فوڈ سیفٹی کے خدشات اور امکانات! مقامیت کے تناطر میں

۔07جون پیر کوورلڈ فوڈ سیفٹی ڈے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کم سرگرمی سے اس اہم پہلو کی طرف ہماری اجتماعی بے حسی کو کااظہار ہوجاتا ہے۔کہاوت ہے کہ "ہم وہی ہیں جو ہم کھاتے ہیں"۔مذہبی نقطہ نظر سے اس سلسلے میں کھانے کے معیار کے ساتھ ساتھ مقدار کے بارے میں کافی رہنما اصول موجود ہیں۔ نہ صرف یہ کہ بہت سارے کھانوں کاذکر حضرت محمدؐ کی پسندیدہ اور ترجیحی خوراک ہمارے لئے سنت ہیں بلکہ ان کے فوائد پرتحقیق کے مطابق یہ کمال کی صحت بخش غذائیں ہیں۔ 
زمینی صورتحال کی یہ ہے کہ ڈبہ بند اور فاسٹ فوڈ کھانے نے تو فوڈ ڈومین کو 'گھیر لیا' ہے اور فوڈ سیفٹی کو صرف کتابوں اور خبروں اور تبصروں تک محدود کردیاہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ گوگل پر کشمیر کے اعلی ترین روایتی کھانوں کی کھوج لگانے پر'روگن جوش'سیریل نمبرایک پرفہرست میں آگیا۔کشمیری وزوان کی اس ضیافت کی روایت اور اہمیت سے قطع نظر، میں یہ تذکرہ کرنا چاہتا ہوں کہ شاید "ہم لوگوں" کے پاس محفوظ غذا کی اہمیت کو دیکھنے پرکھنے کی دلچسپی نہیں ہے۔ کھانے کی حفاظت کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے یامحفوظ غذا کے بارے میں جاننے کی دلچسپی کی کمی مترادف بے حسی ہے، جسکے باعث انفرادی سطح کے ساتھ اجتماعی طور پر بھی فوڈ سیفٹی کا ہدف حاصل کرنااور اس کے لئے منصوبے مرتب کرنا دْور کی بات ہے۔
غیر محفوظ اور جنک فوڈ کے خطرات سے متعلق ماہرین اور سکالروں کے ذریعہ ہمیں بار بار بتایا جتایاجاتا ہے۔ اور زندگی پر اسکے طویل اثرات اور پیچیدہ بیماریوں کے بارے میں تو ڈاکٹرحضرات ایسے لوگوں سے طرز زندگی کو تبدیل کرنے کی تاکید کرتے رہتے ہیں جس میں سے کھانے کی عادت بدلنے کی بات تر جیحی نمبر پر ہوتی ہے۔
 اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا محض وعظ پڑھنے اور الفاظی تاکید سے تبدیلی آگئی ہے یا آسکتی ہے؟ یہ ایک قابل قدر سوال ہے اور اس کا جواب نفی میں ہے! کیونکہ زبانی تاکید اور وعظ خوانی کا اپنا اپنا وقت ہوتا ہے پھر عملی طور پر نظام کاری ناگذیر ہوتی ہے۔ جس کے لئے ماہرین ِ غذا (ڈائیٹشین) سے لے کر ایک حکمران تمام متعلقین کو بڑھتی ہوئی تشویش پر غور کرنا ہوگا۔
 ممکنہ پہلو؛
