غلام محمد، نور محمد (مرحومین)

 برصغیر میں21؍فروری کو مادری زبان کا دن منایا جاتا ہے اورکشمیر میں بھی یہ د ن تزک واحتشام سے منایا جاتا ہے اور بہت ساری تقاریب کا اہتمام کیا جاتاہے جن میں مادری زبان کی اہمیت کو اُجاگر کیا جاتا ہے ۔ہماری مادری زبان کشمیری ہے جس کا شمار خطے کی قدیم زبانوں میںہوتا ہے ۔کسی بھی قوم کی پہچان اُس کی زبان ،تاریخ وتمدن اور ادبی سرمایہ سے ہوتی ہے ۔دورِ حاضر میںوادیٔ کشمیر میںاس سرمائے کو فروغ دینے کے کام کئی ادارے انجام دے رہے ہیں جو قابل ستائش ہے لیکن اس قابل ستائش کام کی ابتداء کا سہرایہاں کی علم ودست ،ادب نواز تاریخی شخصیت نور محمد تاجر کتب المعروف غلام محمد تاجران کتب مہاراج گنج کے سر جاتا ہے ،جنہوں نے بیسویں صدی کے آغاز میں بیشتر مقامی ادبی میراث جمع کر کے اسے زیور طباعت سے آراستہ کر کے آئندہ نسلوں میں منتقل کردیا ۔کشمیر میں نور محمد سے پہلے بھی کتب فروش تھے بلکہ کشمیری زبان میں کتابیں شائع کرانے کی شروعات بھی نور محمد سے پہلے ہوچکی تھی ، مگر نور محمد نے علمی ،ادبی،تاریخی اوردینی لٹریچراور کتابوںخاص کر کشمیری زبان کی اشاعت و تشہیراور فروغ میں جو کلیدی رول ادا کیا ، اُسے کشمیرکی ادبی تاریخ میں سنہری دور کے طور یاد کیا جائے گا۔ اس کتب خانے کو نور محمد کے والد غلام محمد نے مہاراج گنج نزدیک مقبرہ بڈشاہ صاحب1890 ء کو قائم کیا تھا اور آ ج ایک صدی سے زائد عرصہ گذرنے کے بعدبھی اپنے ہی محل وقوعہ پرموجود ہے ۔اُن دنوں زیادہ تر کتابیں لاہور اور لکھنو سے شائع ہوکرکشمیرآیا کرتی تھیں مگر1917ء میں نور محمد نے اپنی صلاحیت ، سوجھ بوجھ اوراپنے عزیز بھائیوں( غلام رسول، غلام حسن ،غلام جیلانی محمد حسین ،بشیر احمد ،عبدالمجید) کی رفاقت ومعاونت سے اپنے چھاپ خانے کو وسعت دی اور ایک بڑے کتب خانے میں تبدیل کردیا ۔
1922ء میں نور محمد نے کتابوں کے اشاعت کی شروعات کی اور یہاں کے ممتاز نعت گو شاعر وں کی کتاب ’’گلشن نعت‘‘ صابر الیکٹرک پریس لاہور سے شائع کرواکر اشاعتی سفر کی ابتداء کی اور یہ سفر آج بھی برابر جاری ہے ۔1930تا 1940 نور محمدکا شمار ملک کے بڑے بڑے کتب خانوں میں شامل ہوچکا تھا اوراسے کشمیر میں کتابوں کابڑا تجارتی ادارہ مانا جاتا تھا ۔اُس زمانے میں اس کی چار شاخیں تھیں: ایک شاخ مائسمہ کوکربازار ،دوسری لال چوک گنڈا سنگھ بلڈنگ کے نیچے ،تیسری شاخ پلیڈیم سینما کے قریب اور چوتھی شاخ ریذیڈنسی روڈ پر۔ ان سبھی شاخوں کو غلام محمد نور محمد تاجران کتب  کے نام سے ہی سے جانا جاتا تھا ۔پھر یہ اشاعتی ادارہ کتابوں کی تجارت میں اتنا مقبول ہوا کہ لوگ اس خاندان کو کتاب خاندان کے عرفی نام سے ہی جاننے لگے ۔نور محمد کا کتب خانہ کشمیر کا واحد کتب خانہ تھا جسے منشی عالم، منشی فاضل کے علاوہ ہر مسلک کی کتابوں کا بڑا ذخیر ہ مانا جاتا تھا ۔