غزلیات

ہنسی ہنسی میں کوئی کھیل چل رہا ہوگا
سڑک پہ کوئی انسان جل رہا ہوگا
 
بہت اُداس ہیں حاکم اگر تو شہر میرا
کسی فساد کے سانچے میں ڈھل رہا ہوگا
 
جو گرم چھینٹے ہوائوں کے ساتھ آئے ہیں
کسی کی آنکھ کا پانی اُبل رہا ہوگا
 
اندھیری رات میں ٹپکا تھا خونِ دِل جس میں
اُسی چراغ سے سورج نکل رہا ہوگا
 
کنواری لاش کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھو
حسین خواب ابھی تک مچل رہا ہوگا
 
وہیں وہیں پہ چلیں گے یہ تیز خنجر بھی
جہاں پہ حاکمی اخبار چل رہا ہوگا
 
بدل رہی ہے قفس میں ہوا اگر پنچھیؔ
تو مقتلوں میں بھی موسم بدل رہا ہوگا
 
سردار پنچھیؔ
 
جیٹھی نگر، مالیر کوٹلہ روڑ، کھنہ141401پنجاب
موبائل نمبر؛94197091668
 
پھول سے خار کا شبنم سے شرر کا رشتہ 
روزِ اول ہی سے ہے سنگ سے سرکا رشتہ
 
جہل کا رنگ جدا، راہ فراست کی الگ
ظلمتِ شب سے نہیں نورِ سحر کا رشتہ
 
فکر و احساس سے خالی ہے ہُنر کا دامن
اب کہاں رنگِ بصیرت سے نظر کا رشتہ
 
پائوں اُٹھتے ہی نہیں جانبِ صحرا میرے
کتنا مربوط ہے مجھ سے مرے گھر کا رشتہ
 
ہر نیا موڑ بدل دیتا ہے سمتِ منزل
ہر نئے نقش سے ہے پائے صفر کا رشتہ
 
شہرِ خوباں کا ہر اک چہرہ ہے معصوم صفت
کس سے منسوب کروں زخمِ جگر کا رشتہ
 
سطحِ ساحل پہ بھی آکر نہیں ٹوٹا یارو
وہ جو تھا میرے سفینہ سے بھنور کا رشتہ
 
عصرِ نو کی ہے نمائندہ غزل تیری وحیدؔ
ذہنِ فردا سے بھی ہے تیرے ہُنر کا رشتہ
 
وحید مسافرؔ
باغات کنی پورہ
موبائل نمبر؛ 9419064259
 
جب سے مرے رقیب کا رستہ بدل گیا 
تب سے مرے نصیب کا نقشہ بدل گیا
 
شیریں تھا کتنا  آپ کا  اندازِ گفتگو 
دو چار سکے آتے ہی لہجہ بدل گیا
 
کس کی زبان سے مجھے دیکھو خبر ملے
کیسے مرے حریف کا چہرہ بدل گیا
 
اْن کے بدلنے کا مجھے افسوس کچھ نہیں
افسوس یہ ہے اپنا ہی سایہ بدل گیا
 
جب سے بڑوں کی گھر سے حکومت چلی گئی
جنت  نما مکان کا   نقشہ بدل گیا
 
راہوں کی خاک چھانتا پھرتا ہوں آج تک
"رہبر بدل گیا کبھی رستہ بدل گیا"
 
کہتاہے اُسکے جانے سے کچھ بھی نہیں ہوا
مہتابؔ،جبکہ دل کا وہ ڈھانچہ بدل گیا
 
بشیر مہتابؔ
رام بن 
موبائل نمبر؛ 9596955023
 
 
جب سے مرے رقیب کا رستہ بدل گیا 
تب سے مرے نصیب کا نقشہ بدل گیا
 
شیریں تھا کتنا  آپ کا  اندازِ گفتگو 
دو چار سکے آتے ہی لہجہ بدل گیا
 
کس کی زبان سے مجھے دیکھو خبر ملے
کیسے مرے حریف کا چہرہ بدل گیا
 
اْن کے بدلنے کا مجھے افسوس کچھ نہیں
افسوس یہ ہے اپنا ہی سایہ بدل گیا
 
جب سے بڑوں کی گھر سے حکومت چلی گئی
جنت  نما مکان کا   نقشہ بدل گیا
 
راہوں کی خاک چھانتا پھرتا ہوں آج تک
"رہبر بدل گیا کبھی رستہ بدل گیا"
 
