رفتہ رفتہ سب تصویریں دھندلی ہونے لگتی ہیں
کتنے چہرے ایک پرانے البم میں مر جاتے ہیں
خوشبیر سنگھ شاد
انسانی تاریخ نے اپنے ماضی کو محفوظ کرنے ،حال کو دلچسپ بنانے کے لئے اور مستقبل میں ان گزرے اوقات کی تلخ وشیریں نیز حسین یادوں کے جروکوں میں باہیں وا کرنے کی خاطر مختلف تراکیب متعین کی ہیں جن میں تحریری ،تقریری، تصویری ،ویڈیوگرافی سے تیار کردہ مختلف مواد شامل ہیں۔مصور کے کیمرے سے لی گئی تصویروں کو سنبھال کر البم کی صورت میں محفوظ رکھنا ہمارے اسلاف کا ورثہ خاص مانا جاتا تھا اور ماننے کے قابل بھی تھا جس میں نئی نسل کے لئے وراثت کے بطور اسلاف کے ہنر، انکی کامیابی،ناکامی اور اجتماعی طور پر انکی زندگی کی تفصیلی صورت حال کو گویا تفسیر کی حالت پر بزبان حال تصویروں میں مقید کیا جاتا۔ اس طرح سے ہر خوشی ،غم،ہر قسم کی کیفیت ،تجربوں کی خوش کن تاریخ ،احساسات ،مشاہدات کی غیر سالمیت کو سنبھال کر فیملی فوٹو کی صورت میں نفیس البموں میں سجایا جاتا تھا۔ ان عمارات کے کھنڈرات کو بغور دیکھنے کے بعد انسانی وسائل یا حیاتیاتی رسائی کی روایتی تاریخ کا پتہ ملتا تھا نیز بیتے ہوئے کل کے وہ لمحات یاد کیے جاتے تھے جن سے مستقبل کی نسلیں فیض یاب ہوجاتیں تھیں اور اپنے اسلاف کی ان یادوں کو سینے سے لگانا ان کے لیے رگ جان بھی بن جاتا تھا اس طرح اسلاف کا ماضی یادگار بن جاتا تھا۔
دل کے شیلف میں شاید کتنی
یادوں کے البم ہوتے ہیں
اک البم حسن جزیروں کا
اک سرمایہ تصویروں کا
مرزا نیازی
فیملی فوٹو کے لغوی معنی خاندان کے بنیادی افراد کی تصویر کھینچنا سے مراد لی جاسکتی ہے اور ادبی یا اصطلاحی معنوں میں اس سے مراد وہ تصویر لی جاسکتی ہے جس سے دیکھ کر فرد کو خود اور فیملی فوٹو میں موجود زندوں اور مردوں کی زندگی سے متعلق واقعات یاد آجائیں اور اس صورت میں ان سے متعلق جذبات ،احساسات اور بیتے لمحوں کا اعداد و شمار ہاتھوں کی انگلیوں پر یکایک آجائے اور آنسو بہناشروع ہوجائیں جبکہ سیلفی فوٹو سے مراد خود سے لی گئی خود کی تصویر ہے۔ یہی اسکے لفظی معنی ہیں جس کو اصطلاحی معنوں کے اعتبار سے یوں بیان کریں کہ یہ ڈیجیٹل میڈیا کی ایسی دین ہے کہ بننے سے قبل ہی ڈلیٹ بٹن کی محتاج رہتی ہے اور اگر زیادہ اچھی کیمرے میں قید ہوئی تو سوشل میڈیا سایٹس یا سماجی رابطہ گاہوں پر شیئر ہوکر لائک اور کمنٹ تک محدود رہتی ہے۔دونوں اقسام کی تصویروں میں اپنی اپنی الگ تاریخ اور امتیازیت موجود ہوتی ہے۔ ایک وہ جس میں مل جل کر رہنے کا فن پنہاں ہے ،جہاں دادا ،دادی،نانا نانی اور اسی طرح کے خونی و خاندانی رشتوں کی حساسیت اور محبت و شفقت کی گرماہٹ نظر آتی ہے جو انسان کے سماجی جانور ہونے کی ضمانت ہے۔