نور محمد کشمیر کے واحد ناشر ہیں جنہوں نے اُس زمانے میں کشمیری زبان میں قرآن شریف،حدیث نبویؐ ، اسلامی خطبات کے علاوہ اوراد و ظائف، بزرگانِ دین واولیا ء کرامؒ کے کلام کے ساتھ ساتھ تمام اصناف پر کتابیں شائع کیں ۔ان میں شروکھ،واکھ ،ریشی نامہ،قصیدہ ،مثنویاں ،جنگ نامے ،تاریخ ،عشقیہ داستانیں ،ڈرامے،وَنہ وُن ،افسانے ،صوفیانہ شعروکلام ،صوفیانہ موسیقی ،وژُن ،مرثیہ ،نوحہ،نعت ،منقبت ،رام لیلا ،کا شُر راماین وغیرہ شاہکار چیزیں قابل ذکر ہیں۔ بیسوی صدی کے صفحہ  اول کے ادباء،شعراء جن میں پیر عبدالعزیزاللہ حقانیؔ ،انور شاہ لولابیؔ ، عبدالاحدزرگرؔ، مہجورؔ ،آزاد ؔ،نادم ؔ،فانیؔ ،نازکیؔ ،راہیؔ ،الفتؔ ،دلنوازؔ،جاودانیؔ ،کامگارؔ ،فاضلؔ ،خیالؔ ،طارقؔ کے علاوہ بہت سے شعراء و ادباء کے کلام کو شائع کیا۔اس کے علاوہ بیسوی صدی کے آغاز میں جو دینی،ادبی و علمی لٹریچر منظر عام پر آگیا اُس کو نور محمد نے ہی کشمیر میں متعارف کرایا۔نور محمد کے کتب خانے کا ذکر مختلف تاریخ دانوں،دانشوروں نے اپنی کتابوں میں بہ بصد احترام ومحبت کیا ہے ۔برصغیر کے مشہور مصنف جی ایم ڈی صوفی نے اپنی کتاب History of Kashmirجوکہ تین جلدوں پر مشتمل ہے ،کشمیری ادب کا ذکر کرتے ہوئے نور محمد کے کتاب خانے کی ادبی خدمات اور اُن کے چھاپ خانے کے کام کا ذکر بہت جگہوں پر کیا ہے۔ جن دنوں محمد دین فوق’ؔ’تاریخ اقوام کشمیر‘‘ رقم کررہے تھے ،ان دنوں وہ اکثر نور محمد کے پاس آیا کرتے تھے۔نور محمد اُن کوز بانی طور پر تاریخی واقعات سنایا کرتے تھے اور محمد دین فوقؔ اُن کو قلم بند کیا کرتے تھے۔مرحوم فوق ؔنے اس کتاب میں نور محمد کے خاندان کا شجرۂ نسب اور اُن کے برادران اور کشمیری ادب کے تئیں ان کی خدمات کا بھی زریں الفاظ میں تذکرہ کیا ہے ۔خواجہ عظم دید مری کی فارسی زبان میںکتاب ’’واقعاتِ کشمیر‘‘جوکہ ایک عرصہ سے نایاب تھی ،نور محمد نے اسے 1936ء میں از سر نو شائع کرکے منظر عام پر لانے کاکام سر انجام دیا ۔چند سال پہلے اس کا اردو ترجمہ عبدالحمید یزدانی نے کیا جوا ب منظر عام پر آچکی ہے ۔اس کتاب کے دیباچے میں مولانا غلام نبی مبارکیؒ نے لکھا ہے کہ یہ کتاب پہلے میر واعظینِ کشمیر نے شایع کی تھی ،اُن کے بعد یہ غلام محمد نور محمد نے شائع کی۔کشمیر کے مشہور نقاد،ادیب وشاعر پروفیسر رحمن راہیؔ نور محمد کے بہت قریب رہے تھے۔راہی ؔصاحب نے کلچرل اکیڈمی کے مطبوعہ ’’ہمارا دب۔شخصیت نمبر ‘‘میں ایک مضمون نور محمد پر لکھا ہے، جس میں انہوں نے رقم کیاہے کہ یہ 1940ء کی بات ہے جب میں نے نور محمد کو دیکھا تھا،میں نویں جماعت میں زیر تعلیم تھا ۔مجھے نور محمد کے ساتھ کم از کم پندرہ سال کی رفاقت کی سعادت نصیب رہی۔نور محمدسارے شہر میں بیدار مغز اور باخبر شخصیت تسلیم کئے جاتے تھے۔