کہتاہے اُسکے جانے سے کچھ بھی نہیں ہوا
مہتابؔ،جبکہ دل کا وہ ڈھانچہ بدل گیا
 
بشیر مہتابؔ
رام بن 
موبائل نمبر؛ 9596955023
 
غزلیات
بنتی نہیں ہے بات کبھی این وآن سے
بنتی ہے یہاں بات مگر مشقِ جان سے
بنتی ہے، بگڑتی ہے زندگی میں بات بات
ہے بات ، گزرے خیر سے جو اِمتحان سے
بڑھتے ہیں قدم زندگی میں دل کے سہارے
کھلتے ہیں دریچے بھی مگر اطمینان سے
خائف نہ ہو ہوائے تُند سے شمع ساں کوئی
ملتا ہے ہر اِک حوصلہ حُکمِ اذان سے
بے لاگ بات خود ہے اِک آئینہ بے مثال
پھر شانِ رفتہ چاہئے امن و امان سے
نفرت کی بچھادی نہ جائے گی اگر چادر
آتے ہیں نِکل لال و گُل نیستان سے
انساں صفت انسان پر آتا ہے پیار میرؔ
سُنتے ہیں یہی بات ہر اِک نکتہ دان سے
 
ڈاکٹر میر حسام الدین 
گاندر بل کشمیر
 
 
زندگی خود سے نا آشنا ہوگئی 
دیکھتے دیکھتے ہی خفا ہوگئی
آج تک راز اس کا نہیں کُھل سکا
چاک میری ہی کیوں یہ قبا ہوگئی
بعد اس کے تو صدیاں ترستی رہیں
جب بھی لمحوں سے کوئی خطا ہوگئی 
دین سے جب سیاست ہوئی ہے الگ
جسم سے جان جیسے جدا ہوگئی
میں مسلماں ہوں کوئی تو کہہ دو ذرا
میری منزل کہاں لاپتہ ہوگئی 
سربکف ہم ہی ڈٹ کر کھڑے ہوگئے 
جب بھی ہم سے مخالف ہَوا ہوگئی
یاخدا بھیج دے ابنِ قاسم کوئی
ظلم کی آج کل انتہا ہوگئی 
عمر بھر کچھ نہ احساس تھا اشتیاقؔ
زندگانی یہ کیسے فنا ہوگئی
 
