فائر بندی پرسختی سے عمل کرنیکا فیصلہ

 غیر متوقع صورتحال دور کرنے کیلئے ہاٹ لائن رابطے اور فلیگ میٹنگیں ہونگی: مشترکہ بیان

نئی دہلی //بھارت اور پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز( ڈی جی ایم اوز) نے ایک دوسرے کے بنیادی معاملات اور تحفظات کو دور کرنے پر اتفاق کیا ہے، جو امن کی خرابی اور تشدد کا سبب بنتے ہیں۔گزشتہ کئی برسوں سے سیاسی،سفارتی وحکومتی سطح پرٹکرائو اور لائن آف کنٹرول و بین الاقوامی سرحد پر کشیدگی کے بیچ بھارت اورپاکستان کی فوجی قیادت نے ہارٹ لائن پر رابطے کے قائم کردہ طریقہ کار کے ذریعہ جموں کشمیر میں آرپار فائرنگ کے واقعات روکنے پراتفاق کرلیا۔جمعرات کے روز وزارت دفاع کے ذریعہ نئی دہلی میں جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں فوجوں کے فوجی آپریشنوں کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی ایم او) بدھ کی آدھی رات سے "لائن آف کنٹرول پر تمام معاہدوں ، افہام و تفہیم اور فائرنگ بند کرنے" پر رضامند ہوگئے ہیں۔دونوں اعلی کمانڈروں نے "ایک دوسرے کے بنیادی امور اور خدشات کو حل کرنے پر بھی اتفاق کیا جن میں امن کو خراب کرنے اور تشدد کا باعث بننے کے واقعات شامل ہیں"۔مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے لائن آف کنٹرول  اور دیگر سیکٹروں کی صورتحال کا آزادانہ، اچھے اور خوشگوار ماحول میں جائزہ لیا۔بیان میں مزید کہا گیا ہے’’ دونوں فریقین نے ایل او سی اور دیگر سیکٹروں پر تمام معاہدوں، سمجھوتوں اور جنگ بندی پر سختی سے عمل پیرا ہونے پر اتفاق کیا ہے‘‘۔دونوں فریقین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی طرح کی غیر متوقع صورتحال اور غلط فہمی کو دور رنے کیلئے موجودہ ہاٹ لائن رابطے کے طریقہ کار اور بارڈر فلیگ میٹنگز کو استعمال کیا جائے۔ادھر پاک فوج کے ترجمان اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان  1987سے ہاٹ لائن کی سطح پر رابطہ ہے اور دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اووز ایک قائم طریقہ کار کے تحت رابطہ کرتے رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کا ایک طریقہ کار موجود تھا اور 2003میں اس پر ایک اور معاہدہ وا جس کے بعد جنگ بندی بہت موثر رہی تاہم 2014سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں  میں تیزی آگئی۔ڈی جی آئی ایس پی آر  کا کہنا تھا’’ پاکستان  اور بھارت کے ڈی جی ایم اووز نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ 2003کے معاہدے  پر من و عن عمل کیا جائے اور اسے مستحکم بنانے کیلئے دونوں فریق متفق  ہیں اور اس پر عمل پیرا ہونے کا اعادہ کیا گیا ہے۔انکا کہنا تھا کہ  2003سے ابتک ساڑھے 13ہزار سے زائد مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاؓ ہوئی ہیں جن میں 310شہری  ہلاک اور 1600سے زائد زخممی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ 2014کے بعد کے تناسب کا فرق بہت زیادہ ہے لیکن  اب دونوں ملکوں کے ڈی جی ایم اووز کے درمیان یہ اتفاق ہوا ہے کہ  2003کے جنگ بندی  معاہدے پر من و عن عمل کریں گے۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق قومی سلامتی مشیر اجیت دوول اور اسلام آباد میں ان کے ہم منصب معید یوسف نے مہینوں قبل سرحدوں پر امن کو یقینی بنانے کے لئے بیک چینل گفتگو شروع کی تھی۔