قطرمیں چھ دن۔۔۔ قسط3

دی   ویلیج میں جانے سے قبل ایک گھنٹہ ابھی خالی تھااس لیے سوق واقف میں گھوماگیا۔اندازہ ہواکہ کچھ قطری آج بھی بدوہیں۔وہاںقطرکا المہرجان الثقافی ایک ماہ کے لیے لگاتھا۔اس میں روایتی رقص،ڈانس میوزک اورڈیجے بج رہاتھا۔مختلف طائفے اپنااپنافن پیش کررہے تھے۔کچھ طائفوںکے ساتھ نوجوان لڑکیاںبھی تھیں۔زیادہ ترطائفوںکے ممبران اپناروایتی عربی ڈریس پہنے ہوئے تھے۔
بہرحال عربی روایتی رقص میں کوئی Attraction نہیں لگا۔ہوسکتاہے لوکل عربوںکے ذوق کی چیز ہو۔ویسے بھیڑبھاڑامڈی ہوئی تھی ۔اس بھیڑمیں اورنمازوںکے اوقات میںقدیم طرز کے قطریوںکواوروہاںکے عام شہریوںکودیکھنے کا موقع ملا۔اگرچہ قطری بھی سعودی عرب کی طرح وہابی ہیںمگرعورتوںکوزیادہ آزادی حاصل ہے۔وہ لمبی عبایاپہنتی ہیںجبکہ مردعموماًعربی لباس میں عقال کے ساتھ ہی دکھائی دیے ۔قطری بہت کم مغربی لباس پہنتے ہیں۔ڈنرکے بعدکورنیش گئے جوساحل سمندرپر واقع ہے ،سمندرکے عین کنارے بڑے بڑے ٹاوراوربلڈنگیںبنی ہوئی ہیںجورات میں روشنی میں نہائی ہوئی تھیں۔کشتیاں لوگوںکوکرایہ پر سمندرمیںگھمارہی تھیں۔یہ غالباًخلیج عرب ہے جوبحرہندسے جاملتاہے ۔بڑاخوبصورت منظرتھا۔ہمارے گروپ کے سب لوگ مختلف ٹکڑیوںمیں بنٹ کرآہستہ آہستہ ٹہلتے رہے ۔ اورتقریباایک گھنٹہ بعدواپس ہوٹل پہنچے ۔
ونٹرانٹینسوکے پانچویں دن پروفیسرابراہیم موسیٰ کے گروپ نے اپنی جولانئی طبع کا مظاہرہ کیا۔عادل عفان نے مختصراً ارتدادکی سزاپرنئے سرے سے غوروفکرکی ضرورت پر اپنی فائنڈنگ پیش کیں۔ان کا خلاصہ تھاکہ قرآن کے مطابق ارتدادکی کوئی سزانہیں ہے۔تاہم بات یہیں پر ختم نہیں ہوجاتی بلکہ یہ توایشوسے نہایت ظاہری اورسرسری سا گزرناہوا۔معاملہ یہ ہے کہ اس مسئلہ میں متعددروایات ثابت ہیں۔اکثرفقہاء کا اس پر اجماع ہے۔کے پانچویں دن پروفیسرابراہیم موسیٰ کے گروپ نے اپنی جولانئی طبع کا مظاہرہ کیا۔عادل عفان نے مختصراً ارتدادکی سزاپرنئے سرے سے غوروفکرکی ضرورت پر اپنی فائنڈنگ پیش کیں۔ان کا خلاصہ تھاکہ قرآن کے مطابق ارتدادکی کوئی سزانہیں ہے۔تاہم بات یہیں پر ختم نہیں ہوجاتی بلکہ یہ توایشوسے نہایت ظاہری اورسرسری سا گزرناہوا۔معاملہ یہ ہے کہ اس مسئلہ میں متعددروایات ثابت ہیں۔اکثرفقہاء کا اس پر اجماع ہے ۔یعنی دوسرے لفظوںمیں کہاجاسکتاہے کہ اس میںتعارض ادلہ ہوگیاہے کیونکہ قرآن تواس معاملہ میںواضح ہے اورتبدیلی مذہب کی کوئی سزانہیں بتاتاہے مگرآثاروروایات میں نیزفقہاء کے اقوال اسلام کوچھوڑکرکوئی اورعقیدہ قبول کرنے کی سزاقتل قراردیتے ہیں ۔اگرحدیث کوبھی دین کا اساسی مصدرماناجاتاہے تواب ان تمام روایات واحادیث کوبھی address کرناپڑے گاجن میں مرتدکی سزاقتل بتائی گئی ہے۔
