فور لین شاہراہ دسمبر 2022میں مکمل ہوگی

سرینگر// روڈ ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے مرکزی وزیر نتن گڈکری نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت جموں و کشمیر کو غریبی اور بھوکمری سے آزاد کرنا چاہتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کو اچھا روڈ انفراسٹرکچر مل جائے گا تو یہاں کی غریبی از خود دور ہو جائے گی کیوں کہ صنعتیں قائم ہوں گی اور سیاحت کو بڑھاوا ملے گا۔وزیر موصوف نے کہا کہ جموں سرینگر قومی شاہراہ وادی کشمیر کے لئے لائف لائن کی حیثیت رکھتی ہے اور مجھے اس کی تعمیر میں تاخیر پر دکھ ہے ۔انہوں نے کہا’’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ دو سال کے اندر جموں سے سرینگر کا سفر تین گھنٹے میں ہو گا۔ اس 230 کلو میٹر طویل پروجیکٹ پر کام جاری ہے ۔ ادھم پور سے بانہال تک کے 60 کلو میٹر پر کام دسمبر 2022 تک مکمل کر لیا جائے گا'۔جبکہ رام سو اور بانہال کے بیچ 20کلو میٹر میںسرنگ اور پلوں کاکام اگلے دو اڈھائی سال میں مکمل ہو جائے گا ۔ انہوں نے بتایا یہ شاہراہ8ہزار کروڑ کی لاگت سے تعمیر ہوگی۔نتن گڈ کری نے کہا کہ شاہراہ پرکل20سرنگیں تعمیر کرنی ہیں جس میں پہلے ہی چار سرنگوں کوچار ہزار پانچ سو کروڑ روپے کی لاگت سے پورا جا چکا ہے جسمیں 9کلو میٹر چننی ناشتری اور بانہال قاضی گنڈ9کلو میٹرٹنل شامل ہے ۔تن گڈکری نے کہا کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ رنگ روڈ سرینگر کیلئے زمین کی حصولی کا کام صد فیصد مکمل ہو چکا ہے ۔انہوں نے کہا’’اس زمین کے عوض اب ہم 400 کی بجائے 1200 کروڑ روپے دے رے ہیں، ہمیں اس بات کا کوئی دکھ نہیں ہے کہ ہمیں اضافی پیسے دینے پڑے ہیں‘‘۔نتن گڈکری نے کہا کہ اس رنگ روڑ کا یہاں کی سیاحت میں ایک بڑا کنٹریبوشن ہو گا۔انہوں نے کہا’’یہ چار گلیاروں والا 42 کلو میٹر طویل رنگ روڈ 3 ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہو گا۔ اس پر کام اگست 2021 میں شروع ہوا ہے اور ہم نے اس کام کو دسمبر 2023 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے ‘‘۔مرکزی ٹرانسپورٹ وزیر نے کہا کہ جموں و کشمیر میں سڑک پروجیکٹ شروع کرنے کا مقصد یہ بھی ہے کہ یہاں کے نوجوانوں کو کام ملے ۔انہوں نے کہا’’سیاحت ایسا شعبہ ہے جس میں کیپٹل انویسٹمنٹ کی شرح 48 فیصد ہے ، اس شعبے کو فروغ دینے سے غریبی دور ہو گی،لوگوں کو روزگار ملے گا‘‘۔ان کا مزید کہنا تھا’’میرے پاس ملنے کے لئے کوئی ٹھیکے دار نہیں آتا ہے ، میں ملوں گا بھی نہیں، معیار کے ساتھ سمجھوتہ نہیں، گلمرگ روڈ بنانے والے ٹھیکے دار نے بہت اچھی سڑک بنائی ہے،اگر کوئی ٹھیکے دار اچھے سے کام نہیں کرے گا تو میں اس کی دھلائی کرنے کے لئے آگے پیچھے نہیں دیکھوں گا‘‘۔
 

