علامہ اقبال ؔکا نظریۂ تعلیم!

مغرب میں انسانی اقدار کی پامالی کے بعد دنیا کوقلی طور سے مایایا محض خواب وخیال سمجھنے کے نتیجے میں بے یقینی بے لگام آزادیٔ تشکیک اور شدید بے اطمینانی نے انسان کے باطنی سکون و اطمینانِ استقلال کو تباہ کرکے رکھ دیا۔اس بیمار مریض مادہ پرست رویے کے خلاف احتجاج کرنا کوئی غیر فطری امرنہ تھا۔ چنانچہ ادب اور فلسفے کے شعبے یامیدان میں موضویت یا معروضیت subjectivity کے سلسلے میں خاصے ردعمل کااظہار کیا گیا،جس کی ترجمانی میری ٹین پروسٹ proust maritainسنتایانا santyana اور کئی دیگراہل فکرو نظر نے کی۔لیکن اتنا ہی کافی نہ تھا۔عقیدہ اور ایمان زیادہ مثبت سطح پربحال کرنے کی ضرورت تھی،سائنس اور مادی فلسفے کی سطح کو کانٹم فزیکسquantamphysics اور اضافیت کے نظریات نے نیوٹن کی حیثیت کوکالعدم کرنے میں بڑی سرعت کے ساتھ کام لیا، جس پر تب تک سا ئنسی تصورات اوراثباتی فلسفے کی اساس تھی۔ایک علمی احتیاج بہت پہلے ظاہرہوچکی تھی۔ بے یقینی بے عقیدگی اور کفر والحاد کے اس دور میں علامہ اقبال کا فلسفہ یقین محکم کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن اقبال کا اثبات مطلق عینیت پرستوں کاجسیا نہیں بلکہ یہ اقبال کے غیر محدود absolute کے سائنسی تجزیے کانتیجہ ہے۔علامہ اقبال نے ایک طرف مذہب اور سائنس دوسری طرف سائنس اور فلسفے کے مابین حامل خلیج کو پاٹ دیا۔ انہوں نے حقیقت سے متعلق یک رخے خیال کے ساتھ اہل فکر کی محض قیاس آرائی پر مبنی رویے کی کوتاہیوںکو بے نقاب کیا ہے۔ان کا فلسفہ لابدی مذہبی عملی امتراج اور منتخبہ ہے۔اگرچہ انہوں نے ملت کے ساخت پر اپنی توجہ مرکوز کی ،تاہم آفاقی معاشرے میں ایک آفاقی کلچرکاسنگ بنیادرکھا۔علامہ اقبال صرف شاعرہی نہ تھابلکہ ایک بڑافلسفی زبردست مفکر اور مدبر بھی تھا۔شاعری اس کے لیے جزوپیغمری تھی، اس طرح اسے شاعر اور صرف شاعر ہی نہیںبلکہ شاعر عظیم کہا جاتا ہے۔اقبال نے زندگی پرایک خاص نقطہ نظر سے نگاہ ڈالی اور یہی وجہ ہے کہ زندگی کے تمام شعبوں کااس نے اپنی شاعری میں تجزیہ کیا ہے۔ علامہ اقبال کے فکر کا خاص محور ان کا فلسفہ خودی ہے۔ ان کے نزدیک انسانیت کی تکمیل خودی کے پیدا ہونے کے بعد ہو سکتی ہے، اسی لیے علامہ اقبال نے تعلیم کا اصل مقصد خود کی نشوونما قرار دیا ۔علامہ اقبال کے نزدیک؎
حیات و موت نہیں التفات کے لائق
فقط خودی ہے خودی کی نگاہ کا مقصد
علامہ اقبال نے اسی خودی کی تربیت پر زور دیا؎
خودی کی پرورش و تربیت پہ ہے موقوف کہ
مشت خاک میں پیدا ہوا ٓتش ہمہ سوز
اقبال کا نظریہ تعلیم بھی امتزاجی اور منتخبہ ہے یہ سائنسی بھی ہے اور مذہبی بھی اقبال کے نزدیک تعلیم کا مقصدشخصیت کا ارتکاء ہے تاکہ انسان فطرت پر تسخیرپاکر ماورائی رفعتوں تک رسائی حاصل کر سکے۔اقبال انسانی شخصیت کے تغیر اور ارتقاء میں یقین رکھتے ہیں۔اقبال کے نزدیک تعلیم کا اصل مقصد خودی ہے۔جس کی تعلیم سے آ ج تمام ادارے بے بہرہ ہیںاورسچ تو یہ ہے کہ ایسا غلامانہ نظام تعلیم رائج ہے۔جس کا لازمی نتیجہ ہے کہ خودی کےصحیح احوال و مقامات پوشدہ رہیں۔؎
