غزلیات

غزل
خانۂـ غم میں ہے کیوں اندھیرا بہت
دل یہی سوچ کر آج رویا بہت
میرے مولا ترا شکر کیسے کروں
میں نے کھویا ہے کم اور پایا بہت
آج کل صرف چہروں کو پڑھتا ہوں میں
میرے پاس علم یہ بھی ہے تھوڑا بہت
حرف حق پڑھنے والے ملے ہی نہیں
ساری دنیا کو میں نے کھنگالا بہت
کل مجھے خواب میں اک سمندر ملا
اور میں رات بھر اس میں تیرا بہت
ڈوبنے والا ہی یہ بتا پائے گا
اس کو تنکے کا بھی ہے سہارا بہت؟
زندگی کے سفر میں بہت کچھ ملا
راستے بھر مگر لڑکھڑایا بہت
شمسؔ مہر و محبت میں اخلاص میں
فائدہ تو ہے لیکن خسارہ بہت
 
ڈاکٹر شمس کمال انجم
صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری
موبائل نمبر؛9086180380
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 سرکارِ کربلا مرے سرکارِ کربلا 
چشمِ کرم ہو میں بھی ہوں بیمارِکربلا
سرکارِ کربلا مرے سرکارِ کربلا
اے شمر عین سجدے میں قتلِ حسینِ پاک
تجھ سے تو شرم کھا گئے کفارِ کربلا
اس دشتِ  نے نوا کو عطا کرکے اپنا خوں
شبیر نے بنا دیا گلزارِ کربلا
دنیا میں جو نہیں تو قیامت میں ہی سہی
ہونا پڑے گا سب کو پرستارِ کربلا
دے دے خدایا سب کو ہدایت مری طرح
ہاں کھول دے سبھی پہ تو اسرارِ کربلا
اب قبر کے اندھیروں کی پرواہ کیا کریں
جب ساتھ ہے تجلیٔ انوارِ کربلا
آلِ نبی پہ کرتے ہوئے ظلم اور ستم
حیوان بن گئے تھے ستم گارِ کربلا
اک لب بھی تر نہ کر سکے اور ہوگئے شہید
کیسے بیاں ہو رنجِ علمدارِ کربلا
مولا ترا "ذکی" بھی ہے دیوانہء حسین
اس کو بھی ہو زیارتِ دربارِ کربلا
 
ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادت گنج ، بارہ بنکی ، یوپی
موبائل نمبر؛7007368108
 
 
 
 
 
