انسانی سماج کی بنیادی اکائی ایک خاندان ہوتا ہے اور خاندان مرد اور عورت کا نکاح کے ذریعے ایک جائز اور پاک رشتے میں منسلک ہونے سے وجود میں آتا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ سماج کا وجود ہی مرد اور عورت کے مابین تعلقات کے توازن پر مبنی ہے۔سماج کے اس بدن میں مرد وزن کے مابین تعلقات ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔مرد و زن کے مابین تعلقات کو توازن کے سانچے میں ڈھالنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسلام کی صورت میں کامل میزان انسانیت کو عطا کیا ہے۔سورۃ الحدید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے’’ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان اتاری تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں‘‘۔لیکن بدقسمتی سے مسلمانوں نے بھی اس میزان سے اپنا منہ موڑ کر مغرب کے میزان میں اپنا ہر معاملہ تولنا چاہا ہے۔جس کی وجہ سے آج ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں بے شمار معاملات میں مسلم عوام غیر اسلامی طریقے اختیار کرکے اپنی لا علمی، مرعوبیت اور بے غیرتی کا عریاں ثبوت پیش کر رہے ہیں وہیں معاشرتی یا سماجی سطح پر عورت مارچ کی شکل میں اپنے آپ کو اسلام سے دور رہنے اور ناپسند کرنے کا پوری دنیا کو پیغام دے رہے ہیں۔عورت مارچ دراصل مغرب کی حماقت اور ناہلی کا جشن ہے۔کیونکہ جب وہ لوگ عورت کو اپنا اصلی حق دینے میں کلی طور پر ناکام ہوچکے ہیں اور اس کے بدلے عورت کو مرد کی لذت کی تکمیل کا ذریعہ بنا کر اسے بے یارو مددگار سڑکوں، کلبوں، سینماہالوں، فلمی میلوں( Festivals Film)، فحاش خانوں، رقص گاہوں اور نہ جانے کن کن غلیظ جگہوں پہ چھوڑ کے خود پاگلوں کی طرح سر گرداں ہیں۔یہ عورت مارچ کا نعرہ لگانے والے لوگ عورت کو مرد کی ہمسری اختیار کرنے کے لئے اسے اشتعال دیتے آئے ہیں۔اس شیطانی کھیل میں ان کی جنگ مرد سے ہے اور اس جنگ میں وہ غیر محسوس طریقے سے مرد کی نفس ِ مردانگی کو للکار کر عورت پر ظلم کرنے کے لئے اسے تیار کر رہے ہیں۔عورت مارچ مغرب کی بدنیتی کا واضح ثبوت ہے۔ "ہم تو ڈوبے ہیں صنم ،شاتھ میںتم کو بھی لے ڈوبے گیں‘‘ کے مصداق مغرب مسلمانوں کے اس قابل ِ تحسین نظامِ معاشرت کو درہم برہم کرنا چاہتا ہے۔مغرب میں عورت کو خود شوہر سے ،بھائی سے،ماں باپ سے آزاد کرکے کے جو تباہی برپا ہوئی ہے اس کا نتیجہ صرف بڑے پیمانے پر ایک ڈپریشن کی صورت میں بر آمد ہوا ہے۔مغرب میں انسان کا ضمیر آمادۂ جنگ ہو چکا ہے۔عورت کو اپنے گھروں سے نکال کر اس شیطانی تحریک کے پیچھے شیطانی صفات کے حامل لوگ ہیں جنہوں نے Feminismکے نام پر عورت کو مکرو فریب کے دام میں گرفتار کرکے طوائفوں، اداکاراؤں ،فیشن ماڈلوں،کال گرلز وغیرہ جیسے غلیظ اور شرمناک پیشوں سے متعارف کرکے خلق خدا کو شہوت کے ماحول میں لپیٹا ہے۔اس ماحول میں میاں بیوی ،بھائی بہن کے مابین شک و شبہات کو وجود بخشا،جس کے نتیجے میں روزبروز گھر جھگڑوں کی آماجگاہیں بن رہی ہیں، طلاق کی شرح بڑھ رہی ہے،ناجائز اولاد کی کثرت ہو رہی ہے،ماں کی ممتا اور بہن کی عزت پامال ہورہی ہے۔
