قابل تحسین و قابل تقلید جذبہ

کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ ریاضی کے سابق سربراہ مرحوم پروفیسر غلام محمد قاضی صاحب جب تعلیم و تحقیق کیلئے بیرونی ممالک کا سفر کرتے تھے تو اس دوران وہاں کے حالات و مشاہدات کا مختلف مواقع پر تذکرہ کرتے تھے ۔ اس سلسلے میں جب وہ یورپ میں تھے تو ایک سبق آموز واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک دن جب وہ وہاں کی خوبصورت اور آرام دہ سڑک پر پیدل چلتے تھے تو ایک کشمیری نے سیگریٹ پی کر اس کا بٹہ سڑک پر گرایا ۔ اسی دوران پیچھے سے آرہے وہاں کے ایک باشندے نے اپنی جیب سے رومال نکال کر سڑک کے اس حصے کو صاف کیا جہاں پر کشمیری نے سیگریٹ کا بٹہ پھینکا تھا۔ 
یہ سبق آموز واقعہ دراصل ہمارے اور ان کے درمیان واضح فرق ہے۔ صفائی جسے دین اسلام میں نصف ایمان قرار دیا گیا ہے تاہم ہمارے نزدیک صفائی کا یہی تصور ہے کہ اپنے گھر اور صحن کو صاف کرکے گندگی اور کوڑا کرکٹ کوباہر نالیوں اورسڑکوں پر ڈالا جائے ۔ موجودہ دور میں سڑکوں کے جال کو رگ حیات Life Lineسے تعبیر کیا گیا ہے اور جب سرکاری سطح پر کسی نئی سڑک کی تعمیر یا پُرانی سڑک کی کُشادگی Widening کا منصوبہ بنایا جاتا ہے تو اس کو عملانے کے وقت ہم اس میں رکاوٹ بن جاتے ہیں ۔ ان سڑکوں پر ہم ہی کو چلنا ہوتا ہے تاہم اس کے لیے اراضی آسمان سے نازل ہونی چاہیے ۔ تعمیر و ترقی کا یہ ناقص تصور ہمارے رگوں میں رچا بسا ہوا ہے ۔ ان ہی حالات میں جنوبی کشمیر کے علاقہ کلورہ شوپیان کے باشندوں نے جو قدم اٹھایا وہ قابل رشک ہے ۔ 
آج سے تین چار دہائی قبل کشمیر میں مختلف قسم کی اراضی دستیاب تھی جس میں سرکاری زمین ، کاہچرائی، شاملات وغیرہ قابل ذکر ہے بعد میں ہم سب نے اپنی زرعی اراضی سے متصل اس قسم کی زمین کو زیر کاشت لایا ۔ کاہچرائی جو مویشیوں کے لئے مخصوص تھی پر ہر جگہ آج میوہ باغات کھڑے ہیں ۔ کلورہ شوپیان میں اس قسم کے دو ناڈ ( چھوٹے نالے ) واتل شاہ ناڈ اور کورکھ ناڈ قابل ذکر ہیں جہاں پر دن بھی مویشی گھاس چراتے تھے ۔ واتل شاہ ناڈ سے جب یہاں کے ایک باشندے محمد ایوب بٹ نے سڑک نکالنے کا پلان بنایا تو ابتدا میں ایک طوفان برپاء ہوا۔ لوگوں نے اس پر الزامات اور گالیوں کی بوجھاڑ کردی تاہم انہوں نے اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے28 اگست 2021کو JCBکو کام پر لگایا ۔  ایک کلومیٹر سے زائد مسافت اور 12فٹ چوڑی یہ سڑک گاؤں کے شمال کی طرف غلام نبی بٹ کے مکان سے شروع ہوکر پنجورہ کی اراضی اور سڑک کو چھوتی ہے۔ اب رفتہ رفتہ لوگ اس کی ضرورت اور اہمیت کو محسوس کررہے ہیں ۔ محمد ایوب بٹ جن کا والد بھی ماضی میں سماجی کام کو انجام دینے میں پیش پیش رہتے تھے سے تحریک پاکر لوگوں نے جنوب کی طرف کورکھ ناڈ سے بھی ایسی ہی ایک اور سڑک کی تعمیر کا منصوبہ ہاتھ میں لیا۔دو تین کلو میٹر پر مشتمل یہ سڑک مختلف جگہوں سے گزرکر مغرب کی سمت کھاڈل کی طرف پہنچی تو یہاں پر دو تین مالکان باغات نے اس میں رکاوٹ ڈالی۔  بقول ندا فاضلی :
یہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا
ے گراکے اگر تم سنبھل سکو تو چلو
 جب اس مقام پر سڑک رکی تومخالف سمت میں اقتصادی اور معاشی طور کمزور دوبھائیوں شبیر احمد لون اور بشیر احمد لون ولد مرحوم محمد رمضان لون نے دریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی اراضی سڑک کے لیے وقف کردی ،یوں اپنے اور اپنے مرحوم والدین کے لیے صدقہ جاریہ اور توشہ آخرت بھیج دیا۔ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ نے فرمایا ’’ ایک شخص صرف اس بنیاد پر جنت میں چلاگیا کہ اس نے راستے میں موجود اپنے درخت کو کاٹ کر ہٹادیا تھا ،جس سے لوگوں کو دشواری ہوتی تھی‘‘  ۔(مسلم ) ایک اور موقعہ پر آپ ﷺ  نے فرمایا کہ انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ ہے اور راستے سے تکلیف دہ چیز وں کو ہٹانا بھی صدقہ ہے‘‘ ( بخاری و مسلم ) ۔راستے اور اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اﷲتعالیٰ نے جب زمین بنائی اپنی قدرت کا ملہ سے اس میں کُشادہ راستے بھی بنائے۔ سورہ انبیاء میں اﷲ کا ارشاد ہے  ’’ اﷲ تعالیٰ نے اس زمین میں کُشادہ راستے بنائے تاکہ لوگ اپنے سفروں میں راستہ پالیں اور جن مقامات کا ارادہ کریں وہاں تک پہنچ سکیں ۔ (الانبیاء : ۳۱) 
راستے کی اس اہمیت وافادیت کو یہاں کے باشندے اب محسوس کرتے ہیں اور ان نئی سڑکوں کی تعمیر کے فوائدسے اب واقف ہوچکے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق بستی کا 40% میوہ اب آسانی سے گاڑیوں میں لایا جاسکتا ہے جن جگہوں سے گزرنا انسان کیلئے محال تھا ۔ ان ہی سڑکوں کی بدولت اب اراضی کی قیمت میں بھی اضافہ ہوجائے گا اور آبادی میں اضافہ ہونے سے رہاشی پلاٹوں کا مسلہ بھی سڑکوں سے آسانی کے ساتھ حل ہوچکا ہے ۔
 سڑکوں کے لیے جب اراضی دستیاب ہو تو حکومت وقت بھی ان کو پکا اورپختہ بنانے پر مجبور ہوجاتی ہے ۔ محکمہ دیہی ترقی کے ذریعے اب ان سڑکوں پر کام کا آغاز ہوچکا ہے ۔سال رواں 2021-22میں ہی بلاک امام صاحب کے ذریعے ایم جی نریگاMGNREGAکے تحت اس وقت سڑک پر کام شد مد سے جاری ہے ۔ اب متعلقہ محکمہ کے ذمہ داروں ، اہلکاروں اور ٹھیکدار پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس سڑک کو پائے تکمیل تک پہنچانے میں دیانتداری کا ثبوت دیں کیونکہ یہ منصوبہ کوئی انفرادی یا ذاتی کام نہیں ہے بلکہ بستی کا اجتماعی مسلہ اور مستقبل کی تعمیر ہے ۔ بلاشبہ خدمت خلق کے حوالے سے ان سڑکوں کو نکالنے کا ارادہ اورپائے تکمیل تک پہنچانا سبھوں کے لیے ایک قابل تقلید اور قابل تحریک جذبہ ہے ۔اﷲ تعالی ہمیں نیکی کے کاموں میں سبقت لینے اور تعاون کرنے کی توفیق عطافرمائیں ! آمین ۔
�������