ایک علیحدہ فوڈ اتھارٹی کا قیام۔ علیحدہ فوڈ اتھارٹی کا قیام فوڈ سیفٹی کے مقصد تک پہنچنے کے شعبے سے متعلق کام کی درجہ بندی کیلئے ڈیزائن تیار کرنے میں کلیدی کردار کا حامل ہے۔یہ اتھارٹی سائنسدانوں ، غذائی ماہرین ، ہوٹیلیئرز اور دیگرمتعلقین کو مصروف کرکے ایک مکمل محکمہ ہوسکتا ہے۔ غذا کے شعبے میں یہ کاروباری پیشہ ورانہ تربیت اور مہارت سے متعلق کورسز شروع کرسکتا ہے جو بعد میں پیشہ ورکاروباری افراد کی حیثیت سے کام کرسکتے ہیں اور گھریلو سطح پر کھانے پینے کے انتخاب اور کھانا پکانے کے طریقے اپنائے جاسکتے ہیں۔ چونکہ بالغ عمر میں کھانے میں طرز زندگی کو تبدیل کرنا مشکل ہے جب تک کہ پیشہ ور باورچیوں کے ذریعہ اس کا م کو انجام دیا جاسکتا۔ جسکے لئے ہمیں اپنے ذہنوں کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر تیار کرنا ہوگا۔مرغن غذائوں کو یوں ہی ترک کرنا آسان بات نہیں ہے ایسا نہ تو ڈاکٹروں کی زبانی تاکید سے پائیدار ہوگا اور نہ ہی کوئی ذاتی ارادہ کرنے سے، جب تک گھر کا باورچی نظام بدل جائے اور متبادل کے طور پر حکومتی اور سماجی سطح پر متبادل دلکش مگر صحت مفید غذائیں میسر نہ ہوں، بازاروں میں اور سب سے بڑھ کر ایسے ریستوران اور ہوٹل منظر پر آجائیں۔ 
محفوظ غذا کے ریستوران لگانے کے لئے حکومتی امداد
 ایسے نوجوانوں ، جو فوڈ سیفٹی ڈومین میں تربیت یافتہ ہوں اور اپنے روزگار کا آغاز اسی پیشے سے کرنا چاہتے ہوں، کے لئے حکومت کو بینکوں اور ڈی آئی سیز کو سبسڈی پر مالی امداد کی سکیمیں رائج کرنی چاہئیں۔
علماء کرام اور مبلغین کا کردار
 سکالروں اور مبلغین کو لوگوں کو ناقص کھانے کے خطرات کے بارے میں باقاعدگی سے لوگوں کو مذہبی کتابوں کی مثالوں اور حوالوں سے حوصلہ افزائی کے لیکچرس کے ذریعے روشناس کرنا چاہئے۔ اسکا ایک خاص اثر ہوگا۔
ایک بار جب انسان کھانے کی اہمیت کے بارے میں سیکھے اور متحرک ہوجائیگا، اس کے لئے کھانے پر مبنی طرز زندگی کو تبدیل کرنا آسان ہوجائے گا۔
ایک بار جب طرز زندگی میں بدلاؤ والے لوگوں کی آبادی بڑھے گی ، محفوظ فوڈ ریستوراں اور دکانداروں کی مانگ ابھرے گی اور ایک بار جب کاروباری افراد کے لئے سبسڈی کی فراہمی بھی دستیاب ہوجائے گی، تو فاسٹ فوڈ ریستورانوں کے متوازی "سیف فوڈ" ریستوران بھی دیکھیں گے۔تب مریضوں کو سفر کے دوران " محفوظ کھانا" ملنے کی شکایت نہیں رہے گی۔
آخری مگر اہم بات یہ کہ ماہرین غذا کا فرض ہے کہ وہ مفید اور مضِر غذائیت کے لئے وزوان کا تجزیہ کریں کیوں کہ اوسطاًہم سب وقتاً فوقتاً وازوان کھانے کے عادی ہیں اور ہم میں سے کئی متواترطور جو بازاروں میں باقاعدگی سے کھاتے ہیں۔
ایک بار جب وازوان کافوائد اور خطرات کے لئے تجزیہ کیا جائے، تو اسکی ضیافتوں کو بھی حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق قانون کے تحت لایا جاسکتا ہے کیونکہ ذائقے کی چاہت کو دوسرے خیال میں محو کیا جاسکتا ہے مگر ضیافت کے سبب عارضے کے علاج کو نہیں!!!
ای میل۔[email protected]
فون نمبر۔7006551196