یو این آئی
نئی دہلی/8جولائی 1982، اسپین کے شہر اشبیلیہ کا ’ایسٹاڈیو ریمون سانچیز پیزجوان‘ اسٹیڈیم۔ یہ محض فٹ بال کا ورلڈ کپ سیمی فائنل نہیں تھا، بلکہ دو متضاد فلسفوں کی جنگ تھی۔ ایک طرف فرانس کی شاعرانہ لطافت اور مائیکل پلاٹینی کی فنکاری تھی، تو دوسری طرف مغربی جرمنی کی مشینی جارحیت اور فولادی سختی۔میچ کے دوسرے ہاف میں مائیکل پلاٹینی نے ایک جادوئی پاس پھینکا۔ فرانس کے نوجوان مڈفیلڈر پیٹرک باٹسٹن بجلی کی رفتار سے گیند کے پیچھے لپکے۔ ان کے سامنے صرف گول پوسٹ تھا اور جرمن گول کیپر ٹونی شوماکر۔شوماکر اپنی لائن سے باہر نکلے، لیکن ان کا ارادہ گیند بچانا نہیں بلکہ شکاری کی طرح حملہ کرنا تھا۔ جب باٹسٹن کی باڈی ہوا میں تھی، شوماکر نے ایک انسانی میزائل کی طرح اپنا پورا وزن فرانسیسی کھلاڑی کے چہرے پر دے مارا۔اسٹیڈیم میں ایک ہولناک آواز گونجی—جیسے بھاری ہتھوڑے سے شیشہ ٹوٹا ہو۔ باٹسٹن پرندے کی طرح زمین پر گرے اور بے سدھ ہو گئے۔ میدان میں قبرستان جیسی خاموشی چھا گئی۔
پلاٹینی جب اپنے ساتھی کے پاس پہنچے تو ان کا چہرہ زرد تھا، نبض مدھم تھی اور منہ سے جھاگ نکل رہا تھا۔ پلاٹینی کو لگا کہ باٹسٹن اب اس دنیا میں نہیں رہے۔طبی معائنہ میں پتہ چلا کہ باٹسٹن کے تین دانت ٹوٹ گئے تھے۔ان کا جبڑا بری طرح متاثر ہوا تھا۔ریڑھ کی ہڈی کے مہرے شدید زخمی تھے اور وہ گہرے کوما میں چلے گئے تھے۔اس ہولناک منظر کے باوجود، ڈچ ریفری چارلس کورور نے نہ تو شوماکر کو ریڈ کارڈ دکھایا اور نہ ہی فاول قرار دیا۔ انہوں نے خاموشی سے ’گول کک‘ کا اشارہ کر دیا۔لیکن اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ منظر شوماکر کا رویہ تھا۔ جہاں ایک زندگی موت کی جنگ لڑ رہی تھی، وہاں شوماکر بڑی بے نیازی سے گول پوسٹ کے ساتھ ٹیک لگائے چیونگم چبا رہے تھے۔ ان کے چہرے پر پشیمانی کا ایک سایہ تک نہ تھا۔ فرانسیسی پریس نے اسی وجہ سے انہیں “اشبیلیہ کا قصاب” قرار دیا۔میچ کے بعد جب صحافیوں نے شوماکر کو باٹسٹن کی حالت کے بارے میں بتایا، تو ان کا جواب مزید سرد تھا۔”اگر اس کے صرف دانت ہی ٹوٹے ہیں، تو میں اس کے علاج یا نئے دانتوں کا خرچہ اٹھا لوں گا۔اگرچہ جرمنی نے وہ میچ پنالٹی شوٹ آؤٹ پر جیت لیا، لیکن شوماکر انسانیت کی عدالت میں ہار گئے۔ برسوں بعد انہوں نے معافی مانگی، لیکن کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جو معافی کے دائرے سے باہر ہوتے ہیں—کیونکہ وہ صرف جسم کو نہیں، بلکہ انسانیت کے بھروسے کو بھی زخمی کرتے ہیں۔