عید

 
بازاروںمیں عید کی رونق لوٹ آ ئی تھی ۔دکانداروں نے اپنی اپنی دکانیں سجا رکھی تھیں ۔کپڑوں کی دکانیں ،مٹھائی کی دکانیں ،اور کھلونوں کی دکانیں اپنی سجاوٹ سے لوگوںکی بھیڑ کو اپنی طرف کھینچ رہی تھیں۔لوگ طرح طرح کی چیزیں خرید خرید کر گھر لے جا رہے تھے ۔اکثر  والدین اپنے بچوں کے لئے انواع و اقسام کے کپڑے اور کھلونے خریدنے میں مصروف دکھائی دے رہے تھے ۔ہر طرف  چندہ جمع کرنے والے لائوڈ اسپیکروں کے ذریعے لوگوں کو صدقہ و ذکوٰت دینے کے لئے ابھار رہے تھے ۔وہ عید کے اس مقدس دن پر غرباء ،مساکین اور یتیموں کو یاد رکھنے کی تلقین کر رہے تھے ۔
اسکول میں استانی صاحبہ بھی بچوں کوعید کے تہوار کے متعلق جانکاری دے رہی تھی اور سات سالہ لڑکا عاصم میڈم کے سامنے بیٹھ کر اس کی باتیں انہماک سے سن رہا تھا۔میڈم نے بچوں کو  بہت سی باتیں بتائیں مگر عاصم کو ان میںسے چند ہی باتیں یاد رہیں ۔
  ـــ’’عید کے دن سب اپنے اپنے گھروں کو لوٹ آتے ہیں ‘‘
  ’’عید کے دن مختلف قسم کی ضیافتیں اور پکوان پکائے جاتے ہیں ‘‘
  ’’لوگ ایک دوسرے کے گھرجاکر مبارک باد دیتے ہیں ‘‘
  ’’بچے اپنوں سے عیدی لیتے ہیں ‘‘
عاصم کے ذہن میں یہ ساری باتیں گونج رہی تھیں۔وہ عید کا بے صبری سے انتظار کر رہاتھا۔سوتے وقت اس نے ماں سے پوچھا’’امی عید آنے کتنے دن ہیں ‘‘۔’’ایک دن بھی نہیں ،کل عید ہے‘‘۔ماں نے جواب دیا۔یہ سن کر عاصم پھولے نہ سمایا۔اور رات بھر خیالوں میںڈوبا رہا۔     ’’پکوان ۔۔۔۔ ’’عیدی‘‘۔۔۔۔’’مبارکبادی‘‘۔۔۔۔۔’’لوگوں کا گھروں کولوٹنا‘‘۔۔۔استانی کی باتوں نے اسے سونے نہیں دیا۔ اس نے ساری رات کروٹیں  بدلتے گزاری۔
عید کے دن عاصم صبح سویرے اٹھا۔رات جن خیالوں میں اس نے گزاری تھی ان کے پورا ہونے کا وقت آگیا تھا۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں چمک تھی۔وہ بچوں کے ساتھ کھیلنے کے لئے چلا گیا۔محلے بھر کے بچے ایک جگہ جمع ہو کر کھیل رہے تھے ۔ایک دوسرے کواپنی اپنی چیزیں دکھارہے تھے۔ہر ایک کے پاس کھیلنے کے لئے اچھے اچھے کھلونے اور پہنے کو زرق برق کپڑے تھے۔ عیدی بھی جیب بھر ملی تھی لیکن عاصم پرانے کپڑے پہنے ،خالی جیب اور خالی ہاتھ لئے بچوں کے ساتھ کھیلتا رہا۔
دن ڈھلنے کے قریب تھا اور عاصم اپنے برآمدے میں اداس بیٹھا تھا ۔اس کا چہرا اترا ہوا تھا اور آنکھوں میں آنسوں جمع ہو رہے تھے، جو باہر آنے کے لیے بہا نہ ڈھونڈ رہے تھے ۔ماں نے اس کی طرف دیکھا تو پیار بھرے لہجے میں کہا :’’کیا بات ہے میرے لعل اداس کیوں ہو ؟‘‘۔
عاصم نے معصومانہ جواب دیا  :  ’’تم سب جھوٹ بولتے ہو ‘‘۔
’’کون جھوٹ بولتا ہے میرے جگر ‘‘ماں نے پوچھا۔
عاصم نے کہا ــ  :’’تم اور میڈم ۔تم روز کہتی ہو ابو جی آئیں گے اور میڈم نے بھی کہا تھا کہ عید کے دن سبھی اپنے اپنے گھر آتے ہیں ۔توبتا ابو جی کیوں نہ آئے؟،میڈم نے یہ بھی کہا تھا کہ عیدکے دن مختلف قسم کے پکوان پکائے جاتے ہیں ،بچوں کو عیدی ملتی ہیں اور لوگ ایک دوسرے کے گھر جا کر مبارک باد دیتے ہیں ۔امی نہ ہم نے پکوان کھائے ،نہ ابو جی آئے اور نہ کوئی ہمارے گھر آیااور نہ مجھے عیدی ہی ملی ‘‘۔
عاصم کو پچھلے کئی سالوں سے اپنے والد کا انتظار تھا جو اس وقت یہ دنیاچھوڑکرچل بسا تھا جب عاصم ابھی ایک سال کا ہی تھا اور اس کی ماں نے اپنی زندگی اور اپنے شباب کی تمام تمنائوں کو اپنے لخت جگر کے لئے قربان کر دیا تھا۔عاصم میں جب سے سوچنے کی صلاحیت پیدا ہو ئی تھی وہ اپنے باپ کو ڈھونڈ رہا تھا۔وہ اپنی ماں سے اکثر پوچھا کرتا تھا: ’’امی ابو جی کب آئیں گے‘‘ماں کا جواب ’’وہ ضرور آئیں گے‘‘سن کر خاموش ہو جاتا ۔
عید کی کوئی بھی خوشی نہ پاکر عاصم کو اپنے والد کی یاد ستانے لگی اور وہ زارو قطار رو نے لگااور اس کی ماں  نے اسے گلے لگا لیااور اس کی آنکھوں سے بھی آنسوں اولوں کی مانند گر رہے تھے۔
 
رابطہ؛بومئی زینہ گیر
موبائل نمبر؛9858493074