اُن کی دوکان ایک تجارتی مرکز کے علاوہ فیض و عرفان کا سرچشمہ بھی تھی،جہاں تشنہ لب اور ساقی اطراف و اکناف سے آکر جمع ہوجایا کرتے تھے،جہاں رندوںاور زاہدوں کی مڑ بھیڑ ہوجایا کرتی تھی ،جہاں سیاست دان ،ادیب، شاعر اور سازندرے ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے تھے ،جہاںطالب علم اور علماء وادباء کو یکجا ہونے کا موقع ملتا تھا ۔کشمیر کے مشہور قلم کار ماہر تعلیم مرحوم عبدالمجید نے اپنی کتاب’’کشمیر نامہ‘‘میں نور محمد کے کتب خانے کے حوالے سے لکھا ہے کہ آج کل کے زمانے میں جو کام ریڈیو کشمیر ،کلچرل اکیڈیمی ،یونیورسٹی آف کشمیر اور اخبارات و رسائل،ویب سائٹ اور دیگر اشاعتی ادارے انجام دے رہے ہیں ،نور محمد اکیلے اور تن تنہا اُن دنوں ان کاموں میں ہمہ و قت سرگرم عمل تھا ۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وہ کشمیر کے نولکشور تھے۔کشمیری یونیورسٹی کے مشہور اسکالر،مصنف ،تاریخ دان ڈاکٹر فاروق فیاض نے اپنی کتا ب’’ کشمیر فوک لور‘‘ میں نور محمد کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نور محمد تاجر کتب قابل تحسین ہیں جنہوں نے اُس زمانے میں کشمیری ادب کو کم قیمت پر شہر و دیہات پہنچاکر اسے مقبول بنانے میں اہم رول ادا کیا ۔عبدالاحد آزادؔ نے کشمیری ادب پر لکھی ہوئی تاریخ میں اکثر جگہوں پر نور محمد کی ادبی خدمات کا ذکر کیا ہے ۔آزادؔ کا ابتدائی کلام نور محمد نے ہی شایع کیا تھا۔وادی کے سرکردہ مصنف ،قلم کار زیڈ جی محمد نے اپنے مضامین پر مبنی کتاب  city  dream  Srinagar my میں لکھا ہے کہ شہر خاص میں مشہور کتب فروش غلام محمد نور محمد تاجران کتب کی دوکان مہارج گنج میں واقع تھی ،اس کا مالک نور محمد ایک دانش ور اور مدبر شخص تھا ،یہ دوکان صرف کتاب گھر نہ تھا بلکہ ادیبوں ،علماء دانشوروں اور لیڈروں کا مرجع بھی تھا، جہاں پر ادبی و سیاسی محفلیں ہوا کرتی تھیں۔اس کے علاوہ بہت سارے مورخین اورقلم کاروں نے بھی نور محمد کی ادبی وعلمی،دینی و سیاسی خدمات کا ذکر کیا ہے ۔جن کایہاں تذکرہ کرنے کی گنجائش  نہیں۔ الغرض نور محمد صرف تاجر ِ کتب ہی نہ تھے بلکہ دو اہم کتابوں کے مصنف بھی تھے:ایک ’’تاریخ کشمیر کی روزانہ ڈائری‘‘ ،دوسری ’’ترانہ ٔ مسلم ‘‘۔ مرحوم ناشر کتب کو تاریخ کشمیر پر گہری نظر تھی اوریہاں کی ادبی ،سیاسی تاریخ کا بھی انہیں کافی وسیع مطالعہ تھا ۔جب بھی کوئی محقق ،ادبی، علمی مذہبی یا سیاست شخصیت اُس زمانے میں کشمیر کی سیر وسیاحت کے لئے واردِ بہشت  ہوتی تو وہ ضرور نور محمد سے ملتی تھی اور کشمیر کے بارے میں اُن کے علمی و تاریخی معلومات سے استفادہ کرکے بغیر واپس نہ لوٹتی تھی۔ آج ان عظیم علمی شخصیات کا ذکر خیر کر کے ناچیز علم واداب کے ان ناقابل فراموش شہسواروں ، کشمیری شعروکلام کے دلدادوںاور تاریخِ وطن کے نکتہ شناسوں کو دل کی عمیق گہرائیوں سے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اللہ کے حضور دست بدعا ہوں کہ ان کے درجات بلند فرمائے۔
رابطہ9796930055