’فوجی عرفان کے قتل میں مفرور اہلکار ملوث ہونے کا خدشہ‘

 سرینگر //فوج کوخدشہ ہے کہ شوپیان کے عرفان ڈارنامی فوجی کے قتل میں بھگوڑے اہلکارظہورٹھاکر کاہاتھ ہے۔پولیس اگرچہ ابھی عرفان ڈار کے قتل کی تحقیقات میں مصروف ہے لیکن فوج کو خدشہ ہے کہ اس قتل میں باغی اہلکار ملوث ہے۔’ٹریبون انڈیا ‘کی ایک رپورٹ کے مطابق فوجی ذرائع نے کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق شوپیان کے سازن میں 25نومبر کو ٹری ٹوریل آرمی سے وابستہ 23سالہ عرفان ڈار کے قتل میں ٹری ٹوریل آرمی کا ہی باغی اہلکار ظہور ٹھوکر ملوث ہے۔ تحقیقات سے منسلک ایک فوجی افسر نے کہا کہ ظہور اُن تین جنگجوئوں کے ساتھ تھا جنہوں نے عرفان ڈار کو ایک میوہ باغ میں گولیاں مار کر ہلاک کیا۔ انہوں نے کہا ہمارے پاس اس قتل میں ظہور کے ملوث ہونے کے ثبوت ہیں لیکن ان کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین ملی ٹنٹوں نے عرفان کی گاڑی کو روکا اوراس پر گولیاں چلا کر اسے  ہلاک کیا۔ایک اور فوجی افسر نے کہا کہ عرفان ڈار کو اغوا نہیں کیا گیا تھا جیسا کہ ابتدائی رپورٹوں میں کہا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ عرفان ڈار کے قتل کے وقت ظہور کو وہیں ارد گرد دیکھا گیا تھا ۔ قابل ذکر ہے کہ پلوامہ کے سرنو کے رہنے والے ظہور ٹھوکر جولائی کے مہینے میں بارہمولہ میں قائم یونٹ سے ایک رائفل اور تین میگزین سمیت رفوچکرہوگیا تھا  اور بعد ازاں حزب المجاہدین تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی ۔ پولیس ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ظہور ٹھوکر اور عرفان ڈار ایک ہی سال فوج میں بھرتی ہوئے تھے اور دونوںنے تربیت بھی اکٹھے ہی حاصل کی لہذا ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے تھے ۔