بات چیت سے واقف ذرائع نے بتایا کہ قومی سلامتی ڈویژن اور اسٹریٹجک پالیسی پلاننگ کے وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی ، معید ڈبلیو یوسف اور اجیت دوول  براہ راست اور انٹلیجنس برادری کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔معید یوسف نے بعد میں اس بات کی تصدیق کی کہ دونوں ممالک پردے کے پیچھے کوششیں کر رہے ہیں۔مشترکہ بیان ان بات چیت کا پہلا نتیجہ ہے جس میں کسی تیسرے ملک میں دونوں ملکوں کے قومی سلاتی مشیروں نے کم از کم ایک دفعہ ایک دوسرے کیساتھ آمنے سامنے ملاقات کی ہے ۔ میڈیا رپورٹوں میں بتایاگیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ ، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اور وزیر برائے امور خارجہ ایس جے شنکرپر مشتمل ایک چھوٹا گروپ  مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ تھا۔یہ پہلا موقع نہیں ہے جب فوج کے دو اعلی افسران نے سرحد پر امن قائم کرنے پر اتفاق کیا ہو۔ انہوں نے 2018 میں اسی طرح کے معاہدے پر دستخط کئے تھے جب انہوں نے خط اور روح کے مطابق 2003 کے جنگ بندی سمجھنے کی شرائط پر سختی سے عمل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔عہدیداروں نے بتایا کہ جمعرات کا مشترکہ بیان ان بہت سے اقدامات میں پہلا ہوسکتا ہے جو دونوں ممالک تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے اگلے چند مہینوں میں اٹھاسکتے ہیں۔قومی سلامتی کے منصوبہ سازوں نے کہا  ہے کہ پچھلے مہینے کے دوران پانچ پیشرفت ہوئی ہیں یا اس کے اشارہ دیا گیا۔پہلا اشارہ اس مہینے کے شروع میں اس وقت آیا جب پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجواہ نے  2 فروری کو اسلام آباد میں کہا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کے تحت تمام جہتوں میں امن کا ہاتھ بڑھایا جائے۔اس کے ساتھ ہی حالیہ ہفتوں میں جموں و کشمیر میں سرحد کے ساتھ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ جنرل باجواہ کی جانب سے امن کی تجویز ، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں کمی اور پاکستان کے گرم لہجے میں کمی کے بیانات اس خاموش بات چیت سے منسلک ہیں، جو درپردہ ہو رہی تھی۔تعلقات میں رکاوٹ پیدا ہونے کی چوتھی علامت یہ تھی کہ گذشتہ ہفتے کی سارک میٹنگ میں پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر بات نہیں کی۔حالانکہ صحت سے متعلق وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی ، ڈاکٹر فیصل سلطان نے خود کو اس معاملے تک محدود رکھا ، جو پچھلے سال مارچ میں ہونے والے سارک اجلاس میں مسئلہ کشمیر اٹھانے کی پاکستان کی سابقہ کوشش کے برخلاف ہے۔پانچواں نئی دہلی کا یہ اشارہ تھا کہ وہ منگل کے روز سری لنکا جانے والے راستے میں ہندوستانی فضائی حدود کو عمران خان کے خصوصی طیارے کو استعمال کرنے کی اجازت دے گا۔ کولمبو میں لینڈنگ سے قبل وزیر اعظم خان کا پاک فضائیہ کا جیٹ طیارہ ہندوستان کے ساحلی پٹی کے ساتھ ساتھ اور لکشدویپ جزیرے کے اوپر اڑا۔خصوصی پرواز کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ 2019 میں پاکستان کے اقدام کے برعکس تھا ، جب اسلام آباد نے ہندوستانی وی وی آئی پی کی تین پروازوں کے ذریعہ پاکستانی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت سے انکار کیا تھا۔
 