 کشمیر کی بسیں بالکل بھی اچھی نہیں 

کوئی پیسہ لئے بغیر نیا ٹرانسپورٹ نظام لائونگا:نتن گڈکری

یو این آئی
 
سرینگر// روڈ ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے مرکزی وزیر نتن گڈکری نے کہا کہ انہیں کشمیر میں چلنے والی بسیں بالکل بھی اچھی نہیں لگی ہیں۔انہوں نے کہا کہ’’کشمیر کے لئے کچھ کرنے ‘‘کی چاہت کے تحت میں جموں و کشمیر کی انتظامیہ سے کوئی پیسہ لئے بغیر یہاں کا پبلک ٹرانسپورٹ نظام تبدیل کرنا چاہتا ہوں۔نتن گڈکری نے یہ باتیں پیر کو یہاں شہرہ آفاق جھیل ڈل کے کنارے پر واقع شیر کشمیر انٹرنیشن کنونشن کمپلیکس میں 3612کروڑ روپے کی لاگت سے بننے والے چار قومی شاہراہ پروجیکٹوں کی شروعات یا تکمیل کے سلسلے میں منعقدہ ایک تقریب سے اپنے خطاب کے دوران کہیں۔انہوں نے کہا’’میں نے اتوار کو گلمرگ کا دورہ کیا،میری نظر یہاں کی بسوں پر پڑی۔ وہ مجھے اچھی نہیں لگیں، ہمارے ہاں مذاق میں کہا جاتا ہے کہ ہارن چھوڑ کر سب بجتا ہے ۔ ہم نے پبلک ٹرانسپورٹ کو نظرانداز کیا ہے ‘‘۔وزیر موصوف نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے مخاطب ہو کر کہا’’آپ جموں و کشمیر میں ایئر کنڈیشنڈ اور الیکٹرک پر چلنے والی بسیں شروع کریں، یہ میں بحیثیت ٹرانسپورٹ وزیر آپ سے کہہ رہا ہوں، یہ سستا ہے ،ٹکٹ کی قیمت آدھی ہو گی،ہم نے الیکٹرک، ایتھنول، میتھانول، بائیو ڈیزل اور سی این جی پر چلنے والی بسیں متعارف کی ہیں‘‘۔انہوں نے کہا’’میری وزارت گرین ہائیڈروجن پر کام کر رہی ہے، گرین ہائیڈروجن مستقبل کا ایندھن ہے، پیٹرول ڈیزل کا استعمال بند ہونا چاہیے کیوں کہ اس سے بہت آلودگی پھیلتی ہے‘‘۔نتن گڈکری نے کہا’’میں آپ سے ایک روپے نہیں مانگتا ہوں، میرے پاس بہت پیسہ ہے ۔ میری واحد ایسی وزارت ہے جو اب تک چالیس لاکھ کروڑ روپے کے کام کر چکی ہے ۔ میں پیسوں کا انبار لگا سکتا ہوں‘‘۔انہوں نے کہا’’میں کشمیر کے لئے کام کرنا چاہتا ہوں، آپ میرے لئے صرف فارسٹ انویرمنٹ کی کلیئرنس اور لینڈ کی حصولی کا کام کریں، ہم یہاں بھی ٹیکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہتے ہیں‘‘۔وزیر موصوف نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر میں لاجسٹک پر آنے والے خرچے کو اگلے دو سال کے اندر کم کریں گے ۔انہوں نے کہا’’میں کل یہاں کچھ بیوپاریوں سے ملا، وہ کہہ رہے تھے کہ ہم لاجسٹک پر آنے والے خرچے سے پریشان ہیں، میں نے ان سے کہا کہ میں یہ پریشانی دو سال کے اندر کم کر سکتا ہوں‘‘۔ان کا مزید کہنا تھا’’سرینگر میں آپ اگر کہیں پر مجھے زمین ڈھونڈ کر دیتے ہیں تو میں یہاں کے لئے ایک بہت بڑا بس پورٹ یعنی بس سٹیشن بنوا کے دوں گا‘‘۔