محمدبلال نے شان نزول کی روایتوںکا سہارالے کرفہم قرآن میںتاریخ کے تناظرکے کردارپربات کی ۔ڈاکٹرفضل الرحمن ،آمنہ ودود اور نصرحامدابوزیدنے تاریخ کے تناظرکی بات کہی ہے مگرشان نزول کی روایتوںسے شایداس پر استدلال کرناخلط مبحث ہوگا۔اس کے بعدمنظرامام نے’’ اسلام اور انسانی حریت ‘‘پر ترکی میں Young Turks کے مخصوص عہدکے پس منظرمیں بڑی خوبی سے گفتگوکی ۔گفتگوزیادہ تر اکیڈمک رہی ۔تھیوری کی حدتک بات نبھ جاتی ہے اورہم اسلام کے اس ضمن میں فضائل بیان کرلے جاتے ہیںمگرمسئلہ اصلاٰعملی ہے۔سوال یہ ہے کہ اسلام غلامی کوختم کرنے آیاتھا(جیساکہ دعوی کیاجاتاہے )توپوری مسلم تاریخ میں غلامی کیوںجاری رہی ؟فقہاء نے اس کے احکام کیوںمرتب کیے؟ اس کے علاوہ تمام فقہا اس پر اتفاق رکھتے ہیںکہ مرتدکوقتل کیاجائے گااورو ہ اس معاملہ میں محارب وغیرمحارب کا کوئی فرق نہیں کرتے پھریہ کہنے کی کیاتک بنتی ہے کہ اسلام حریت فکراورحریت اعتقادکا محافظ ہے؟بہرحال یہ مسائل نہایت غوروفکراورجرأت وہمت کاتقاضاکرتے ہیں۔
آخرمیں امیرکارواںپروفیسرابراہیم موسیٰ نے اپناپیپرپیش کیاجس کا عنوان تھا: Bening and Knowing in an age of Contingency ۔یہ پیپرفلسفہ وکلام کا آمیزہ تھااورروح ،دل ودماغ کے بارے میںجدیدمیڈیکل تحقیقات اوران کے اطلاقات کے فکری وفقہی نتائج سے بحث کرتاتھا۔انہوںنے کہاابن عربی کے حوالہ سے کہاکہ انسان کا وجودبھی کہیںنہ کہیں Divinity سے وابستہ ہے اوردونوںکوالگ کرکے نہیں سمجھاجاسکتا۔پیپرکا خلاصہ یہ تاکہ وحی پر ایمان کی وجہ سے ہم کسی نہ کسی طرح تقلیدپرمجبورہیں مگرہماری تقلیدتغیرپذیرہونی چاہیے۔ہم یہ تحقیق وجستجو کریںکہ موجوددورمیں کس طرح اپنی تھیولوجی کوموجودہ دورکی کلامیات کے مطابق بنائیں۔ہمیںدینیات میں تبدیلی کی ضرورت ہے اور اس کے لیے سوشل سائنسزنیزنیچرل سائنسزکے tools استعمال کرنے ہوںگے ۔
پروگرام کے تمام دنوںمیں چائے کے وقفوںمیں ،کھانے کی میزپر اورچلتے پھرتے پروفیسرابراہیم موسیٰ شرکاء سے گھلے ملے رہتے ،ان کے سوال پوری توجہ سے سنتے اوران کی علمی رہنمائی کرتے ،بس میں بیٹھے ہیںاورعلمی ضوفشانی کا سلسلہ جاری ہوگیا! !      ؎
 نگاہ بلند سخن دل نواز جان پرسوز  
 یہی ہے رخت سفرمیرکارواںکے لیے
چھٹادنCISکے اساتذہ سے استفادہ اورانٹرایکشن کے لیے اورشرکاء کے تاثرات کے لیے رکھاگیا۔جس میںمعاصرقرآنی اسٹڈیز کے ماہرپروفیسرجوزف لمبارڈ ،مذاہب کے تقابلی مطالعہ کے ماہرپاکستان کے ڈاکٹرمدثرعلی اورسری لنکا کے پروفیسردین محمدنے مختصراًخطاب کیااورشرکاء نے ان سے سوالات کیے۔جوزف لمبارڈ نے جاپانی مفکرتوشیکوہیکوکے حوالہ سے بتایاکہ قرآن کی اپنی ْخاص زبان ہے جس کی مثال دنیاکی کسی زبان میں نہیں،اس نے بعض الفاظ کومخصوص معانی دیے مثال کے طورپر کفرجاہلی دورمیں اخفاء (چھپانے )کے معنی میں استعمال ہوتاتھامگرقرآن نے اس کوعدم ایمان باللہ کے معنی میں استعمال کیا۔انہوںنے کہاکہ قدیم تفاسیرکے ساتھ ایک خاص مشکل یہ ہے کہ وہ کسی نہ کسی مکتب فکرکی وکالت میں لکھی گئی ہیں۔ڈاکٹرمدثرعلی نے مولانامناظراحسن گیلانی اوران کی کتاب الدین القیم پر روشنی ڈالی اوران کے تعلیمی نظریات سے آگا ہ کیا۔