فیصلہ خوش آئند: ڈاکٹر فاروق

مذاکرات جنگ بندی تک محدود نہ رہیں

نیوز ڈیسک
 
سرینگر// نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنے بیان میں ڈی جی ایم اوز کی طرف سے جاری مشترکہ بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُمید ہے کہ دونوں ممالک کی افواج کی طرف سے جاری بیان پر من و عن عمل کیا جائیگا۔اس سے سرحدوں کے قریب رہائش پذیر آبادیوں کو اپنی زندگی امن و امان سے جینے کا موقع فراہم ہوگااور وہ بنا کسی خطرے کے اپنی معمول کی زندگی گزار سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ہمیشہ  سرحدوں پر جنگ بندی کی مضبوط حامی رہی ہے کیونکہ گولہ باری سے معصوم اور بے گناہ لوگوں کی زندگی اجیرن بن کر رہ گئی ہے اور بے شمار کنبے ایسے بھی ہیں جو اس وقت بھی ہجرت کرکے اپنے گھروں سے دور ہیں۔ ڈاکٹر فاروق  نے دونوں ممالک سے اپیل کی کہ وہ بات چیت کو جنگ بندی معاہدے تک ہی محدود نہ رکھیں بلکہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام حل طلب معاملات کیلئے مذاکرات کی میز پر آئیں اور مل بیٹھ کر پُرامن طریقے سے مسائل کا حل تلاش کریں۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت ہی آگے بڑھنے کا واحد پُرامن راستہ ہے اور دونوں ممالک کو اسی سمت میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ 

 

بہت بڑی پیش رفت

بات چیت مسائل کا واحد حل: محبوبہ

نیوز ڈیسک
 
 سرینگر// پی دی پی صدر محبوبہ مفتی نے ہند پاک کے مابین جنگ بندی معاہدے پر سختی کیساتھ عمل پیرا ہونے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔سماجی وئب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ایک ٹویٹ میں پی ڈی پی صدرنے لکھا’’ہند پاک کے مابین سرحدوں پر جنگ بندی معاہدے پر عملدر آمد کا تازہ فیصلہ خوش آئند ہے ‘‘۔ انہوں نے مزید لکھا ’’ ہند پاک کشیدگی کے باعث کافی خون خرابہ ہوا ہے اور خون خرابہ اور تشدد کے خاتمہ کیلئے دونوں ممالک کے مابین بات چیت ضروری ہے‘‘ ۔انہوں نے مزید لکھا ’’ اب دونوں ممالک اس بات پر متفق ہو چکے ہیں کہ سرحدوں پر جنگ بندی معاہدے پر مکمل عملدر آمد ہو جو کہ ایک بڑی پیش رفت ہے اور امید ہے کہ اب دونوں اطراف سے سرحدوں پر انسانی جانوں کا مزید زیاں نہ ہو‘‘ ۔
 

