بلال فرقانی
سرینگر//جموں و کشمیر میںتعلیمی وظائف اور سکالرشپ سکیموںکیلئے گزشتہ 5 برسوں میں کروڑوں روپے مختص کیے گئے، لیکن ان میں سے بڑی رقم طلبہ تک پہنچنے سے پہلے ہی نظامی رکاوٹوں کی نذر ہوتی دکھائی دی ہے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ جموں و کشمیر میں گزشتہ 5برسوں کے دوران طلبہ کے لیے مختلف سکالرشپ اور وظیفہ جاتی سکیموں کے تحت خاطر خواہ بجٹ مختص کیا گیا، تاہم اس کے مکمل اور بروقت استعمال میں انتظامی چیلنجز درپیش رہے۔ 2025-2026 کے لیے تازہ ترین دستیاب معلومات کی بنیاد پر، جموں و کشمیر میں لڑکیوں کے لیے بنیادی سکیم جو مالی امداد اور بااختیار بنانے کیلئے متعارف کی گئی ہے، لاڈلی بیٹی سکیم ہے، اس کے ساتھ ساتھ انمول بیٹی یوجنا کے نام سے بھی ایک سکیم ہے۔
لاڈلی بیٹی سکیم ایک سماجی امدادی سکیم ہے جس کا مقصد جموں و کشمیرمیں نوزائیدہ لڑکی(خاص طور پر 1 اپریل 2015 کو یا اس کے بعد پیدا ہوئے)مالی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔اس سکیم کے تحت حکومت 14 سال کے لیے ماہانہ 1,000 کا تعاون کرتی ہے جوکل شراکت 1.68 لاکھ جمع سود سمیت بنتا ہے۔21 سال کا ہونے پر، فائدہ اٹھانے والے کو یکمشت رقم ملتی ہے، جو کہ تقریباً 6.50 لاکھ ہے۔والدین کی سالانہ آمدنی 75,000 سے کم ہونی چاہیے ۔یہ سکیم سرینگر، اننت ناگ، بڈگام، جموں، کٹھوعہ، پلوامہ، سانبہ، کشتواڑمیں لاگو ہے۔انمول بیٹی یوجنا بی پی ایل لڑکیوں کی تعلیم میں مدد کے لیے بنائی گئی ہے۔ بی پی ایل کی اہل طالبات کو ان کی تعلیم میں مدد کے لیے 5,000 کا سالانہ اسکالرشپ فراہم کی جاتی ہے۔اس کا مقصدجموں و کشمیر میں سکول چھوڑنے کی روک تھام اور لڑکیوں کے لیے اعلی تعلیم کی حوصلہ افزائی کرنا۔ انمول بیٹی یوجنا جو بالخصوص طالبات کی تعلیم کو فروغ دینے کیلئے متعارف کرائی گئی ہے ،کے تحت مالی سال 2019-20میں ایک کروڑ 20 لاکھ روپے مختص کیے گئے، جن میں سے ایک کروڑروپے استعمال ہوئے۔ 2020-21میں بجٹ 180 لاکھ روپے رہا، جس میں سے 175.68 لاکھ روپے خرچ کیے گئے، جبکہ 2021-22میں 180 لاکھ روپے کے مقابلے میں 174.7 لاکھ روپے استعمال ہوئے۔تاہم 2022-23میں اگرچہ 150 لاکھ روپے مختص کیے گئے، لیکن صرف 129.53 لاکھ روپے ہی خرچ ہو سکے۔ 2023-24میں بجٹ میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے 337.25 لاکھ روپے مختص کیے گئے، لیکن استعمال 243.7 لاکھ روپے تک محدود رہا۔اسی طرح اسٹیپنڈ اور اسکالرشپ سکیموں کے تحت 2019-20میں 180 لاکھ روپے مختص ہوئے، جن میں سے 117.36 لاکھ روپے استعمال کیے گئے۔ 2020-21اور 2021-22میں استعمال کی شرح بہتر رہی، تاہم 2022-23اور 2023-24میں ایک بار پھر نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ مالی سال 2023-24میں 161.5 لاکھ روپے کے مقابلے میں محض 72.52 لاکھ روپے ہی خرچ ہو سکے۔حکام کے مطابق ہر سال مستفید ہونے والے طلبہ کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے اور صرف ایک سال کے مستفیدین کی فہرست سینکڑوں صفحات پر مشتمل ہوتی ہے، جس کی وجہ سے تصدیق اور ادائیگی کے عمل میں تاخیر ایک بڑا مسئلہ بن جاتی ہے۔