….قصور اپنا نکل آیا!!

ویسے  آج کل ہرڈاکٹر کے یہاں بھیڑ ہوتی ہے ۔ وہاں بھی کافی بھیڑ تھی ۔ ہم لائن میں بیٹھے اپنی باری کا انتظار کررہے تھے ۔ نظریں ڈاکٹر صاحب کے کمرے کے دروازے کی طرف ایک ٹک مرکوز تھیں ۔کمرے سے بجنے والی ہر بیل پر ہمارا دل بھی بلیوں اُچھلتا تھا۔ جب لائن میں بیٹھا اگلا مریض ڈاکٹر کے کمرے کی جانب قدم بڑھاتا توہم بھی بینچ پر بیٹھے بیٹھے ایک قدم آگے بڑھاکر پھر ڈاکٹر کے کمرے کے دروازے پر لٹکے پردے کو گھورنے لگتے تھے۔ حالت گویاں یوں تھی   ؎
زیرِ دیوار اس لئے ہے عاشقوں کا جمگھٹا
بام پر وہ ماہِ تاباں بے نقاب ہونے کو ہے 
میرے قریب ہی ایک معمر خاتون بیٹھی تھی ۔ وقت گذاری کے لئے اُس نے چندرسمی کلمات اور اِدھراُدھر کی باتیں کہہ کر بات اپنی آپ  بیتی کے ساتھ جوڑ دی ۔ انتظاری کوفت سے نبردآزماہونے کے لئے میں ہمہ تن گوش ہوگیا ۔ اُس عورت کی باتیں میرے لئے یوفونی (Euphony) بن گئیں ، انہماک سے نہ سنتا تو کیا کرتا ۔ڈاکٹر کے کمرے کے باہر انتظار کرنا آدمی کو خلجان میں مبتلا کردیتاہے ۔ وہ کہنے لگی : ۔’’میں ٹوٹ پھوٹ چکی ہوں ۔ مصیبتوں اورغموں نے مجھے نڈھال کردیا ہے ۔ میں صحتمند تھی مگر جب سے تکالیف کا دور شروع ہوا تب سے میں طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہوگئی ہوں ۔ اب بس دوائیوں کے سہارے ہی زندہ ہوں ۔ ہم صاحبِ ثروت تھے اور شہر کے روساء میں شمارہوتے تھے ۔ ہمارے پاس گلمرگ کے علاقے میں ایک سو دس کنال (110) کنال ، پہلگام میں بارہ کنال ،شالیمار علاقے میں چار کنال اور برزلہ علاقے میں بیس کنال زمین تھی مگر آج رہنے کے مکان کے سوا کچھ بھی باقی نہیں بچاہے ۔ وہ ساری زمینیں اور جائیداد میرے اکلوتے بیٹے نے اپنی عیاشیوں کی نذرکردیں۔ میری تین لڑکیاں اور صرف ایک بیٹا ہے۔ بیٹے کو لکھایا پڑھایا اور ریاست سے باہر اعلیٰ تعلیم دلوادی ۔ تعلیم کا سارا خرچہ تو اٹھانا ہی تھا مگر رہنے ، کھانے پینے کا اعلیٰ انتظام الگ سے کروادیا تھا کیونکہ ناز ونعم میں پالے بیٹے کے لئے میں ہوسٹل میں رہنا اور غلط سلط کھالینا پسند نہیں کرتی تھی ۔پڑھ لکھ کر لڑکا واپس آگیا اور ایک اونچے سرکاری عہدے پر فائز ہوگیا ۔ ہم نے اُس کی شادی دھوم دھام سے کردی اور اُدھر سے مطمئن ہوکر ہماری زندگی سکون سے کٹنے لگی ۔ مصیبتوں کی شروعات جب ہی سے ہوئی جب میرے بیٹے نے اپنے ہی عہدے کا ناجائز فائدہ اُٹھاکر اپنے دفتر میں پچیس ہزار روپے کا غبن کیا۔ حالانکہ گھر میں اس کی کمائی کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور رقم بھی کوئی اتنی بڑی نہیں تھی ۔ خدا کا دیا ہوا سب کچھ تھا مگرچونکہ وہ غلط راستے پر پڑگیا تھا اس لئے اس کے اخراجات بھی کافی بڑھ گئے تھے اور عادات زوال پذیر ی کا باعث بن رہے تھے۔ غبن ثابت ہوا اور اسے سزا ملی ۔ 
نوکری سے برطرف ہوجانے کے بعد اُس نے ایک فیکٹری کھولی جس کا سارا خرچہ میں نے ہی اُٹھایا مگر وہ بھی سال ڈیڑھ سال کے اندر ہی اُس کی بے راہ روی کے باعث خسارے کی بھینٹ چڑھ کربند ہوگئی ۔ اس کے بعد اُس نے زمینوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا اور ایک ایک انچ زمین کا سودا کرکے اپنے نائونوش ، کھان پان ، قماربازی اوربری لتوں کی بھینٹ چڑھادیا۔ ہم سے بلاشبہ ایک بھاری غلطی ہوچکی تھی کہ ہم نے پہلے ہی سے ساری زمین اُس کے نام کردی تھی ۔ اسی دوران اُس کی بیوی جو بہت نیک ، سگھڑ اور ایک بہت بڑے گھر کی بیٹی تھی ، نے تنگ آکر خودہی شوہر سے علیحدگی اختیار کرلی ۔ میری ایک بیٹی جو آرام وآسائش کے ساتھ اپنی سسرال میں اپنی زندگی گذار رہی تھی ، اچانک انتقال کرگئی ۔ وہ زخم ابھی تازہ ہی تھے کہ یکے بعد دیگرے دو اور بیٹیاں مطلقہ ہو کر واپس میرے متھے منڈھ دی گئیں ۔ اُن کی زندگی میں زہر گھولنے کاباعث بھی ان کا اپنا ہی بھائی بنا ۔