مولاناگیلانی کے مطابق تعلیم حصول معاش میں مددگارہونی چاہیے۔گیلانی نے اسلامی یونیورسٹی کا تخیل بھی پیش کیاتھا۔پروفیسردین محمدنے ابن عربی کے حوالہ سے بتایاکہ ہماری روایت میں دینیات کے اندرخداکا تجربہ شخصی طورپر ہوتاتھا۔انہوںنے آیت کریمہ: افن شرح اللہ صدرہ للاسلام فہوعلی نورمن ربہ(وہ شخص جس کے سینہ کواللہ نے اسلام کے لیے کھول دیااُسے اپنے رب کی طرف سے ایک نورحاصل ہے(زمر : ۲۲) کے حوالہ سے بتایاکہ ہماری روایت میں صوفی اس کوبہت اہمیت دیتے ہیں۔
اس سیشن کے بعد ہندوپاک اورنوٹرے ڈیم کے تقریبا۲۰ شرکاء نے مختصراً مدرسہ ڈسکورس اوراس پروگرام کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کیے اورچاروںاساتذہ نے بھی مختصرکلمات اداکیے پانچ بجے الوداعی ڈنرپر ونٹرانٹینسِو کابخیروخوبی اختتام ہوا۔
آخری بات:اپنے اختتامی کلمات میں پروفیسرابراہیم موسیٰ نے کہاکہ مدرسہ ڈسکورسز میں سوالوںکا جواب نہیں دیاجاتابلکہ ذہن کوسوال کرنے اورخودجواب ڈھونڈنے کے لائق بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔کیونکہ سوال کوسمجھنازیادہ اہم ہے۔اگرہم انفرادی سوالوںکا جواب دے کر بات ختم کردیںتومقصدفوت ہوجائے گا۔زیادہ اہم یہ ہے کہ انفرادی سوالوںکا جواب نہیں بلکہ جوتہذیبی چیلنج درپیش ہے، اس کے جواب کی تیاری کی جائے،کیونکہ آج مغربی انٹیلیکچول روایت کے مقابلہ میںکوئی انٹیلیکچل روایت نہیں آرہی ہے۔ہماری روایت میں بہت تنوع اورDiversity رہی ہے اورمدرسہ ڈسکورسزاسی روایت کے احیاء کی ایک کوشش ہے۔قطرمیں راقم کے بھی کئی شناسابرسر روزگارہیں۔محترم شاہدخان ندوی ، بھائی نشاط احمدندوی اوربرادرخالدسیف اللہ اثری ۔مؤخرالذکر سے رابطہ کی کوشش بھی کی مگرہمارے انٹینسِوکا شیڈول بھی ٹائٹ تھااورخالدصاحب کو ایک مشاعرہ کے اہتمام کی وجہ سے غالباً فرصت نہیںملی اس لیے ملاقات نہ ہوسکی البتہ معروف اسکالرمولانارحمت اللہ ندوی صاحب ازراہ کرم خودہی ہمارے ہوٹل آگئے تھے اس لیے آخری دن ان سے مختصرملاقات ممکن ہوگئی ۔مولاناندوی سے ملاقات کرکے جلدی جلدی میںلؤلؤمال سے ہم کئی ساتھیوںنے بچوںکے لیے کچھ خریداری کی اوراکتیس دسمبرکودن کے گیارہ بجے قطرکوخیربادکہا۔
قطرمیں ثقافتی آزادی توبہت ہے مگرفکروسوچ پر ابھی بھی دوسری عرب آمرریاستوںکی چھاپ ہے۔اخبارات میں بھی کوئی خاص زندگی نہیں۔امیرفیملی کے گن زیادہ گائے جاتے ہیں۔ٹی وی پر زیادہ تر پروگرام نہایت واہیات اورلوگوںکولہوولعب میں منہمک رکھنے والے ہیںاوریہی حال تمام عربی چینلوں،اخباروںاورٹی ویوںکا ہے۔البتہ الجزیرہ کا اس سے استثنی ہے جس کے پروگراموںمیں تنوع ہے اورجوپوری آزادی سے رپورٹنگ کرتاہے۔اسی طرح قطرفاؤنڈیشن مختلف عالمی موضوعات پر مباحثوںکا اہتما م بھی کرنے لگاہے جوایک خوش آئندعلامت ہے۔
(ختم شد)
  نوٹ : مضمو ن نگارریسرچ ایسوسی ایٹ مرکزفروغ تعلیم وثقافت مسلمانان ہند علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ ہیں