اقبال یہاں نام نہ لے علم خودی کا
موزوں نہیں مکتب کےلئےایسے مقالات
 موجودہ نظام تعلیم نہ صرف یہ کہ خودی کی تعلیم سے خالی ہے بلکہ مذہب و اخلاق جس پر خودی کی تعلیم و تربیت موقوف ہے اس سے بھی خالی ہے۔؎
اور یہ اہل کلیسا کا نظام تعلیم
ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف
ا س دور کا تعلیمی نظام نہ صرف معاش کے حصول کا ذریعہ ہے گویا ساری زندگی کو معاش کے اندر محدود کر دیا گیاہے۔ زندگی کی تمام قوتیں اور توانائیاں معاش کے حصول کی فکر میں ختم کردی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے علمی و فکری صلاحیتیں ہمارے طلبہ سے روز بروز کم ہوتی جا رہی ہیں، مذہب سے دوری فکر نظر و اخلاقی پستی علمی ہلکاپن نمایاںہے ۔؎
عصر حاضر ہر ملک الموت ہے تیرا جس نے 
فیض کی روح تیری دیے کر تجھے فکر معاش
ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم حکیم نے علامہ سے ایک بار دریافت کیا، بہتر نہیں تھا کہ آپ پروفیسر ہو جاتے؟تو فرمانے لگے ـ’’میںنے کچھ دنوں پروفیسری کی اور اس نتیجے پر پہنچا کہ ہمارے کالجوں کی پروفیسری میں عمی کام تو ہوتا نہیں البتہ ملازمت کی ذلتیں ضرور سہنی پڑتی ہے‘‘۔( اقبال شخصیت اور پیام)
 اقبال کے نزدیک ایسانظام تعلیم ہوناچاہیٔے جس میں دین واخلاق کوایک نمایاں حیثیت حاصل ہو اور ان کو تعلیم کا ایک ضروری جز قراردیاجائے، اقبال تعلیم کا اصل مقصود خودی کا پروان چڑھانا سمجھتاہے۔جوانسانیت کی تکمیل کا پیش خیمہ ہے۔تیرا علم اس کے نزدیک کچھ زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔علم کے ساتھ ساتھ عمل،جس سے علامہ اقبال زندگی عشق اور دوسرے مختلف الفاظ سے تعبیر ہیں۔
اس دور میں علوم و فنون تو بے انتہا بڑھ چکے ہیں۔زندگی کے ہر شعبہ کی علمی تحقیق ہو رہی ہے اس پر موٹی موٹی کتابیں لکھی جا رہی ہیں۔فن معیشت علوم سیاسات  اصول معاشرت اور فلسفہ اخلاق غرض کہ زندگی کے تمام شعبوںپر علاحیدہ فن کی حیثیت سے غور و خوض اور تحقیق وتدقیق ہو رہی ہے۔ایسی صورت میں انسان کو بحیثیت انسان جس قدر بلند ہونا چاہیے وہ تو دور کی بات ہے، اس کے برعکس خود غرضی نفس پرستی،انسان پر انسان کی حاکمیت کے جذبے نے انسانیت کو جس عمیق غار میں پہنچا دیا،وہ آپ کی نظروں کے سامنے ہے۔ اس پر مزید دلائل و براہین پیش کرنیکی ضرورت نہیں۔ اس کا اصلی سبب یہ ہے کہ علوم و فنون تو بڑھ گئے، سائنس کی ترقی نے دنیا کے مادی عروج کو توکمال تک پہنچا دیا، لیکن عمل زندگی اور عشق باقی نہیں رہا۔اور یہ چیزیں مذہب اور اخلاق کے عملی علم سے پیدا ہوتی ہیں۔ افسوس کے موجودہ نظام تعلیم نے اسی مذہب سےوہ اخلاقی کی جڑ کاٹ دی ہے۔ایسے نظام تعلیم کا شجر ایسے خبیث جس قسم کی ہوا دے گا اور اس سے جیسے کڑوے پھل برآمد ہوں گے، وہ ظاہر ہے ۔؎
گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا
کہاں سے آئے صدا لا الٰہ اللہ
موجودہ نظام تعلیم کی ایک دوسری بڑی خرابی یہ ہے کہ اسے صرف دنیاوی زندگی کے سنوارنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ حالانکہ اس میں بھی سنوار تو کچھ زیادہ نہ ہو سکا البتہ زندگی کے الجھاؤ میں کچھ اور اضافہ ہی ہوگا۔’’انسان کی حقیقی زندگی صرف یہ نہیں ہے کہ وہ بیرونی چیزوں کے اوصاف خواض سے واقف ہوں اور خود اس کے ا ندرونی اوصاف پر پردہ پڑا رہے بلکہ اس کی اصل زندگی یہ ہے کہ خود اس کو اپنی ذات یعنی اپنی خودی کے اوصاف خواض بے پردہ نظر آئیں‘‘۔(اقبال کامل)
موجودہ علم و سائنس کی خواہ کتنی ہی ترقی کرجائیں لیکن ان کی تگ ودو اور جدوجہد صرف انسان کی بیرونی اورخارجی دنیا تک محدود ہے، اس کی داخلی اور اندرونی زندگی سے انہیں کوئی مطلب نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ سائنس میںمذہب اور اخلاق کی آمیزش نہیں ،اس لئے وہ زندگی کے ایک ضروری عنصر سے خالی ہے۔اور جب تک انسان کو اپنی ذاتی یعنی خودی کے اوصاف خواض بے پردہ نظر نہ آئے تو اُس وقت تک انسان میں حقیقی زندگی پیدا ہی نہیں ہو سکتی اورہمارا موجودہ نظام تعلیم اس نقطہ نظر سے بالکل بانجھ ہے ۔
علم و عقل اور سائنس سے اگرچہ خارجی اور بیرونی دنیا کی تمام چیزوں کے اوصاف و خواض نمایاں ہو جاتے ہیں۔لیکن خود انسان کے روحانی اوصاف و خواص پر پردہ پڑتا رہتا ہے۔عقل علم سائنس بجلی کی چراغ جلا کر سار ی کائنات کو روشن کر سکتے ہیں لیکن اس چراغ کی روشنی انسان کے روحانی زندگی تک نہیں پہنچ سکتی ہے، اس کو صرف عشق ہی کا دریا روشن کر سکتا ہے ۔؎
جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتارکیا
زندگی کی شب تاریک سحر کر نہ سکا
ایسا نظام تعلیم جو نرے علم کی تعلیم دیتا ہو۔زندگی و عشق کا درس جس میں نہ ہو تو پھر وہ علم’’چار پائے بروںکتابے چند‘‘کے مصداق ہیں۔اس لئے آج کل کے تعلیمی ادارے کے متعلق حکیم مشرق یوں فرماتے ہیں۔؎
اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غمناک
نہ زندگی نہ محبت نہ معرفت نہ نگاہ
سب سے اخیر میں علامہ اقبال کا کو پیام زندگی بھی سن لیجئے۔ جو ان نوجوان طالب علموں کو دیا ہے جو بجھی بجھی اورایک سے زیادہ کرم کتابی بن کر رہ گئے ہیں، مگر وہ بھی الا ماشا اللہ۔
خدا تجھے کسی طوفان سے ا ٓشنا کر دے
کہ تیرے بحر ک موجوں میں اضطراب نہیں
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فارغ کہ
تو کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں
)یاری پورہ کولگام)