غزہ میں 2صحافیوں کے 30افرادخانہ ہلاک

 یواین آئی

غزہ// غزہ کے جبالیہ پناہ گزین کیمپ کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فضائی حملے میں دو صحافیوں کے خاندان کے 30 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان صحافیوں میں سے ایک کا تعلق الجزیرہ سے ہے اور ایک کا تعلق سی این این سے ہے۔الجزیرہ کے نامہ نگار مومن الشریفی کے والد، والدہ اور کئی بہن بھائی اس حملے میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دھماکہ خیز بیرل ان کے گھر پر گرا جس سے گہرا سوراخ ہو گیا۔انہوں نے الجزیرہ کو بتایا کہ “ہمیں اپنے پیاروں کو الوداع کہنے سے روکا جاتا ہے اور مناسب تدفین سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔” اس تباہ کن حملے کے نتیجے میں الشریفی کے خاندان کے کم از کم 21 افراد ہلاک ہو گئے جن میں ان کی بھانجی اور بھتیجہ بھی شامل تھے۔ایک بیان میں الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک نے اسرائیلی حملے کی مذمت کی اور کہا کہ وہ اس جرم کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے تمام قانونی اقدامات کرے گا۔نیٹ ورک نے کہا کہ “یہ خوفناک واقعہ بدھ کے روز جبالیہ کیمپ میں پیش آیا، جہاں مومن کے خاندان نے پناہ لی تھی، جس کے نتیجے میں اس کے والد، والدہ، تین بہن بھائیوں اور ان کے بچوں کو قتل کر دیا گیا۔‘‘بیان میں کہا گیا ہے کہ “الجزیرہ عالمی برادری اور آزادی صحافت کی تنظیموں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ان قتل عام کو فوری طور پر ختم کرنے کے لیے کام کریں اورمہلوک اور بے گناہ متاثرین کے خاندانوں کے لیے فوری انصاف کو یقینی بنائیں”۔قبل ازیں منگل کو غزہ سے رپورٹنگ کرنے والے سی این این کے صحافی ابراہیم دہمان کے مصر جانے کے بعد انہین اپنی خالہ کے گھر پر حملے میں کم از کم نو رشتہ داروں کی المناک موت کے بارے میں معلوم ہوا۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں گھر میں دھماکہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