخابات میں M-form لازمی بنانے کے عمل کو ختم نہیں کیا ،تو وہ آنیوالے اسمبلی انتخاب کا بائیکاٹ کریں گے۔ این سی اقلیتی سیل کے صدر ایم کے یوگی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سرکار نے M-Forms کے وساطت سے کے پی مائیگرنٹ ووٹروں کے ووٹوں کی رجسٹریشن کا عمل بہت ہی پیچیدہ بنایا ہے،جس کی و جہ سے مائیگرنٹ انتخابی عمل میں شرکت نہیں کر پاتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ جمہوری عمل کے ساتھ ایک بڑا مذاق ہے،جہاں پر شہریوں کوووٹ ڈالنے سے روکا جاتا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنایا جائیاور فوٹو شناختی کارڈ لاگو کیا جائے جیسے کہ دیگر نوعیت کے انتخابات میں ہوتا ہے۔یوگی نے مزید کہا کہ سال 1990 میں تقریباً7.5  لاکھ کشمیری پنڈت ووٹر رجسٹرڈ تھے،جو رفتہ رفتہ کم ہوتاگیا ۔انہوں نے کہا کہ سال 2014اسمبلی انتخاب میں 1.10  ۔لاکھ ووٹروں نے اپنی رجسٹریشن کی تھی لیکن2019پارلیمانی انتخاب میں ووٹروں کی تعداد فقط کچھ ہزاروں تک سمٹ کر رہ گئی،جس میں سے حالیہ نارتھ اور سنٹرل کشمیر کے پارلیمانی انتخاب میںمشکل سے ہی10,000 ووٹروں نے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ ایسا M-form  کے مشکل ترین عمل کی وجہ سے ہے۔اُس نے کہا کہ ہماری سمجھ سے یہ باہر ہے کہ سرکا رنے M-form  کیوں لازمی بنایا جبکہ پنڈت ووٹروں کیلئے فوٹو شناختی کارڈ پہلے ہی ہیںانہوں نے مطالبہ کیا M-form  کے عمل کو ختم کیا جائے اور زونل دفاتر میں پولنگ اسٹیشن کھولے جائیں ،جہاں پر ووٹروں کا سارا ریکارڈ دستیاب ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمانی انتخابات اختتام پذیر ہونے کے بعد تمام کیمونٹی لیڈروں اور سیاسی ورکروں کا ایک اجلاس منعقد کیا جائے گا، جس میں آئیندہ کے لائحہ عمل پر فیصلہ کیا جائے گا۔قابل ذکر ہے کہ کشمیری پنڈت ملک میں ایسا ایک طبقہ ہے جو اپنے انتخابی حلقہ سے دور رہتے ہوئے اپنے نمائندوں کے لئے ووٹ ڈالتے ہیںکیونکہ وہ ملی ٹینسی کی وجہ سے اپنے آبائی وطن میں گذشتہ تین دہائیوںسے نہیں رہتے ہیں۔وادی کشمیر کے تین پارلیمانی حلقوں سرینگر، اننت ناگ، اور بارہمولہ میں کل ملا کر 92,103  مائیگرنٹ ووٹر ہیں۔ سرینگر، گاندربل اور بڈگام اضلاع پر مشتمل سرینگر پارلیمانی حلقہ میں 38,278  کشمیری مائیگرنٹ ووٹر ہیں جبکہ پلوامہ، اننت ناگ، شوپیاں اور کولگام پر مشتمل اننت ناگ پارلیمانی حلقہ میں اقلیتی طبقہ کے 33,957 ووٹر ہیں۔اگرچہ ان ووٹوں کا حلقہ کے انتخابی نتائج پر کافی اثر پڑ سکتا ہے،تاہم بیشتر ووٹراں اپنے جمہوری حق کا استعمال نہیں کرتے ہیں۔ رجسٹریشن عمل میں شرکت کرنے کے باوجودہزاروں کی تعداد میں ووٹران ابھی تک بغیر شناختی ووٹر کارڈ کے ہیں۔ نئے ووٹروںکی جانب سے فارم بھرنے کے باوجود  بیشتر نئے ووٹروں کا نام ابھی تک انتخابی فہرستوں میں نہیں ہے ۔جموں و ملک کے دیگر حصوں میں رہائش پذیر کشمیری پنڈت طبقہ کے لوگوں کا شرح فی صد ایم ۔فارموں کی مشکل ترین عمل کی وجہ سے ہے ،جس پر سرکار کو نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ف