عمر عبداللہ کے دور حکومت اور آج میں تضاد کیوں؟

 سرینگر// حریت (گ)چیرمین سید علی گیلانی بدستور اپنے گھر میں نظربند ہیں اور انہیں کل بھی نماز جمعہ کی ادائیگی سے محروم کردیا گیا۔ حریت کانفرنس نے حکومتی کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سرزمین بے آئین میں قانون نام کی کوئی چیز موجود ہی نہیں ہے اور یہاں عملاً فوج اور پولیس کا قانون چلتا ہے جنہوں نے اس سرزمین پر ایسے قانون نافذ کردئے ہیں جو کسی بھی قانونی کتاب میں درج ہی نہیں ہیں۔ حریت نے کہا کہ جو لوگوں کو نماز اور دیگر اہم دینی فرائض ادا کرنے سے زبردستی روکتے ہیں اور ان کے حقِ آزادی کو بغیر کسی جواز کے چھینتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں کبھی معاف نہیں فرمائیں گے۔ حریت کانفرنس نے تمام سیاسی نظربندوں کی رہائی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی، بی جے پی سرکار نے ریاست کو ایک بڑے جیل خانے میں تبدیل کردیا ہے اور جب سے محبوبہ مفتی نے اقتدار سنبھالا ہے گرفتاریوں، چھاپوں اور تلاشی کارروائیوں میں بے حد اضافہ ہوگیا ہے۔ پی ڈی پی نے اپنے الیکشن مینی فیسٹو میں سیاسی آزادیوں اور کُشادگی کے وعدے کئے تھے، لیکن اس کے برعکس انہوں نے جیلوں کے دروازے کھول دئے اور لوگوں کو بغیر کسی آئینی اور قانونی جواز کے حراست میں لینے کا سلسلہ دراز تر ہوتا جارہا ہے۔ سیاسی قیدیوں کو غیر قانونی قانون PSAکے تحت گرفتار کیا جاتا ہے اور جب ان کا PSAعدالت کی جانب سے کواش ہوتا ہے تو انہیں دوبارہ اسی غیرقانونی قانون کے تحت نظربند کیا جاتا ہے۔ اس طرح ان کی رہائی کو قریب قریب ناممکن بنایا جاتا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سیاسی قیدی جیسے عمر قید کی سزائیں کاٹ رہے ہیں۔ حریت کانفرنس نے یاد دالایا کہ جب عمر عبداللہ کی حکومت تھی، تب محبوبہ مفتی اکثر گیلانی کی گھر میں نظربندی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی تھی اور قائد تحریکِ آزادی کے تئیں اپنی ہمدردی کا اظہار کرتی تھی، البتہ جب خود اقتدار میں آئی تو گیلانی کے گھر پر تعینات پولیس فورس ہٹانے کے بجائے اس میں نہ صرف اضافہ کیا گیا، بلکہ سی آر پی ایف کو بھی تعینات کردیا۔ حریت نے کہا کہ گیلانی صاحب اگرچہ 2010؁ء سے گھر میں مسلسل قید کرلیے گئے ہیں، البتہ 2016-17؁ء میں ان کے ساتھ نسبتاً زیادہ سختی برتی جارہی ہے۔ اب ان کے ساتھ ملاقات کے سلسلے میں ملنے آنے والوں کو بھی اجازت نہیں دی جاتی ہے، اگر کسی کو اجازت دے بھی دی جاتی ہے تو اس کے تمام کوائف کو ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ حریت کانفرنس نے کہا کہ جیل میں قیدیوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں اور وہاں بھی ان سے ملنے اور خیریت دریافت کرنے کی اجازت دی جاتی ہے، مگر یہاں کی صورتحال باکل مختلف ہے۔ حریت کانفرنس نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ محبوبہ مفتی اور اس کے ساتھیوں کے لیے باعث شرم ہے کہ وہ ایک ضعیف قائد سے اس قدر خائف اور سراسیمہ ہیں کہ انہوں نے اس کے گرد ہوا پر بھی پہرے بٹھادئے ہیں، انہوں نے کہا کہ گیلانی ایک ذات نہیں، بلکہ ایک نظرئیے کی علامت ہیں اور انہیں گھر میں قید کرنے سے ان کے خیالات کو پھیلنے سے روکا جانا اب ممکن نہیں ہے۔ حریت کانفرنس نے عالمی برادری اور حقوق بشر کے لیے سرگرم اداروں کو مخاطب کیا کہ وہ سید علی گیلانی کی غیر قانونی قید مسلسل کا کوئی نوٹس نہ لیکر جموں کشمیر میں اپنی اعتباریت پر ایک بڑا سوال کھڑا کرتے ہیں اور یہ خاموشی ان کے تمام تر زبانی دعوؤں کی نفی کرتی ہے۔