توازن کی عدم موجودگی میں مساوات کے نام پر خاندانی نظام کے ساتھ ساتھ سماج کی یہ خوبصورت عمارت بھی اپنا وجود قائم نہیں رکھ پائے گی جس کی درخشان مثال مغرب کا سماج ہے۔یہ ضروری نہیں کہ صرف مغرب میں ہی یہ تباہی برپا ہے بلکہ یہاں مشرق میں بھی جہاں جہاں مغرب کی پیروی ہوئی ،وہاں پہ تباہی کا منظر دیکھا جا سکتا ہے۔مغرب کے سماج میں کتنا بگاڑ ہے ،یہ اب کوئی ڈھکی چھپی حقیقت نہیں ہے۔اس کا استفسار آپ مغرب میں رہنے والے لوگوں سے کر سکتے ہیں۔مغرب میں نہ کوئی خاندانی نظام موجود ہے، نہ نسب محفوظ ہے اور نہ ہی رشتوں کی پاکبازی محفوظ ہے۔البتہ یہ کہنا بالکل صحیح ہو گا کہ وہاں پرخاندانی نظام، نسب اور رشتوں کی پامالی ہے۔مغرب کی عورت آج دورجدید میں سب سے زیادہ مظلوم ہے۔وہاں کی عورت کو اس سے نسوانی منصب چھین لیا گیا ہے۔ایک عورت کا عورت رہنا ہی اس کی عزت ہے ورنہ عورت جب اپنے نسوانی منصب سے نیچے اتر آتی ہے تو وہ مرد کے لئے محض ایک ذریعہ لذت بنتی ہے۔فطرت کی جکڑ اور پکڑ بڑی سخت ہوتی ہے ۔اس سے زبردستی آزاد ہونا انسان کو ایک نا بھرنے والے زخم سے دوچار کرتا ہے۔فطرت کے اس نظام میں عورت کا ایک خاص مقام ہے ۔اس مقام سے اپنے آپ کو ہٹا کر مرد کے مقام پر زبردستی براجمان ہونے سے اسے مرد کی عزت نہیں بلکہ اس کا قہر حاصل ہوتا ہے۔اس طرح سے گویاStruggle for Position والی صورتحال پیدا ہوگی۔ڈارون نے کہا تھا کہ Struggle for Existenceکے دوران وہی نوع زندہ رہ سکتی ہے جو مضبوط اور طاقتور ہوگی۔اسی تناظر میں دیکھا جائے تو تو مرد اور عورت کی اس جنگ برائے منصب (struggle for position) میں فطری طور پر مرد ہی غالب آئے گا لیکن اس منصب کی کشمکش کے نتیجے میں مرد اپنی مردانگی اور اناننیت کو بچانے میں عورت پر مختلف طریقوں سے ظلم کرتا ہے۔وہ مرد جو عورت مارچ کی تائید میں عورت کو بڑے سہانے خواب دکھا رہے ہیں دراصل عورت پر سب سے بڑا ظلم کرنے والے ہیں جو عورت کی معصومیت کا ناجائز فائدہ اٹھا کر عورت کا استیصال کر رہے ہیں۔عورت مارچ اصل میں مغرب کی ناکامی ہے ،مغرب کے پاگل پن کا اظہار ہے اور مغرب کا اس مرض کے خود ساختہ علاج کا پھیکاپن ہے۔
عورت کے حقوق کے ضمن میں مغرب کی دانش گاہوں کی طرف رجوع کرنے سے بہتر ہے کہ گھر کے طاقچہ میں موجود ایک ایک آیت میں ہزاروں حقیقی دانش گاہیں مستور رکھے ہوئے قرآن کو پڑھا جائے۔عورتوں کے حقوق کے نام نہاد علمبرداروں کے مقابلے میں ہمارا جواب قرآن کی صورت میں ہے۔عورت مارچ میں سب سے زیادہ غلیظ نعرہ جو لگایا گیا وہ "میرا جسم میری مرضی"کے ان مجموعہ الفاظ میں توازن کے بگاڑ کا اعلان تھا۔میں ان نعرہ لگانے والوں سے یہ کہتا ہوں کہ ٹھیک ہے میرا جسم میری مرضی، اگر آپ کے اس نعرے میں اتنی ہی کچھ قیمت اور وزن ہے تو اپنے جسم میں فی الحال ایک چھوٹے سے گوشت کے لوتھڑے کی حرکت پر اپنی مرضی چلائیں۔اس حرکت کا تیز یا مدھم ہونے پر تمہیں فوراً خدا یاد آتا ہے لیکن جب آپ کو اس کے حکم کے انتخاب کا معاملہ آتا ہے تو تب تم اپنی مرضی کی بات کرتے ہو۔دراصل اس مرضی کا انسلاک جب لذت کے ساتھ ہو تو تب یہی کرتب دکھائے جاتے ہیں۔تمہیں جب خدا بیماری میں یاد آتا ہے، پریشانی میں یاد آتا ہے، دکھ اور تکلیف میں یاد آتا ہے تو پھر آج جب کہ آپ اسی کے فضل سے مذکورہ بالا منفی کیفیات سے دور ہیں تو خدا کو بھول جاتے ہو!