دوسری قسم کی فوٹو وہ ہے جس میں صرف ایک اکیلے تنہا پریشان انسان کی تصویر قید ہے جو بظاہر خوش لیکن اندر سے ٹوٹا ہوا ہے جس کو کہیں سے رشتوں کی ،جذبات کی، شفقت کی کوئی ولولہ خیزی نہیں ملتی ،جو صرف ایک جانور بن گیا ہے اور سماج سے کٹا ہوا ہے، جس کی زندگی اور جسکی نفسیات یا حالات کی تفسیر سے ماں باپ ،بھائی بہن بے خبر ہے اور جس کی خبر پوشیدہ ہے اسکے ڈیجیٹل آلات کے مقرر کردہ پاس ورڈوں میں۔ابتدائی ایام میں خاندانی روایات کو لیکر زندگی بسر کرنا انسان کی فلاح و بہبودی کا عندیہ تھا اور موجودہ دور میں اس تصور کی نفی ملتی ہے جس کی بدولت فیملی سے سیلفی تک کا دور قایم ہوا۔
اب کے دور میں ایک انسان ہمدمی،ہمکلامی،احساسی اور الفت کی سطح پر اپنی فیملی سے ایک درخت کے پتے کی طرح وقت سے پہلے کٹ چکا ہے جسکی کل کائنات ایک سمارٹ فون کے سوا کچھ بھی نہیں ہے جس سمارٹ فون نے اس سے اس کے سارے قریبی اور حقیقی رشتے چھین لیے ہیں اور اس طرح سے ایک گھر کا فرد فیملی فوٹو سے کٹ کر سیلفی میں جڑ جاتا ہے ۔یوں ہی پوری فیملی فوٹو خالی ہو کر رہ جاتی ہے اور البم اکیلے الماری کے کسی کونے میں ہاتھ ملتا ہوا خون کے آنسو رو دینے پر مجبور ہوجاتا ہے کیوںکہ اس کا قتل عام سر بازار ہوجاتا ہے اور اس کی قیمت سیلفی فوٹو کو تنہائی کے عالم میں جو اس کو وجود میں ملی ہے کی صورت میں چکانی پڑتی ہے۔شجرہ نصب کا ریکارڑ فیملی فوٹو میں شناختی کارڈ کی طرح درج ہوجاتا ہے جو ایک تاریخی سرٹیفکیٹ کی حیثیت رکھتا ہے جس کی بنیاد پر نئی جنریشن اپنے اسلاف کو جان پاتی ہے یا پہچان پاتی ہے۔بعض اوقات باوجود کوششوں کے فیملی فوٹو میں سے ایک تصویر دیکھنے والوں کی پہچان میں نہیں آتی ہے جس کو پہچان کی گمشدگی سے تعبیر کیا جاتا ہے جو دیکھنے والوں کے ذہنوں کو بار بار جھنجوڑ کے رکھ دیتا ہے کہ فلاں شخص کا میرے خاندان سے کیا تعلق ہے اور یوں یہ ہمارے خاندانی فیملی فوٹو میں موجود کیوں ہے ؟حالانکہ یہ نیم پلیٹ کی گمشدگی کہلائی جاسکتی ہے جس کا تعلق براہ راست جدید معاشرے کے وجودی بحران سے متعلق ہے۔
سیلفی فوٹو میں اس بات کا خاموش اظہار ملتا ہے کہ سیلفی لینے والا آدمی اکیلے سفر پر رواں دوان ہے جس میں ترتیب غایب اور بے ترتیبی نمایاں ہوتی ہے۔ سیلفی فوٹو میں شخص کے حلیہ کا ٹیڑھا آنا کبھی کبھی اسکی تکنیکی مجبوری پر منحصر نظر آتا ہے اور کبھی کبھی اس کی ضرورت سیلفی لینے والے کے اسلوب یا اسٹائل کی وجہ سے پیش آتی ہے جسکی ایک اچھی یا بری خاصیت یہ بھی ہے کہ یہ کسی بھی جگہ ،کسی بھی موقع اور کسی بھی حالت میں لی جاسکتی ہے ۔بقول شاعر ؎
کہیں آئوں یا پھر جائوں ،سیلفی لیتا ہوں
میں جو بھی گل کھلائوں ،سیلفی لیتا ہوں
صفائی میں دانتوں کی ،چاہے ہفتے گزاردوں
پیسٹ برش پہ جب لگائوں ،سیلفی لیتا ہوں
سلام لوں یا نہ لوں ،عزیز و اقارب سے
مگر فنکشن میں جب بھی جائوں ،سیلفی لیتا ہوں
طارق اقبال
