فشارِ خون کا عالمی دن : ہائی بلڈ پریشر خاموش قاتل ،وادی کی نصف آبادی مرض میں مبتلا

 
سرینگر // نئی تحقیق کے مطابق وادی میں 35لاکھ آبادی ہائی بلڈ پریشر بیماری میں مبتلا ہے ۔طبی ماہرین نے ہائی بلڈ پریشر کو خاموش قاتل قرار دیتے ہوئے اس کی معمول کے مطابق طبی معائنہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ معالجین کے مطابق جنک اور فاسٹ فوڈ کا رجحان ،نمک کا زیادہ استعمال اور دیگر کچھ عوامل سے یہ بیماری پھیل رہی ہے اور کشمیر کی آدھی سے زیادہ آبادی اس خاموش بیماری کی لپیٹ میں ہے ۔یہ بیماری ہر ایک گھر میںموجو دہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ کئی گھروں میںبلڈ پریشر کے معائنہ کیلئے خود ہی لوگوں نے مشینیں رکھی ہوئی ہیں ۔اس کے علاوہ ڈاکٹروں کے پاس بھی مریضوں کی قطاریں لگی رہتی ہیں اور سب سے پہلے ڈاکٹر بلڈ پریشر کا ہی معائنہ کرتے ہیں ۔وادی میں لگ بھگ نصف آبادی بلڈ پریشر کی دوائیاں کھارہی ہے ۔ڈاکٹر ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر اور ماہر طب ڈاکٹر نثار الحسن نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ وادی میں ہائی بلڈ پریشر کے عالمی دن کو منانے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ معمول کے مطابق اپنا طبی معائنہ کریں۔انہوں نے بتایا کہ نئی تحقیق کے مطابق کشمیر کی آدھی سے زیادہ یعنی 35لاکھ لوگ اس میں مبتلا ہیں اور یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ وہ خاموش بیماری ہے جس سے ہارٹ اٹیک ، سٹروک، گردوں کا خراب ہونا، آنکھوں کی روشنی کم ہو جانے جیسی بیماریاں بھی لاحق ہورہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بلڈ پریشر کے حوالے سے ہر ایک شہری کو معلومات ہونی چاہئے کہ اُس کا بلڈ پریشر کتنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بلڈ پریشر اُن لوگوں کو ہوتا ہے جو زیادہ نمک کا استعمال کرتے ہیں ، اپنے اوپر زیادہ دبائو ڈالتے ہیں ، ورزش کم کرتے ہیں جبکہ کئی لوگوں میں یہ موروثی وجوہات کی بنا پر لگ جاتی ہے ۔انہوں نے ریاستی سرکار پر زور دیا کہ وہ ہسپتالوں میں ایسے مریضوں کیلئے الگ سے کلینک کھولے کیونکہ اس بیماری کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ہونا  تویہ چاہئے کہ ایسے مریضوں کیلئے الگ سے جانچ ہو ۔وادی کے معروف معالج ڈاکٹر نذیر مشتاق نے ہائی بلڈ پریشر کو خاموش قاتل قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس کی کوئی خاص علامت نہیں ہوتی، اس لئے لوگوں کو سر درد ،جوڑوں کے درد یا بدن درد کا انتظار نہیں کرنا چاہئے بلکہ وقتاً فوقتاً اپنا بلڈ پریشر چیک کرانا چاہئے ۔ڈاکٹر نذیر مشتاق کے مطابق وادی میں اس کی شرح تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے اس لئے ہر ایک شہری کو ایک ماہ کے دوران ایک بار بلڈ پریشر چیک کرنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ ہر ایک گھر میں آج کل بلڈ پریشر ڈیجیٹل مشین ہونی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ بزرگوں کو باقاعدگی سے بلڈ پریشر چیک کرنا چاہئے ،سگرٹ نوشی سے مکمل پرہیز کرنی چاہئے اور فاسٹ فوڈ اورجنک فوڈ کا استعمال ترک کرنا چاہئے ۔انہوں نے گوشت کے کم استعمال پر بھی زور دیا جبکہ عمر اور قد کے لحاظ سے وزن کم کرنے کی ضرورت بھی بتائی ۔زنانہ ہسپتال کے بلڈ بنک افسر اور جنرل فزیشن ڈاکٹر جاوید اقبال نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ نئی تحقیق کے مطابق ہر ایک شہری کو 120/80بلڈ پریشرکم ہوتا ہے جبکہ 140/90زیادہ ہوتا ہے اس لئے ضروری ہے اس سے بچلنے کیلئے ایک صحت مند غذا تناول کیا جائے جس میں تازہ پھل ،خشک میوہ جات، سبزیاں وغیرہ شامل ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اس کیلئے باقاعدہ ورزش کی بھی ضرورت ہے ۔شعبہ جنرل میڈیسن صورہ کے پروفیسر ڈاکٹر رفیع جان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کشمیر میں نمک اور سگریٹ کا زیادہ استعمال بھی اس کی بڑی وجہ ہے جبکہ یہاں کے لوگ جغرافیائی طور پر بلندی پر رہتے ہیں اس لئے بھی وہ اس بیماری کا شکار ہو رہے ہیں ۔