مینڈھر//کانگریس کی ریاستی سکریٹری پروین سرور خان نے کٹھوعہ سانحہ کی متاثرہ آصفہ کے قاتلوں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اک طرف پوری قوم ایک معصوم کو انصاف دلانے کیلئے جدوجہد کر رہی ہے اوردوسری طرف کچھ لوگ قاتلوں کی حمایت میں جلوس نکال رہے ہیں اور ہڑتالیں کی جارہی ہیں جو افسوسناک ہے ۔انہوںنے کہاکہ اس طرح کی حمایت ایک جمہوری ملک کے لئے سم قاتل ثابت ہوسکتی ہے ۔مینڈھر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پروین سرور خان نے کہا کہ ایک معصوم بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل کی واردات پیش آتی ہے جس کے قاتلوں کو سزائے موت دے کر انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جائے تاہم اس کے برعکس ہورہاہے اورقاتل کی حمایت میں ریلی نکال کر کچھ عناصر نے انسانیت کو شرمسار کیا ہے۔انہوں نے ریاستی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ریلی میں بی جے پی سے وابستہ دو سینئر وزرا کی شمولیت نے مجرمانہ فعال کو مذہبی رنگت دینے کی کوشش کی جوافسوس ناک ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر سرکار کے نمائندے ایک مجرم کی حمایت میں سامنے آئے ہیں تو عام لوگوں کا کیا ہو گا۔ان کاکہناتھاکہ اگر یہ جنگل راج ہے تو یہ دو وزراء کس حکومت کی نمائندگی کر رہے ہیںاور نہ جانے بھاجپا کو کرائم برانچ کی تحقیقات پر کیوں اعتبار نہیں جو وہ سی بی آئی سے تحقیقات کرواناچاہتی ہے ۔پروین سرور خان نے کہاکہ قاتلوں کے حق میں ہندو ایکتا منچ کی ریلی نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ جموں و کشمیر کیلئے خطرات کا عندیہ بھی ہے ۔انہوںنے کہاکہ قاتل کاتعلق چاہے کسی بھی فرقہ سے ہو ،وہ ایک مجرم ہے اور اس کے خلاف قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے ۔انہوںنے کہاکہ ریاستی سرکار کے وزراء خود حالات خراب کرنا چاہتے ہیں اورایسا ہوا تو ذمہ دار سرکار پر عائد ہوگی ۔