قومی ایوارڈ یافتہ لیکچرار نظیر احمد یتو کی سبکدوشی پر ٹھٹھاڑ بانہال میں الوداعی تقریب

بانہال // قومی ایوارڈ یافتہ استاد لیکچرار نظیر احمد ایتو ساکنہ نوگام بانہال کی سبکدوشی پر ہائیر سیکنڈری سکول ٹھٹھاڑ میں شاندار الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر سکول کے ایک اور ملازم محمد امین کی سبکدوشی پر بھی ان کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کیا گیا اور ان کی ایمانداری اور خوش اسلوبی سے وقت مقرر پر اپنے کام کو انجام دینے کیلئے ان کی بھی پذیرائی کی گئی۔ بانہال کے نوگام علاقے سے تعلق رکھنے والے لیکچرر نظیر احمد ایتو 1987 میں بطور ٹیچر تعینات ہوئے تھے اور گذشتہ کئی سال سے وہ ڈسٹرکٹ ریسورس گروپ ( ڈی آر جی) کے سربراہ کی حیثیت سے کام کر رہے تھے اور انہیں بہترین تعلیمی خدمات اور کارکردگی کیلئے نیشنل ایوارڈ سمیت کئی اعزازات سے نوازا گیا ہے۔الوداعی تقریب کے موقع پر ایس ڈی ایم بانہال نے ظہیر عباس بٹ نے لیکچرر نظیر احمد ایتو کے تعلیمی اور کووڈ کے دوران کئے گئے کام کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعلیم میں اپنے فرائض انجام دینے کے علاوہ انہوں نے کوویڈ کے دوران بانہال میں انتظامیہ کے ہمراہ قابل قدر رول نبھایاہے۔ اس موقع پر ریاست کے معروف افسانہ نگار رحیم رہبر نے دین اسلام اور مفکرین کی روشنی میں استاد کے مقام پر مفصل روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ استاد کا کام صرف سکولوں میں ہی تعلیم فراہم کرنا نہیں ہے بلکہ ہر ایک فرد پر ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علم اور حق کی بات کو کو کسی بھی طریقے سے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کیلئے میدان میں آئیں تاکہ ایک بہتر سماج کی تکمیل ہو۔ انہوں نے معلم کے حوالے سے قران اور دیگر مذہبوں کی کتابوں کے علاؤہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، ارسطو ، سقراط اور سر محمد اقبال کے اقوال کے ساتھ روشنی ڈالی ۔ پرنسپل ہائیر سیکنڈری سکول بانہال عبدالرشید گیری نے نظیر احمد ایتو ایک عظیم استاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی طرف سے تعلیم کو لیکر نئے نئے تجربات اور خاص کر کووڈ کے دوران بچوں کو آن لائن تعلیم فراہم کرنے کے لئے کی گئی انتھک محنت سے نہ صرف ہزاروں بچوں کو فائیدہ پہنچا بلکہ ان کے کام کو سرکار میں اعلی تعلیمی حکام سے پذیرائی بھی حاصل ہوئی اور ان کے کام کو سراہا جارہا ہے۔ مہمان خصوصی نظیر احمد ایتو نے وہاں موجود تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کوشش کی ہے کہ وہ اپنے فرض کے ساتھ انصاف کریں اور اس کیلئے انہوں نے مکمل طور سے ایک ٹیچر بننے کی کوشش کی تاکہ بچوں کو علمی سرگرمی بھرپور فائدہ دیا جاسکے۔ انہوںنے کہا کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ سماج کے ایک رکن کی حیثیت سے اپنی خدمات کو ہمیشہ میسر رکھیں گے ۔اس موقع پر محکمہ تعلیم کے ایک اور ملازم محمد امین شیخ کی سبکدوشی پر انہیں بھی اعزاز سے نواز گیا اور ان کی طرف سے ایمانداری سے انجام دئے گئے فرائض پر ان کی سراہنا کی گئی۔ بعد میں دونوں سبکدوش ملازمین کی عزت افزائی کی گئی اور انہیں گھر تک رخصت کیا گیا۔