اشتیاق?ؔکاشمیری
آرونی اسلام آباد،رابطہ۔ 9906633828
 
 
مر مر کے بھی جینے کا انداز نرالا ہے
رشتوں میں محبت کا آغاز نرالا ہے
 
اْڑ اُڑ کے فضاؤں میں دیکھا ہے یہی میں نے
بے گھر تو ہے بے شک، شہباز نرالا ہے
 
افلاک کی دنیا کو لمحوں میں جو دیکھا ہے
اسرار کی دنیا کا یہ راز نرالا ہے  
 
کیا خوب سجائے ہیں، بہکائے گا دنیا کو
تعمیر و ترقی کا بت ساز نرالا ہے
 
ایثارؔ سویرے اُٹھ، چھائوں میں حرم کی جا
سن بادِ صبا حی کا کیا ساز نرالا ہے
 
ایثارؔ پرویز احمد وانی
لعل پورہ ترال، موبائل نمبر؛7569582269
 
 
بے وفا شخص کبھی یار نہیں ہو سکتا
وہ کسی کا بھی وفا دار نہیں ہوسکتا
پیار ہے دل میں تو اظہار نہیں ہو سکتا
اور ہو جائے تو انکار نہیں ہو سکتا
جس نے ہر لمحہ مجھے پیار کا قاتل سمجھا
میرا دشمن ہے وہ غم خوار نہیں ہو سکتا
زخم ہی زخم مجھے دیتا رہا جو صاحب
یار ہے گرچہ مرا یار نہیں ہوسکتا
زندگی اپنی مجھے جس نے بنایا یارو
کیا میں اس کے لیے بیمار نہیں ہو سکتا
جو مجھے چھوڑ گیا دنیا میں تنہا کرکے
ہائے اس کا کبھی دیدار نہیں ہو سکتا
اتنی الفت ہے تجھے یار سے اپنے بسملؔ
ایک پل اس سے تْو بیزار نہیں ہو سکتا
 
سید بسملؔ مرتضیٰ
شانگس اننت ناگ کشمیر 
طالب علم :ڈگری کالج اترسو شانگس 
9596411285 
 
 
ٹو ٹ جاتے ہیں شاخوں سے بکھر جاتے ہیں
زیست پتے یہ ترے اُڑ اُڑ کے کدھر جاتے ہیں
 
اب تو گزری ہے، گزرجائیگی آگے بڑھکر
زخم دیتے ہیں جو، وہ بھی تو گذرجاتے ہیں
 
آج کے دور میں جو رہتے ہیں حقیقت سے پرے
جانے کیوں سامنے آکے وہ نکھر جاتے ہیں
 
غم کے یہ بوجھ تو تھک ہار تمہیں ڈھونے ہیں
آخرش منزلِ مقصود پر آکے یہ اُتر جاتے ہیں
 
بچے کیا کیا نہ کریں ہنگامہ طرازی دن بھر
بیگ کا ندھوں یہ جوچڑھتا ہے، سدھر جاتے ہیں
 
آسماں،چاند ستارے، یہ زمین کے ذرّے
کیوں سکینہ ؔترے لفظوں سے سنور جاتے ہیں
 
سکینہؔ اختر
کرشہامہ کنزر بارہمولہ
موبائل نمبر؛9622897729
 
 
 
 
غزل
 
نوازش ہے تیری یادوں میں ہر لمحہ بسر ہونا
میری شب کے چراغوں کا تیرے غم کی نذر ہونا
 
کسی کا دردِ سر لے کر شہیدِ بے سپر ہونا
ستم ہے کارِ الفت میں کسی کا نامہ بر ہونا
 
ہوائوں کے تغیر پر اصولوں سے مکرتے ہیں 
جنہیں آسان لگتا ہے کسی کا ہم سفر ہونا
 
بڑی کمسن محبت تھی بہت سادہ تقاضے تھے
تبسم کے اشاروں پر تکلم مختصر ہونا
 
ہماری دید پر  رنگِ تلتف رخ سے اڑتے ہیں 
وہ بیتے کل کی باتیں ہیں میرا لختِ جگر ہونا
 
وفا کا درس دیتے ہیں صنم مجھکو کہ بھولے ہیں
میرا شعلوں پہ جل جانا ، میرا نیزوں پہ سر ہونا
 
جفا ظاہر نہیں تم میں مگر باعث تعجب ہے
وفا کے عہد پر قائم تمہارا اس قدر ہونا!
                              
زہے قسمت یہ ممکن ہو کہ آئیں وہ دوا کرنے  
رقم ہو دستِ ساغرؔ میں دوا کا بے اثر ہونا
 
مرچال وسیم ساغر ؔ 
ہردوشیواہ سوپور،رابطہ :9797036613
 
 
 