اوڑی، کرناہ اور کیرن میں خوشی کی لہر

ظفر اقبال +اشرف چراغ 
 
اوڑی +کپوارہ// لائن آف کنٹرول پر اوڑی اور کرناہ میں رہائش پذیر آبادی میںخوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ بھارت اور پاکستان کی جانب سے اگر اس طرح کا کوئی فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایل او سی پر اب گولے نہیں چلیں گے تو اس سے بڑھ کر خوشی کی اور کیا بات ہوسکتی ہے۔اوڑی کے حاجی پیر سیکٹر میں کنٹرول لائن پر واقع چرنڈہ نامی گائوں کے سرپنچ لال دین کھٹانہ نے بتایا کہ جنگ بندی معاہدے کو برقرر رکھنے کی خبر سنتے ہی لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ لوگوں کو ایک نئی زندگی ملی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کا گائوں ہند پاک گولہ باری کی مکمل زد میں رہتا ہے اور ابھی تک ان کے گائوں میں گولہ باری سے 19 ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ 38 لوگ زخمی ہوئے ہیں،جن میں کئی   زندگی بھر کیلئے اپاہج بن گئے ہیں۔ ہتھ لنگہ گائوں کے غلام رسول ڈار نے بتایا کہ یہ خبر ان کے لئے بہت بڑی ہے۔انہوں نے بتایا کہ گولہ باری سے ان کے علاقے میں ابھی تک کئی جانیں گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گولہ باری کے خوف سے ان کے علاقے میں ترقیاتی کام بھی نہیں ہو پاتے ہیں اور لوگ  زمینداری بھی نہیں کر سکتے ہیں، امید ہے اب لوگ راحت کی سانس لیں گے۔ کمل کوٹ کے سجاد احمد نے بتایا کہ گولہ باری میں اوڑی کے لوگوں نے بہت جانی اور مالی نقصان اٹھایا ہے، اب یہ سلسلہ رکنا چاہیے۔ ضلع کپوارہ کے حد متارکہ پر واقع مژھل ،کیرن اور کرناہ کے لوگو ں نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا  ہے کہ اس فیصلے پرعمل کرنے سے سرحدی علاقوں کو ایک نئی روح ملے گی۔ مژھل اور کیرن کے علاوہ جمہ گنڈ میں لوگو ں نے را حت کی سانس لی ہے ۔کیرن کے محمد اقبال جو نے کشمیر عظمیٰ کو بتا یا کہ گزشتہ 3دہائیو ںسے سرحدوں پر پر تنائو ماحول ہے اور اب تک کئی انسانی جانیں تلف بھی ہوئیں جبکہ درجنو ں  زخمی ہو کر اپاہچ بن گئے ۔انکا کہنا تھایہا ں کے لوگو ں نے 2003میں اس وقت را حت کی سانس لی تھی جب دونو ں ملکوں نے جنگ بندی معاہدہ کیا اور یہ سلسلہ کئی برسو ں تک جاری رہا تاہم بعد میںوہی ہوا جیسا پہلے تھا۔کیرن اور کرناہ سیکٹروں میں گذشتہ قریب 7برسوں سے درجنوں لوگ مارے گئے جبکہ متعدد شہری زخمی ہوئے۔مژھل ،کیرن اور کرناہ کے لوگو ں کا کہنا ہے کہ گزشتہ 3دہائیو ں کے دوران یہا ں کے لوگو ں نے کافی زخم سہہ لئے ہیں اور اس بیچ کئی افراد کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا ۔ان علاقوں کے لوگو ں کا مزید کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی عمل سے یہا ں کے لوگو ں میں کافی خوشی پائی جاتی ہے۔مژھل ،کیرن اور کرناہ کے لوگو ںنے امن کی اس نوید کا خیر مقدم کرتے ہوئے ٹیٹوال کراسنگ پوائینٹ دوبارہ معال کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
 

بہتر تعلقات کے خواہاں: وزارتِ خارجہ

اہم معاملات پر مؤقف میں تبدیلی نہیں

نیوز ڈیسک
 
نئی دہلی // نئی دہلی میںوزارت خارجہ نے اس پیش رفت پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ لائن آف کنٹرول اور چین کے ساتھ لائن آف ایکچول کنٹرول کے ساتھ سفارتی وعدے ملک کے قومی سلامتی اور علاقائی خودمختاری پر کسی بھی طرح کے سمجھوتے سے مشروط نہیں ہیں۔پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کے نئے معاہدے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ، ترجمان انوراگ سریواستو نے کہا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ "معمول کے" تعلقات کا خواہاں ہے لیکن متعدد اہم امور پر نئی دہلی کا موقف بدستور برقرار رہے گا‘‘۔انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ معمول کے ہمسائیوں جیسے دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔ تاہم ، اہم معاملات پر ، ہماری پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت نے کوئی زمین نہیں کھوئی اور اس نے جمود میں یکطرفہ تبدیلی کو روکا۔ سریواستو نے کہا کہ باہمی طور پر فوج کی نئے سرے سے تعیناتی کی غلط تشریح نہیں کی جانی چاہئے اور لائن آف ایکچول کنٹرول پر ہمارے مؤقف کے سلسلے میں قطعی طور پر کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی ہے۔