قمر اعظم صدیقی کی کاوش

کہتے ہیں’’ ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں ‘‘یعنی ہر دور میں تبدیلی آتی رہی ہے۔ آج جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں اسے ڈیجیٹل ورلڈ کہتے ہیں۔ یہ دور دراصل سوشل میڈیا کا دور ہے۔ کبوتر سے ای میل تک اخبار سے ویب سائٹ اور ٹی وی سے یوٹیوب چائنل تک کا سفر طے کر چکے ہیں۔ ہر شعبہ ہائے حیات پر اڈوانس ٹیکنالوجی کا اثر ہے ۔ کوویڈ۔۱۹ pandemic اور Lockdown کے وجہ سے اسکول کالج بند ہو گئے ۔ ان ڈیڑھ سالو میں کوئ بچہ صبح اسکول یونیفارم میں اسکول جاتا نظر نہیں آرہا‌ ہے ۔ system of education online رائج ہو چکاہے۔ ہندوستان کے تمام تعلیمی اداروں میں آن لائن تعلیم جاری ہے۔ کوویڈ ۔۱۹کا اثر مہینےدو مہینے نہیں بلکہ سالوں کا ہے۔ اس ضمن میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پرایمری لیول سے لے کر یونیورسٹی تک آن لائن سسٹم مکمل طور پر نافذ ہو جائے گا۔بلکہ میڈیکل کالجیز میں کلینکل کلاسیز بھی آن لائن ویڈیو کلیپ پر ہو رہے ہیں۔ شاید آیندہ مستقبل میں کتاب کاپی قلم قصہ پارینہ ہو جائیں اور سب آن لائین ہو۔ اس طرح سے اب اخبارات زیادہ تر ڈیجیٹل ہیں۔ اور نیوز ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔ اس سلسلے میں شیریں زبان اردو کے فروغ کے لیے ویب سائٹ، ویب پیج، نیوز پروٹل کا استعمال کیا جارہا ہے۔ اس ضمن میں ’’ایس آر میڈیا پیج‘‘ اردو کی ترقی اور ترویج و فروغ اور بقا میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ جس کے روح رواں قمر اعظم صدیقی صاحب ہیں۔ ان کا اصل نام قمر اعظم اور قلمی نام قمر اعظم صدیقی ہے۔ ان کے والد کا اسم گرامی شہاب الرحمن صدیقی ہے ۔ قمر اعظم صاحب کے والد گرامی بھی اردو کے کامیاب ترین استاد رہے ہیں۔ وہ سرکاری ملازمت میں درس و تدریس کے فرائض کو انجام دے کر چند سال قبل سبکدوش ہو چکے ہیں۔ قمر اعظم کا تعلق بہار کے ضلع ویشالی میں شہر حاجی پور کے قریب بھیرو پور سے ہے۔ اسی بھیرو پور سے تعلق رکھنے والے مشہور ادیب ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق بھی تھے جنکا چند ماہ قبل انتقال ہو گیا۔  
قمر اعظم نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے فاصلاتی کورس سے ایم اے اردو تک کی تعلیم حاصل کی ۔ ان کا مشغلہ تجارت ہے لیکن اردو ادب سے انہیں گہری دلچسپی ہے ۔ بلکہ دوران طالب علمی سے ہی اردو ادب ، شعر و شاعری سے گہرا شغف رہا ہے۔ انہوں نے چند غزلیں ، نظمیں و حمد تو دوران طالب علمی میں ہی لکھی ہے۔ 
شعر و شاعری میں استاد شاعر جناب قوس صدیقی پھلواری شریف پٹنہ سے شرف تلمذ حاصل کیا ۔ لیکن انہوں نے ١٥ سال قبل ہی اشعار کہنا مکمل بند کر دیا۔ علاوہ ازیں شخصیات اور حالات حاضرہ پر مضامین ، افسانے قلمبند کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحریریں ہندوستان کے مختلف اخبارات ، ویبسائٹ اور پروٹل پر گاہے بگاہے شائع ہوتے رہتی ہیں۔ تجارت کے سلسلے میں بھی انہیں ہندوستان کے مختلف ریاستوں جیسے آسام ،مگھالیہ ،سکم، مغربی بنگال، اڑیسہ،آندھرا پردیس ، تلنگانہ کیرالا، کرناٹک ، مہاراشٹرا، گجرات، ایم پی ، یوپی ، ہریانہ، دہلی کے علاوہ بیرونی ملک کاٹھمانڈو جانے کا بھی شرف حاصل ہے۔  