تعجب جابہ جا ہے اور میں ہوں
بڑی گہری گھٹا ہے اور میں ہوں
بہت مشکل ہے جس میں سانس لینا
وہ زہریلی ہوا ہے اور میں ہوں
جو اس دل میں ہے قائم بے قراری 
کہیں حد سے سوا ہے اور میں ہوں
بڑی مدت سے ہے یہ فیض جاری 
ستم ہر اک روا ہے اور میں ہوں
کسی سے کہہ نہیں پایا میں اب تک
وہ دل کا مدعا ہے اور میں ہوں
نظر میں دور تک دہشت ہے طاری
برابر خوف سا ہے اور میں ہوں
غموں کا سلسلہ ہے اور میں ہوں
دلِ درد آشنا ہے اور میں ہوں
پلٹ آئے وہ دور امن و اماں کا
یہ دل محوِ دعا ہے اور میں ہوں
میں جس ماحول میں ہوں عرش ؔزندہ 
سراسر کربلا ہے اور میں ہوں
 
عرش صہبائیؔ
53، ریشم گھر کالونی، جموں
موبائل نمبر؛8493876473,  0191-2544088
 
 
 
منتہائے فکر عالمی شعری گروپ 
چوتھا طرحی صوتی آن لائن مشاعرہ 
محتشم احتشام
 
منتہائے فکر عالمی شعری وٹس ایپ گروپ کے ماہانہ تین کامیاب مشاعروں کے بعد 18 نومبر2017ء بروز سنیچر شام ساڑھے آٹھ بجے چوتھا آن لائین طرحی صوتی مشاعرہ منعقد کیا گیا ۔اس دوران منتہائے فکر گروپ کی انتظامیہ کی جانب سے مرتب پرگرام میں نظامت کے فرائض بہترین لب و لہجہ کی مالک معروف شاعرہ محترمہ ڈاکٹر حنا عنبرین نے کنیڈا سے انجام دیتے ہوئے منتہائے فکر وٹس اپ گروپ کے بانی و چیف ایڈمن ذوالفقار نقوی کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دورِ حاضر کی تیزرفتار زندگی میں شعراء کی مصروفیات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس ادبی گروپ کی بنیاد رکھی۔انہوں نے کہا کہ آج کے اس دور میں کے جب ہر شخص وقت کی قلت سے دوچار ہے یہ نظام ان کے ذوق و شوق کو مزید پروان چڑھانے کا ذریعہ ہے اور اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کو نکھارنے سنوارنے کا بہترین و نایاب موقع ہے۔انہوں نے کراچی سے محترم المقام علی مزمل کو مسند صدارت پر تشریف فرما ہونے کی اپیل کی جبکہ اس بزم میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے بنگلور سے محترم المقام عزیز بلگرامی کو تشریف فرما ہونے کی دعوت دی گئی۔
بعد ازاں عالمی طرحی صوتی آن لائن مشاعرہ کا آغاز باضابطہ تلاوت کلام پاک سے کیا گیا جس کے بعد ناظم مشاعرہ نے نعت پاک کے لئے محترم الحاج محمد افضل کو دعوت دی جنہوں نے اپنی بہترین مترنم آواز میں سعودی عرب میں مقیم محترم سجاد بخاری کا بہترین نعتیہ کلام جس کا مطلع کچھ اس طرح تھا 
درِ رسول سے نسبت اگر نہیں ہوتی 
بہشت ہوتی مگر معتبر نہیں ہوتی
پیش کر کے خوب داد وتحسین حاصل کی ۔
اس مشاعرہ کے لئے دیئے گئے دو طرحی مصرعوں 
نمبر 1
کہ تھک گئے ہم حسابِ لیل و نہار کر کے
(عرفان ستار) 
نمبر 2
دیارِ دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا
(ناصر کاظمی ) 