تعزیت 
کہانی
رئیس احمد کمار 
باپ کے وصال کے موقعے پر تینوں بھائی غمزدہ لمحات گزارتے ہوئے ایک الگ کونوں میں لوگوں کی باتیں، جو تعزیت پرسی کےلئے آرہے تھے، بغور سنتے تھے ۔ انکا باپ ایک غریب اور مفلس آدمی تھا ۔ کافی محنت و مشقت کرتے ہوئے وہ گھر کی کفالت کرتا تھا ۔ کافی عرصہ تک بیمار رہنے کی وجہ سے گھر کی حالت کافی بگڑی تھی ۔ وہ نہ نیا مکان اپنے بچوں کے لئے بنا سکا نہ ہی کسی اور قسم کی ترقی کر پایا ۔۔۔
تعزیت پرسی کرنے جو لوگ آتے تھے وہ بجائے ان بھائیوں کو حوصلہ و ہمت دیں ، صرف یہ باتیں دوہرا رہے تھے کہ انہوں نے کچھ حاصل ہی نہیں کیا ہے ۔ نہ کوئی اچھا سا مکان بنایا ہے اور  نہ ہی گھر میں کوئی سہولت رکھی ہے ۔ زندگی انہوں نے صرف گھومنے پھیرنے میں ہی صرف کی ہے ۔ اگر زندگی میں کچھ کمایا ہوتا تو یہاں ایک شاندار مکان اور ہر قسم کی سہولیت موجود ہوتی ۔ انہوں نے کچھ حاصل ہی نہیں کیا ہے ۔ یہاں آکر انسان دکھی ہو جاتا ہے۔۔۔
بیچارے تینوں بھائی کسی کو بھی واپس جواب نہیں دے پا رہے تھے بلکہ پشیمانی کی حالت میں یہ مصیبت کے لمحات گزار رہے تھے ۔۔۔۔
رات کے بارہ بجے جب محلے کے سبھی لوگ اپنے اپنے بستروں میں سوئے ہوئے تھے اچانک زوردار زلزلوں کے کئی جھٹکے محسوس کئے گئے ۔ محلے کی پوری بستی تباہ و برباد ہو گئی ۔ عالیشان بنگلے، امیر لوگوں کی حویلیاں اور مضبوط مکان منٹوں میں زمین بھوس ہوگئے ۔ لوگوں کے لئے یہ قیامت سے کم نہ بھی۔ اپنا نقصان دیکھ کر کئی اشخاص کی جانیں دل کا دورہ پڑنے سے چلی گئیں ۔۔۔
محلے کی مسجد کمیٹی نے توبہ استغفار کی مجلس کا اہتمام کیا ہے ۔ سبھی لوگ امیر ، غریب، ملازم اور مزدور مسجد کی طرف دوڑ رہے ہیں ۔ تینوں بھائی بھی مجلس میں شرکت کرنے کی غرض سے مسجد کی طرف جارہے ہیں ۔۔۔۔
راستے میں جو بھی شخص ان سے ملتا ہے یہ کہتے ہوئے چلا جاتا ہے۔۔۔
" آج ہم لوگ آپ سے بدتر ہوئے ہیں ۔ آج آپ اور ہم میں واقعی کوئی فرق نہ رہا ۔ ہماری ساری کمائی ہوئی جائداد ، عالیشان بنگلے منٹوں میں تباہ ہوگئے ۔ کبھی بھی اپنی جسمانی طاقت اور دولت پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ غربت، بیماری اور مصیبت آنے میں دیر نہیں لگتی ہے"۔۔۔
���
بری گام قاضی گنڈ 
 
 
 
 
خواب و اَرمان
جن کو کندھوں پہ لئے گئے ہم گورستان
اور سپردِ خاک کیا۔۔۔کلمۂ شکر کے ساتھ 
وہ ہماری اپنی کہانیاں تھیں۔ بستی کی کہانیاں۔۔۔ یاروں، عزیزوں، پیاروںکی کہانیاں۔۔۔
ان کے ساتھ گزرے تھے ہمارے ماہ وسال
کچھ حسین پل
کچھ راز کہے تھے 
باتیں ہوئی تھیں
راہ کی باتیں
چاہ کی باتیں
خواب کی باتیں
افسانہ باتیں
جیون اور موت کی باتیں
رنگ کی باتیں
سرخ لہو کی شعلہ باتیں
شان کی باتیں
سر کو کھڑا رکھنے کی باتیں
ایمان کی باتیں۔۔۔۔۔۔
 
کیسے بھولیں گے ہم وہ پل
جگ چھل ہے رہنا سوچ میں چل
 
مشتاق مہدی
ملہ باغ حضرتبل سرینگرفون نمبر9419072053
 
 
دِلّی 
لُٹی تو بھی انیکوں بار دِلّی
کہ تُجھ سا کو ن ہے غمخوار دِلّی
ہُوا تجھ پر ہوس والوں کا قبضہ
نہ وہ تُو ہے، نہ وہ دربار دِلّی
زبوں حالی بدلتی ہے تری کب؟ 
بدل جاتی ہے بس سرکار دِلّی  !
وقارِ نثر بھی ہے، نظم بھی ہے 
ادب کی تُو علمبردار دِلّی
خیال و فکر کی زینت ہے تجھ سے 
قلم کاروں کی تُو معیار دِلّی
شجر جیسے ہو سایہ دار دِلّی
ترے غاؔلب کے یوں اشعار دِلّی
ریا کاروں کی صف میں آ گئے کیا؟
ترے شاعر، ترے فنکار دِلّی!
رئیسؔ، اس بات کا ہر دم ہے قائل
تِر ے ہیں مستند افکار دِلّی
 