مغرب پر اسلام کی حقانیت کا انکشاف ہوا ہے لیکن محض اپنی ہٹ دھرمی کے باعث اسلام کے ہر اصول کے خلاف آمادہ جنگ ہے۔مغرب نے پہلے اپنی عقل کا استعمال کرکے حیرت انگیز ایجادات و اکتشافات کیے،خوبصورت فلسفے گڑھ لئے اور دلفریب مادی ترقی کے مناظر قائم کئے۔وہ اتاولا ہو کر مذہب کا انکاری ہوا۔مذہب کے انکار کی آڑ میں دراصل اسے اسلام کی مخالفت مقصود تھی کیونکہ اسلام ہی ایسا دین ہے جس کے پاس مغرب کے ہر مفروضے کا توڑ موجود ہے۔مغرب نے سائنس کی پیٹھ پر سوار ہو کر اسلام کی مخالفت کی لیکن بعد میں ہر معاملے میں دبے الفاظ میں ہی صحیح اسلام کی حقانیت کا اعتراف کر لیا۔عورت کے معاملے میں بھی پہلے اس نے عقل کے بنیاد پر اس کی مرد کے مقابلے میں برابری کا نعرہ بلند کیا اور تا حال اپنی ناکام ضد پہ اڑا ہوا ہے۔سائنسی تحقیق کے مطابق ہی یہ بات اب ثابت ہو چکی ہے کہ عورت مرد کے برابر کسی بھی اعتبار سے نہیں ہے۔معروف کتابMan,The Unknownکے فاضل مصنف ڈاکٹر الیکس کارل لکھتے ہیں کہ"مرد اور عورت کے درمیان جو فرق پائے جاتے ہیں۔وہ محض جنسی اعضاء کی خاص شکل ،رحم کی موجودگی، حمل یا طریقہ تعلیم کی وجہ سے نہیں ہیں۔وہ اس سے زیادہ بنیادی نوعیت کے ہیں۔وہ خود نسیجوں (Tissues) کی بناوٹ سے پیدا ہوتے ہیں اور پورے نظامِ جسمانی میں خصوصی کیمیائی مادے کے سرایت کرنے سے پیدا ہوتے ہیں جو کہ خصیۃ الرحم سے نکلتے ہیں۔ان بنیادی حقیقتوں سے بے خبری نے ترقی نسواں کے حامیوں کو اس عقیدہ تک پہنچایا ہے کہ دونوں صنفوں کے لئے ایک طرح کی تعلیم، ایک طرح کے اختیارات اور ایک طرح کی ذمہ داریاں ہونی چاہئیں۔باعتبارِ حقیقت عورت نہایت طور پر مرد سے مختلف ہے۔عورت کے جسم کے ہر خلیے میں زنانہ پن کا اثر موجود ہوتا ہے ۔عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو خود اپنی فطرت کے مطابق ترقی دیں۔وہ مردوں کی نقل کرنے کی کوشش نہ کریں"۔
یہ سب حقائق جاننے کے باوجود اگر کوئی اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے باز نہ آئے تو یہ رویہ اس کی ہزیمت ناک ناکامی کی مثال ہے۔اسلام نے عورت کو مرد کی حفاظت میں دیا ہے، اس کے حقوق پورا کرنے کا مکلف ٹھہرایا ہے، اسے گھر کی ملکہ کا اعزاز بخشا ہے، اسلام نے عورت کو ایک عورت کی حیثیت سے کہاں سے کہاں پہنچایا ہے وہ آپ مزید اسلام کا مطالعہ کرنے سے جان سکتے ہیں۔اسلام نے مغرب کو شکست سے دوچار کر لیا ہے لیکن یہ نام نہاد مسلمان ہے جو اپنے ضعف ِ ایمان و علم و عمل سے مغرب کے سامنے سر بسجود ہے۔
ای میل۔[email protected]
�������