غیر حاضر عوامی نمائندگان!

وادیٔ کشمیر سے14ویں لوک سبھا کےلئے منتخب اراکین پارلیمان کی کارکردگی کس قدر غیر مؤثر اور منفی رہی ہے، اس کے بارے میں حیران کُن حقائق سامنے آگئے ہیں ۔ریاست کے کلیدی انگریزی روزنامہ گریٹر کشمیر میں شائع شدہ تین حصوں پر مبنی ایک رپورٹ میں متعدد حیران کن حقائق کا انکشاف ہوا ہے۔جن سے عوامی نمائندگی کی اہمیت بُری طرح متاثر ہوتی ہے۔ یہ ایک حیران کُن امر ہے کہ 2014میں وادی سے منتخب ہوئے لوک سبھا اراکین نے بھارتی جمہوریہ کے اعلیٰ ترین ایوان میں عوام کی کوئی نمائندگی نہیں کی۔کیا یہ اس جماعت کی سب سےبڑی ناکامی قرار دنہیں دی جاسکتی ہے۔ بارہمولہ حلقہ انتخاب کی نمائندگی کرنے والے مظفرحسین بیگ منعقدہ اجلاسوں میںصرف 10فیصد وقت کے دوران ایوان میں حاضر رہے جبکہ سرینگر سے طارق حمید قرہ اور اننت ناگ سے محبوبہ مفتی نے اجلاسوں کے ایک تہائی حصہ میں شرکت کی۔ کیا اسے انکی جانب سے مفوضہ ذمہ دار یوں سے دستبرداری قرار نہیں دیا جاسکتا ہے؟ رائے دہندگان کی جانب سے برائے نام شرکت کےبہ مؤجب ریاست کے اندر پہلے ہی انتخابی عمل کی اعتباریت متاثرہوئی ہے، اس پر طرہ یہ کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کےاراکین پارلیمان ایوان کی نشستوں سے عملی طور پر غیر حاضر رہے ہیں۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر وہ کبھی اجلاس میں موجود رہے بھی ہیں تو انکا رول ایک خاموش تماشائی کے سوا کچھ نہیں رہا ہے۔ لوک سبھا کے ریکارڈ کے مطابق انہوں نے کسی اہم معاملے پر مباحثے میں کوئی حصہ نہیں لیا اور نہ ہی انہوں نے ریاست کے اندر موجود صورتحال کے حوالےسے کوئی سوال اُٹھایا اور کوئی معاملہ زیر بحث لایا۔ پارلیمانی کاروائی میں انکی عدم شرکت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پی ڈی پی کے منتخب اراکین نے پارلیمنٹ اور اسکے اندر ہو رہی کاروائی کو کسی بھی صورت میں سنجیدگی کے ساتھ نہیں لیا اور ایک ایسے وقت میں جبکہ وادی کشمیر مشکلات اور مصائب کے دہانےپر کھڑ رہی ہے۔ اس ساری صورتحال سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ملک کے اعلی ترین جمہوری ایوان میں کشمیر اور کشمیریوں کو درپیش حالات و مشکلات پر اگر ہمارے منتخب نمائندے بات نہ کرینگے تو کشمیر اور کشمیریوں کی مشکلات کو کون سنے گا اور سمجھ سکے گا۔ یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ وادیٔ کشمیر نہ صرف سیاستدانوں سے مایوس ہوئی ہے بلکہ جمہوری نظام پر بھی اسکا کوئی اعتبار باقی نہیں رہا ہے۔ کشمیر میں فی الوقت جو حالات بنے ہوئے ہیںان پر پار لیمنٹ کے اندر مباحث اور مذاکرات اتنے ہی ضروری ہیں جتنے حریت کانفرنس اور پاکستان کے ساتھ مذاکرات۔ حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو اوالذکر کو مؤخر الذکر پر اولیت حاصل ہونی چاہئے، کیونکہ جب ایوان کے اندر مباحث اور مذاکرے ہونگے تو ان ہی کی روشنی میں باہر بات کرنے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔ اگر ہمارے عوامی نمائندگان کی حالت یہی رہی تو لوگوں کا خدا ہی حافظ ہے۔ پی ڈی پی پریہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام کے سامنے اس بات کی وضاحت کرے کہ اسکے ممبران پارلیمنٹ اپنی سیاسی ذمہ داریاں اور اخلاقی فرائض کی انجام دہی میں کیوں ناکام رہے؟۔