میں سے شعراءکرام کو کسی ایک یا دونوں مصرعوں پر طبع آزمائی کا اختیار دیا گیا تھا ۔ نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے محترمہ ڈاکٹر حنا عنبرین نے تمام شعراءکو باری باری اپنا کلام پیش کرنے کی دعوت دی اورساتھ ہی سب کوخوب داد و تحسین سے بھی نوازتی رہیں۔ یہ مشاعرہ دیر رات گئے تک جاری رہا اور حاضرین خوب لطف اندوز ہوتے رہے۔
قارئین کی دلچسپی کے لئے شعراء کرام کے کلام سے نمونے کے طور پر اشعار پیش ہیں۔
صفیر صدیقی
چڑھا رہا ہوں غلاف چہرے پہ خوش دلی کا
تمہاری خوشبو پہ اپنے ارماں نثار کر کے
*****
محتشم احتشام بٹ
مرا نبی تھا دوستو جو اسکے دشنوں پہ بھی
پڑا جو وقت رحمتوں کے کارواں لٹا گیا
وہ بات شاید تمہارے دیدار میں نہ ہوگی
جو لطف پاتا رہا ہوں میں انتظار کر کے
*******
محترم امید اعظمی
ملا تو کچھ خوشی نہیں گیا تو کوئی غم نہیں
جو میرے ہاتھ ہے وہ ہے جو ہاتھ سے گیا گیا
******
 شکیل انجم جلگاؤں
خلوص پیار کا سبق کچھ اس طرح پڑھا گیا
جہاں گیا میں سنگ سنگ آئینہ بنا گیا
*******
  مصطفٰی دلکش
سلگ رہے ہیں ہم اِدھر، سلگ رہے ہیں وہ اُدھر
ہمارے درمیاں یہ کون آگ سی لگا گیا
******
ذوالفقار نقوی
کسی کو یاد تک نہیں وہ اک صدائے بے صدا
 جو کرچیوں میں بانٹ کر، وہ شہر کو سنا گیا
********
 شمشاد شاد
یہ انتہا نہیں تو اور کیا ہے اس کے ظلم کی
غموں سے مظمئن تھا میں،وہ بے سبب ہنسا گیا
*******
ساجد حمید
وہ آئیں گے جب نظر کو اپنی ستار کر کے
ملیں گے ہم بھی سماعتوں کو بہار کر کے
*******
آلوک کمار شریواستو "شاذ" جہانی
خدا کرے خیریت سے ہوں وہ، ہمارا کیا ہے 
گزار لیں گے یہ شب بھی ہم انتظار کر کے
*******
انجم شافعی
 یہ کیسا دور آگیا کہ میکدے میں زیست کے 
بلک بلک کے ساقیا شراب غم پلاگیا
*******
 عزیز بلگامی
گماں ہمارا یہی کہ آب حیات ہے یہ
پلا رہے ہیں وہ قند کو زیرِ مار کر کے 
********
 علی مزمل
میں اپنے اندر کا شخص پانے کی جستجو میں
بٹھک رہا ہوں قبائے جاں تار تار کرکے
********
الغرض صدرمشاعرہ محترم علی مزمل صاحب نے اپنا صدارتی خطاب میں تمام شعرائے کرام کے کلام کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ اول تا آخر تمام شعرائے کرام نے دیئے گئے مصرعوں پر عمدہ کلام پیش کیا۔انہوں نے ادارے کی انتظامیہ خصوصی طور پر ذوالفقار نقوی کو ایک اور کامیاب آن لائین مشاعرہ کروانے پر مبارک باد پیش کی۔انہوں نے انتظامیہ سے آئندہ بھی اسی نوعیت کے پروگرام کروانے کی اپیل کی تاکہ اردو کی ترقی وترویج میں معاون ثابت ہوں۔
آخر میں ذوالفقار نقوی نے تمام شعرائے کرام کا اور محترمہ حنا عنبرین صاحبہ کو اپنے فنکارانہ لب و لہجے سے اس محفل کو رونق بخشنے اور اپنا قیمتی وقت صرف کرنے پر تمام اراکین اور منتظمین کی جانب سے دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا.. انہوں نے ایوانِ صدارت میں تشریف فرما معززین کے علاوہ محترم المقام عرفان ستار صاحب اور تمام حاضرین محفل کا دلی طور شکریہ ادا۔
���