ریاسی اور جموں میں ٹیچر سمیت 10 افراد حراست میں
جموں//ایک مخصوس طبقہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر پکاڈنگا پولیس اسٹیشن جموں میں متعدد افراد کے خلاف کیس درج کیاگیاہے جبکہ ریاسی پولیس نے ایک شخص پر حملہ کرنے کے الزام میں سرکاری اساتذہ سمیت 7 افراد کو گرفتار کیا ہے۔آئی جی پی جموں مکیش سنگھ کی ہدایت پرپکا ڈنگا پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آرزیر نمبر 100 کے تحت آئی پی سی کی دفعہ 153 اے اور 295 اے کے تحت مقدمہ درج کرلیاگیاہے۔پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ اس سلسلے میں مزید تفتیش شروع کردی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ایک نیوز پورٹل اور دیگرمیڈیاکو انٹرویو دینے والے افراد کے خلاف کیس درج کیاہے اوران کی گرفتاری کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔ آئی جی پی جموں زون مکیش سنگھ نے سوشل میڈیا کے ذریعہ آگاہ کیا ’’ایک واقعہ جو فرقہ وارانہ طور پر حساس نوعیت کا ویڈیو ہے ، سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے، ایسا لگتا ہے کہ اسے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کے لئے بدنیتی سے پوسٹ کیا گیا ہے‘‘۔آئی جی جموں نے مزید کہا’’اس واقعہ پر سنجیدگی سے کام لیا گیا ہے اور سخت کارروائی کو یقینی بنانے کے لئے جموں کے علاقے پکاڈنگا میں تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے‘‘۔انہوں نے اپیل کی کہ لوگ سماج دشمن عناصر کے ایجنڈے کا شکار نہ ہوں۔ان کاکہناتھا’’اس طرح کے مواد کو پوسٹ کرناقابل سزا جرم ہے ، ہم ایسے ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی یقین دہانی کراتے ہیں جنہوں نے اس طرح کا مواد تیار کیا یا شیئر کیا ہے‘‘۔دریں اثنا ایک طبقہ کے لوگوں نے پکا ڈنگا میں ملزمان کے خلاف مظاہرہ کیا اور انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت ان کو گرفتار کریں۔اسی طرح کا مظاہرہ تالاب کھٹیکاں میں بھی کیا گیا جس میں ملزمان کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ بعد میں مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔ایک عہدیدار نے بتایا کہ تنائو اس وقت پھیل گیا جب دائیں بازو کے گروپ کے رہنمائوں نے ایک نیوز پورٹل پر ریاسی کے واقعات کے خلاف اپنا رد عمل ظاہر کیا۔دریں اثناء پکا ڈنگا پولیس نے دو افراد کو گرفتار کرلیاہے جبکہ تیسرے کی تلاش کی جارہی ہے۔آئی جی پی مکیش سنگھ نے بتایاکہ تیسرا شخص ابھی فرار ہے جس کی تلاش جاری ہے۔انہوںنے عوام سے اپیل کی کہ وہ مذہبی بھائی چارہ اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھیں اور تفرقہ ڈالنے والوں کے خلاف متحد ہوکر کام کریں ۔
ٹیچر سمیت سات گرفتار
ضلع ریاسی میں پولیس نے سرکاری ٹیچر سمیت سات افراد کی گرفتاری عمل میں لائی ہے۔ایس ایس پی ریاسی ریشمی وزیر نے بتایا ’’14 اگست کو ضلع میں ایک نائب تحصیلدار کو گائے کے ساتھ غیر فطری حرکت کرنے پر ارناس پولیس نے گرفتار کیا ہے‘‘۔انہوں نے بتایاکہ ایک اور واقعہ پیش آیا جس میں ایک اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکے نے مبینہ طور پر ایک گائے کو بری طرح زخمی کردیا۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ اس کے بعد یہ لڑکا اس جگہ سے فرار ہوگیا۔ایس ایس پی نے مزید بتایا’’اس سے کچھ لوگ مشتعل ہوئے ور انہوں نے سرپنچ کے توسط سے پولیس سے رابطہ کیا، اس سے پہلے کہ پولیس اس جگہ یعنی گائوں گڑھی میں پہنچ سکے ، لوگوں نے غصے میں اس لڑکے کے والد کی پٹائی کردی‘‘۔ایس ایس پی ریاسی نے بتایا ’’اس شخص کو معمولی چوٹیں آئیں، ہم نے اس پر حملہ کرنے میں ملوث ملزموں کی شناخت کی ہے،ساتھ ہی ہم نے ضلع میں امن اور ہم آہنگی کی بحالی کیلئے دونوں طبقوں کے رہنمائوں کی میٹنگوں کا بھی اہتمام کیا ‘‘۔انہوں نے بتایاکہ ابھی تک ان واقعات میں انہوں نے تین ایف آئی آر درج کی ہیں۔ان کاکہناتھا’’ہم نے اس شخص کو زدوکوب کرنے میں ایک سرکاری ٹیچر سمیت سات افراد کو گرفتار کیا ہے، ہم کسی کو بھی ضلع میں امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ‘‘۔