دوحہ //قطر کے البیت اسٹیڈیم میں اتوار کی شب رنگا رنگ افتتاحی تقریب کے ساتھ فٹبال عالمی کپ 2022ء کے میلے کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔ افتتاحی تقریب میں قرآنی آیات کی تلاوت سمیت ایسے کئی مواقع آئے جہاں اسلامی اقدار کی عکاسی کی گئی۔ 220 ارب ڈالرز کے عالمی کپ کی شاندار افتتاحی تقریب میں قطر توقعات پر پورا اترا۔اسٹیڈیم میں پہلی نظر پڑتے ہی ابتدائی تاثر ملا کہ جیسے میدان میں تماشائیوں کی تعداد بہت کم ہے مگر غور کرنے پر اندازہ ہوا کہ اسٹیڈیم کا 70 فیصد حصہ سفید جبوں میں ملبوس قطری عوام سے بھرا ہوا تھا۔ جبکہ مختلف ممالک کی ٹیموں کے کپڑوں میں ملبوس افراد کی بڑی تعداد بھی پْرجوش نظر رہی تھی۔ افتتاحی دن اسٹیڈیم میں تقریباً 60 ہزار تماشائی موجود تھے۔ اسٹیڈیم میں موجود ایک گھڑی افتتاحی تقریب شروع ہونے کی الٹی گنتی دکھا رہی تھی۔
کہ اتنے میں اسٹیڈیم میں موجود عرب ممالک کے سربراہان اور شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی اعلیٰ شخصیات پر نظر پڑی۔ ان رہنماو?ں میں وڑن 2030ء میں قطر کے سب سے بڑے اتحادی سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیرِاعظم محمد بن سلمان بھی موجود تھے جو فیفا عہدایدران اور قطری شاہی خاندان کے ساتھ ساتھ نظر آئے۔یہ پہلا موقع تھا جب عالمی دنیا فیفا اور عرب ممالک کے اتحاد کی شاہد بنی۔ جبکہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان بھی شرکت کرنے والے نمایاں عالمی سربراہان میں شامل تھے۔ قطری امیرِ مملکت نے اپنے والد کا ہاتھ چوما جس کے بعد تقریب کا ا?غاز کیا گیا۔اس موقع پر قطری گلوکارہ ’دانا‘ قطری ثقافتی لباس زیب تن کیے ترانہ گنگناتی رہیں۔تقریب کے اختتام پر جنوبی کوریا کے بوئے بینڈ بی ٹی ایس کے رکن جنگ کوک کے گانے ’ڈریمرز‘ نے تماشائیوں کو اپنی نشستوں سے کھڑے ہونے پر مجبور کردیا۔ اس گانے میں قطری گلوکار فہد الخبیثی نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ جنگ کوک گانے کے ساتھ ساتھ رقص بھی کرتے نظر ا?ئے جس نے انہیں کل کی افتتاحی تقریب کی شہ سرخی بنایا۔ جبکہ شاندار ا?تشبازی سے تقریب کا اختتام کیا گیا۔اگر اس افتتاحی تقریب سے متعلق کہا جائے یہ عالمی کپ کی منفرد اور بہترین تقریب تھی تو غلط نہیں ہوگا۔ قطری اور اسلامی اقدار کی نمائندگی نے ثابت کردیا کہ عالمی کپ کو مغرب سے منسوب کردینے کی ریت کا خاتمہ کرنا ہوگا کیونکہ فٹبال کھیل میں نسلی اختلافات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ قطر نے اس پورے عمل سے مسلمان ممالک کو یہ بھی بتا دیا کہ دنیا کی دوڑ میں پیچھے رہنے کے لیے مذہبی فرق کو جواز بنانا اب مسلمانوں کو چھوڑ دینا چاہیے۔