اُن روح فرسا واقعات نے اس بدبخت لڑکے پر کوئی اثر نہیں کیا بلکہ وہ حسب ِ معمول اپنی عیاشی اور مکروہ لذت کوشیوں میں مست رہا۔ اس وقت اب میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے صرف میرے شوہر کی تھوڑی سی پنشن آتی ہے ،میں اُسی پر گذر بسر کررہی ہوں ۔ اب آپ ہی بتائیے کتنا دل گردہ ہے میرا؟ کتنا برداشت کیا ہے میں نے ؟ بے انتہا مایوسی کے عالم میں ، میں نے اپنی زندگی کا خاتمہ ہی کرلیا ہوتا مگر کیا کروں ، بوڑھا شوہراور دو مطلقہ بیٹیاں سد راہ بنی ہیں۔اب تو اُس ناہنجار بیٹے کا بھی کاؤنٹ ڈائون شروع ہوچکاہے ۔ ہسپتال میں پڑا ایڑیاں رگڑ رہاہے مگر اب کیا فائدہ ، بازی ہاتھ سے نکل چکی ہے ، جو ہوناتھا وہ ہوچکاہے ۔ وہ معافیاں تو مانگ رہاہے مگر اسے اپنے اعمال کی سزا تو بھگتنی ہی پڑے گی ، ہمارے معاف کرنے یا نہ کرنے سے کیا فرق پڑتاہے ‘‘۔
میںذاتی طور پر بہت متاثر ہوا ۔ مجھ پر رقت سی طاری ہوگئی ۔ دوسرے کی داستانِ غم سن کر آدمی اپنا رنج والم بھول جاتاہے ۔ اسی دوران پاس میں بیٹھے ہوئے ایک بزرگ نے اُس عورت کو ٹوکا : ’’بی بی جی آپ نے کچھ زیادہ ہی بول دیاہے مگر اپنے بارے میں کچھ بھی نہ کہا۔ یاد کرو وہ وقت جب آپ بازار میں سودا سلف کے لئے آیا کرتی تھی تو ہم دوکانداروں سے کیا کہاکرتی تھیں‘‘۔
عورت ہکا بکا رہ گئی ۔ یہ حملہ شاید اُس کے لئے غیر متوقع تھا۔ میں اُس شخص کی طرف متوجہ ہوگیا ۔ وہ کہنے لگا : ’’جناب !یہ عورت بہت گھمنڈی ہوگئی تھی ۔ یہ بازار میں دوکانداروں سے کسی کسی شخص کے بارے میں اکثر متکبرانہ لہجے میں کہا کرتی تھی۔ ارے میرے سامنے اس کی کیا حیثیت ہے ۔ میں فلاں کو جوتی کے برابر سمجھتی ہوں ۔ ارے وہ تو ’’شکس لد‘‘ (بدبخت) ہے ۔میرا اور اس کا کیا مقابلہ ۔ میرے پاس کیا کچھ نہیں ہے ۔ میں اپنے برابر کسی کو نہیں مانتی ہوں وغیرہ …‘‘۔
اس عورت پر اب رب کی لاٹھی برس رہی ہے اور اُس لاٹھی سے آواز نہیں آتی ۔عزیزؔ ، غنی،متکبرؔ وغیرہ القاب وصفات اُسی شانِ بے نیازی رب کائنات کے سزاوار ہیں۔انسان ایک حقیرپانی کا قطرہ ہے ۔ اس کی کیا وقعت ہے ؟کیا حیثیت ہے ؟اور کیا بساط ہے ؟ دوسروں کو اپنی داستانِ غم سنانے سے بہتر تو بہ کرنا اور رب سے اپنی طرف سے کی ہوئی نازیبا حرکتوں اور زیادتیوں کی معافی مانگنا ہے اور رب بلاشبہ رحمن بھی ہے اور رحیم بھی ،قائم بھی ہے دائم بھی ۔ مغفرت کرنے کے لئے وہ ہر وقت پکارتا رہتاہے ۔ عنایت وعافیت کے لئے اس کی رحمت ہر وقت جوش میں ہوتی ہے ۔بس دامن پھیلانے کی دیر ہوتی ہے ۔ صرف پکارنے کی حاجت ہے ۔ وہ مومنؔ ومہیمن پکارنے والے کی صداکوٹھکراتا نہیں ہے ،خالی نہیں لوٹاتاہے‘‘۔
میں ہونقوں کی طرح کبھی اُس عورت کودیکھوں کبھی اُس ٹوکنے والے بزرگ کی طرف دیکھوں۔ سمجھ نہیں پارہا تھاکہ کس کو کیا کہوں ۔ عجیب سچویشن ہوگئی تھی کیونکہ ٹوکنے والے مرد نے بات کا رُخ ہی پلٹ دیا تھا ۔ حکیم مومن خان مومنؔ کے لفظوں میں     ع
میں الزام اُن کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا
اتنے میں میری باری آئی اور میں اُن کو وہیں چھوڑکرڈاکٹر کے کمرے کی طرف لپکا۔
رابطہ:-پوسٹ باکس :691جی پی او سرینگر-190001،کشمیر
 موبائل نمبر:-9419475995