قمر اعظم صاحب کو اپنی مادری شیریں زبان اردو سے خاصی رغبت،انسیت اور محبت ہے اور اسی محبت و اردو کی خدمت کے جزبے میں انہوں نے " ایس آر میڈیا " ویب پیج کی تخلیق کی ہے۔ ویب پیج کافی دلکش، معیاری اور معلوماتی ہے۔ ان کے اس ویب پیج پر نہ صرف نئے قلمکاروں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے ، بلکہ مشاہیر اہل قلم کے نگارشات بھی شائع ہوتے ہیں۔ جن میں کہنہ مشق اور مقبول قلم کار مضمون نگار ہیں جن میں خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کارگزا جنرل سکریٹری مسلم پرسنل لاء بورڈ، مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ (بہار اڑیسہ و جھارکھنڈ ) انوار الحسن وسطوی ، ڈاکٹر ریحان غنی چیف ایڈیٹر روزنامہ پندار پٹنہ ، مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی، ڈاکٹر امام اعظم ریجنل ڈائریکٹر مانو کولکاتا، حقانی القاسمی، صفدر امام قادری ، پروفیسر ڈاکٹر محمد توقیر عالم، محمد ولی اللہ ولی آل انڈیا ریڈیو دہلی، انور آفاقی، ڈاکٹر محمد سراج اللہ تیمی، جاوید اختر بھارتی، سید نوید جعفری، کامران غنی صبا ، پریم ناتھ بسمل، شیبا کوثر، مظہر وسطوی کے نام قابل ذکر ہیں ان تمام اسکالر کے ساتھ راقم الحروف مظفر نازنین کے بھی مضامین ’’ ایس آر میڈیا پیج ‘‘ پر شائع ہوتے رہتی ہیں۔ جس کے لیے میں قمر اعظم صاحب کی بےحد شکر گزار ہوں ۔ ان کے علاوہ نئے قلمکاروں میں عبدالرحیم برہولیاوی، سرفراز احمد قاسمی، محمد نظر الہدی قاسمی، محمد قاسم ٹانڈوی ، محمد ہدایت اللہ عارفی و دیگر لوگوں کے نام شامل ہیں ۔ 
ایس آر میڈیا مضمون نگار کے لیے کافی دلکش اور خوبصورت ٹایٹل پیج بنا کر جہاں مضمون نگار کو محبت کا تحفہ پیش کرتی ہے وہیں قارئین کو تحریر پڑھنے پر مجبور کرتی ہے۔ الحمداللہ اب تک ’’ایس آر میڈیا پیج ‘‘ کی نیوز اور مضامین کو 16 ہزار لوگوں تک رسائی کا شرف حاصل ہے۔ دیگر سائٹ یا اخبار کے قارئین اس پیج کی تحریر وں کو پڑھنے کے لیے فیس بک میں جا کر سرچ بار میں ٹائپ کریں ’’ایس آر میڈیا ‘‘ اس کا ای میل ہے [email protected] ۔قمر اعظم صاحب کی اردو سے اتنی گہری رغبت ہے کہ اس ویب پیج کے نام بھی صرف اردو زبان میں ہی بنائے گیے ہیں ۔ اگر آپ انگریزی میں سرچ کرینگے تو دستیاب نہیں ہے۔میں قمر اعظم صاحب کی اردو کی بے لوث خدمت کے لیے تہ دل سے پر خلوص مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ انکا مقصد صرف سوشل میڈیا کے ذریعے اردو کی تحریک کو فروغ دینا ہے ۔ قمر اعظم صاحب کی یہ کاوش قابل ستائش ہے ۔ بارگاہ خداوندی میں سربسجود ہو کر دعا کرتی ہوں کہ خدا اردو کے اس شیدائی قمر اعظم صاحب کو صحت کے ساتھ حیات بخشے ۔ استقامت عطا کرے تاکہ پورے جوش و خروش کے ساتھ ادب کے خدمت میں مصروف رہیں۔ اور انشاءاللہ وہ دن دور نہیں جب’’ ایس آر میڈیا پیج ‘‘پر پوری اردو دنیا کے مشاہیر قلم اور سخنوران ادب اپنی نگارشات ارسال کریں گے۔