رئیس ؔ صِدّیقی
آکاشوانی و دوردرشن کے سابق آئی بی ایس آفیسر
موبائل نمبر؛9810141528
 
 
دُعا
دُعا ہے یہ میری خُدایا تُو سن لے
مجھے نیک بندوں میں یارب تُو چُن لے
مُجھے سیدھا رستہ دِکھا میرے مالک
مرے خستہ دل کو جگا میرے مالک
گُناہوں کے دلدل میں آ کے پھنسا ہوں
درِ یار پہ میں فُسردہ پڑا ہوں
تُو شاہِ جہاں ہے تُو رحمت سدا ہے
دکھانے کو تیرے مرے پاس کیا ہے
اُجالا تو کر دے مری زندگی میں
کروں زندگی میں فدا بندگی میں
گُناہوں سے یا رب کَرم مانگتا ہوں
ترا بندہ ہو کے اِرم مانگتا ہوں
کہاں جاؤں تیرے سوا کون میرا
ترا بول بالا تُو مالک تُو آقا
پڑا در پہ سر خم میں یاورؔ جیا اب
گُناہوں کی بخشش سے پاؤں خدا اب
 
یاورؔ حبیب ڈار
بڈکوٹ ہندوارہ کپوارہ ،کشمیر
موبائل نمبر؛9622497974
 
 
غزلیات
وقت کے آلام میں ہر شخص ہے الجھا ہوا
میں اکیلے ہی نہیں وحشت زدہ ٹوٹا ہوا
اے مسیحا چھوڑ دے اب حال پر اپنے مجھے 
زخمِ دل چارہ گر ی سے اور بھی گہرا ہوا 
آگ گلشن میں لگائی سرکشوں نے ہی مگر
سر کسی معصوم کا ہے دار پر لٹکا ہوا 
موت کی دہلیز کے آگے کھڑی ہے زندگی 
میں ابھی ہوں مال و زر کی حرص میں الجھا ہوا
برق سے پہلے ہوا نے سازشیں کی اس قدر
راکھ کی صورت نشیمن ہے مرا،بکھرا ہوا
دیکھ کر وحشت زدہ ہوں میں چمن کے حال پر
شاخِ گل ہے باغباں کے خوف سے سہما ہوا 
لاکھ تدبیریں کی عارفؔ کچھ نہیں بدلا مگر
جو مقدر میں خدا نے تھا مرے لکھا ہوا
 
جاوید عارف
شوپیان کشمیر
موبائل نمبر؛7006800298
 
 
آئوگے تم تو شوق سے پلکیں بچھائینگے
ہیں درمیاں جو فاصلے اُنکو مٹائینگے
اُجڑ ہوا ہے ہر سُو نشیمن مرا تو آ!
سامانِ ذوقِ و صل سے اسکو سجائینگے
صیاد چلا تیر تُو جتنے ہیں تیرے پاس
سینے کی وسعتوں میں ہم اُنکو دبائینگے
اُجڑا ہے چمن دل کا تری فرقتوں سے اب
آ! مل کے پھر بہار سے اسکو سجائینگے
ہو شور وشر بھلے ہی ہر اک سمت ہر اک سُو
آہٹ ترے قدموں کی ہم پہچان جائینگے
شکوے ہزار ہا ہوں مجھے آپ سے تو کیا؟
دیدار ہونگے تیرے تو سب بھول جائینگے
راشد ؔبھٹک نہ جائے اندھیروں کے نگر میں
ہم روشنی کے واسطے دل کو جلائینگے
 
راشد ؔاشرف
کرالہ پورہ سرینگر
موبائل نمبر؛9622667105