قرارداد التوا میں ،مسترد نہیں ہوئی

نئی دہلی// ہندوستان نے شدت پسند تنظیم جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر کو اقوام متحدہ کی پابندی کمیٹی کے دائرے میں لائے جانے کو لے کر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ چین کے اعتراض کی وجہ سے یہ قرارداد التو میں ضرور ہے لیکن مسترد نہیں ہوئی ہے ۔ذرائع نے ہفتہ کو یہاں بتایا کہ ہندوستان کو چین کے رویہ سے مایوسی ہوئی ہے لیکن سلامتی کونسل میں مسعود اظہر پر پابندی عائد کرنے کی تجویز اٹکنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ قرارداد مسترد ہو گیا ہے ۔ ہندوستان قرارداد سے متعلق 1267 کمیٹی کے ارکان کے ساتھ مل کر اب بھی کوشاں ہے ۔ یہ اپنے آپ میں بڑی بات ہے کہ سلامتی کونسل کے نصف درجن رکن مسعود پر پابندی کی تجویز کے معاون اسپانسر بنے ۔ انہوں نے کہا کہ قرارداد کو سلامتی کونسل کے 15 میں سے 14 رکن ممالک کی حمایت حاصل رہی اور ہندوستان کو پوری امید ہے کہ جیش محمد کے سرغنہ پر ضرور پابندی لگائی جائے گی خواہ اس میں کچھ اور وقت لگے ۔ذرائع نے کہا کہ ہندوستان اس معاملے میں صبرو تحمل کا مظاہرہ کرے گا اور انتہائی احتیاط سے کوشش کرے گا کہ مسعود اظہر 1267 کی فہرست میں درج ہو۔ ہندوستان کو بین الاقوامی برادری کی مکمل حمایت حاصل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چین کو پاکستان کے ساتھ کچھ مسائل کو سلجھانا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چین میں بھی دہشت گردی کا بڑا خطرہ ہے اور اسے پتہ ہے کہ پاکستان کے اندر کئی تنظیمیں چین کے خلاف کام کر رہی ہیں۔اس بارے میں دیگر ممالک کے ساتھ چین ہندوستان کی جانب سے بات کئے جانے سے متعلق ایک سوال پر ذرائع نے کہا کہ ہندوستان کو چین سے بات کرنے کے لئے تیسرے ملک کی ضرورت نہیں ہے ۔خارجہ سکریٹری نے نئی دہلی میں چین کے سفیر سے اور بیجنگ میں ہندوستان کے سفیر نے چینی محکمہ خارجہ کے حکام سے اور اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے نے چین کے مستقل نمائندے سے بات کی ہے اور یہ رابطہ مسلسل بنا ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے لئے دہشت گردی ایک ایسا موضوع ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا ۔ ہندوستان نے پلوامہ حملہ کے بعد سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل ارکان سمیت تمام ممالک کو اس بارے میں تفصیلی جانکاریوں سے آگاہ کرایا جس کی سبھی نے ستائش کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت ایک ایسے موضوع پر دفاع کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس کا دفاع کیا ہی نہیں جا سکتا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خارجہ سکریٹری وجئے گوکھلے کے حال میں اختتام پذیر امریکہ دورہ کے دوران بھی ہندوستانی فضائیہ کی کنٹرول لائن پار کی گئی کارروائی کو لے کر گفت و شنید ہوئی اور سبھی نے ہندوستان کے اپنے دفاع کے حق کو تسلیم کیا اور ہندوستان کی جانب سے صبر و تحمل اور اعتدال پسندی کی تعریف کی ہے ۔ذرائع کے مطابق امریکہ میں ہندوستان نے امریکی ہتھیاروں کا اس کے خلاف استعمال کا معاملہ بھی اٹھایا. ایف -16 طیاروں اور ایمرام میزائل کے استعمال کو لے کر بھی تشویش ظاہر کی ہے ۔ امریکہ نے کہا کہ پاکستان کو یہ ہتھیار اس وقت دیئے گئے تھے جب امریکہ پاکستان اور ہندوستان سے تعلق آج کے مقابلہ مختلف تھے ۔لیکن امریکی انتظامیہ نے اس بارے میں مناسب اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں پاکستان کی طرف سے ہندوستان پر لگائے گئے الزامات کو کسی نے بھی نہیں قبول کیا ہے ۔ذرائع نے کہا کہ ہندوستان صبر وتحمل مظاہرہ کرے گا اور اسے یقین ہے کہ اس کے مثبت نتائج آئیں گا۔ اس میں کچھ اور ماہ کا وقت لگ سکتا ہے ۔