سیلفی تصویر اور فیملی تصویر دو نظریاتی ،فکری اور زمینی حقایق کی شناخت پر مبنی ہیں جو معاشرتی روایات کے مطابق جنم لیتی ہیں ۔سیلفی تصویر انسان کی انفرادی ازادی کا حامل ہے جسکی جڑیں جنگ عظیم اول اور دوم کی تباہ کن نتایج کے بعد ایک رجحان کی بنیاد پر قایم ہوئیں اور مابعد چھپائی کے دور میں اب ڈیجیٹل ورلڈ وائڈ منظر نامے میں انتہائی بااثر طریقوں سے اپنی ہر بات منواتی بھی اور چھپواتی بھی کیونکہ چھپنا اس کے لے مشکل نہیں ہے بلکہ یوں کہیں کہ انسانی میموری کے تمام کلیدی اعضاء پر اسکی مہر ثبت ہوچکی ہے جس نے یاداشت کی پوری فایل کو کرپٹ کردیا ہے جو ایک وایرس کی طرح انسانی دماغ میں پھیل چکا ہے او ر ایک مہلک سماجی بیماری کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ گویا لفظ سیلفی نئی نسل کی ڈکشنری کا حاص لفظ بن چکا ہے جس نے کئی جانیں بھی تلف کرلیں ،جس نے شوق کے نئے پیمانہ حیات کو جنم دیا ہے، ساتھ ہی صدیوں کے مقرر کردہ ان اصولوں کا جنازہ نکالا جنھیں آدم کی ذات نے خون سے سینچا تھا۔ اب میت کی ذات کا تذلیلی منظر سیلفی سے عیان ہوتا ہے ،کسی محتاج کی محتاجی کا مذاق اڑانا ہو تو جناب سیلفی لیجئے اس غریب کے ساتھ،حادثے میں فوت ہونے والے کتنے اشخاص کو بچایا جاسکتا اگر سیلفی فوٹو کے شوق نے روک کر آدمی کو شفاخانے پہنچانے کا عمل کروایا ہوتا ،کسی شخص کی شادی ہو یا بربادی، اسکے لائیو منظر کا سیلفی فوٹو یا ویڈیو کی صورت میں شیئرہونا لازمی ہے جبکہ فیملی تصویر میں ان تمام چیزوں کی نفی ملتی ہے جہاں انفرادیت کے بدلے اجتماعیت کو اپنایا جاتا ہے ،جہاں اکیلی ذات کا غم نہیں چلتا بلکہ خنجر چلے کسی پے تو تڑپتے ہیں ہم امیر والا معاملہ نظر آتا ہے۔ اس تصویر میں فیملی کی خوشحالی پنہاں رہتی تھیں جس میں محبت اور شفقت کی گرماہٹ ملتی تھی جہاں نظارے خوشبو بھرے اور جذبات کی عکاسی شستہ پن کی ترجمان ہوتی تھی ۔گویا کہ وہاں جذبات کی ایک بہترین نیز عمدہ یا با اثر کلیات تشریح طلب جمع ہوتی تھی جس سے فیملی البم کہا جاتا تھا۔
مدتوں بعد اٹھائے تھے پرانے کاغذ
ساتھ تیرے میری تصویر نکل آئی
صابر دت
اور یہاں عہد سیلفی میں جذبات کا بکھرائو گویا نالہ برد ہوجیسے اور جن کو بیان کرنے والے ،سننے والے بغیر کسی تراحم کے لکھنے کے بعد ایک معمولی ڈلیٹ کلک سے ہمیشہ کے لیے ختم کردیتے ہیں اور اسطرح سے سیلفی کے دلدادے وجودی سطح پر واش ہوجاتے ہیں عین ایک سیلابی صورت حال کی مانند اور بعد میں جو دریا کنارے بچ جاتا ہے اس سے عام لفظوں میں تلچھٹ کہہ کر رد کردیا جاتا ہے جس کوشاعر نے یوں بیان کیا ؎
وہ عیادت کو آیا تھا مگر جاتے ہوئے
اپنی تصویر یں بھی کمرے سے اٹھا کر لے گیا
عرش صدیقی
(کالم نویس گورنمنٹ ڈگری کالج حاجن میں اسسٹنٹ پروفیسر ہے)
رابطہ۔ [email protected] /8825001337
������