ہندوارہ// شمالی ضلع کپوارہ کے متعدد علاقے ایسے ہیں جہا ں ابھی بھی سکولی عمارتو ں کا نام و نشان نہیں ہے جس کی وجہ سے بچو ں کو تعلیم حاصل کرنے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ماور ہندوارہ کے لائو سہ علاقہ میں ایک مڈل سکول دہائیو ں سے قائم ہے اور اس کیلئے پانچ کمرو ں والی ایک عمارت دستیاب ہے تاہم مقامی لوگو ں کے مطابق یہ سکولی عمارت خستہ حال ہے ۔مقامی لوگو ں کے مطابق یہ عمارت اب اس قدر خستہ حالت میں ہے کہ بچوں کے ساتھ ساتھ سکول میں تعینات عملہ بھی خوف محسوس کر رہا ہے جبکہ والدین میںغیر محفوظ سکولی عمارت پر سخت ناراضگی پائی جارہی ہے ۔ سکول میں 120طلبہ زیر تعلیم ہیں اور ان کے لئے محض 3کمرے دستیاب ہیں جو بالکل غیر محفوظ ہیں ۔والدین کا کہنا ہے کہ سکولی عمارت کی خستہ حالی کی وجہ سے ان کے بچے دھوپ میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔سکول میںزیر تعلیم طلبہ کا کہنا ہے کہ بارشوں کے دوران انہیں خستہ حال عمارت میں پڑھایا جاتا ہے جس کی وجہ سے بارشو ں کا پانی کمرو ں میں گھس جاتا ہے تاہم انہیں ہر وقت یہ خوف محسوس ہورہا ہے کہ کہیں یہ خستہ حال عمارت گر نہ جائے ۔اس سکولی عمارت کی خستہ حالی کے سلسلے میں محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران کو آگاہ کیا گیا لیکن تا حال نئی عمارت بنانے کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا گیا ۔اتنا ہی نہیں سکول میں ریاضی مضمون پڑھانے کے لئے کوئی بھی استاد نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کی تعلیم متاثر ہورہی ہے ۔اس حوالہ سے جب چیف ایجوکیشن افسر کپوارہ عبد الحمید فانی نے کہا کہ ریاضی مضمون پڑھانے کے لئے گیارویں اور باورہیں جماعت کے طلبہ کو استاد تعینات کیا جاتا ہے جبکہ مڈل سکول میں کوئی بھی مدرس ریاضی مضمون پڑھا سکتا ہے ۔مقامی لوگوں نے لیفٹیننٹ گورنر سے اس سلسلے میں مداخلت کی اپیل کی ہے۔