عقل اور شکل

علم کی روشنی سے اندھیرا مٹ جاتا ہے۔
اور روشنی کا یہ احساس اس لئے پڑھائی کے زینے طے کرنے میں مدد گار ثابت ہوتا رہا۔وہ ذہین بھی تھی اور شکیل بھی اور اس کی عقل و شکل کے چرچے ہر سو ہوتے رہتے تھے۔سہیلیوں کے ہوم ورک کا ٹینشن وہ ایسے چٹکیوں میں دور کردیتی تھی کہ ہر سبجیکٹ کی باس معلوم ہوتی تھی۔لیکن قسمت کا کھیل ہی کچھ ایسانرالا نکلا کہ اس کی ہم جماعت سہیلیاںتو کچھوے کی چال چلتے چلتے مہنگے تعلیمی اداروں میں ڈاکٹری یا دوسری ڈگریاں حاصل کرنے کے لئے چلی گئیں اور خرگوش کی رفتار سے چلنے والی کی عقل کو مفلسی نے سونے پر مجبور کر دیا۔ باپ تو پہلے ہی یتیم بنا کر چھوڑ گیا تھا اور بڑا بھائی کام کرنے کے دوران بلڈنگ سے گر کر عمر بھر کے لئے اپاہج بن گیا۔جب تک ماں کی صحت ٹھیک رہی تب تک وہ دوسرے گھروں کی صفائی ستھرائی کرکے اسے گریجویشن تک پڑھا سکی لیکن اس کے بعد اسے ایک پرائیویٹ اسکول میں جاب کرنا ہی مناسب لگا۔اسکول تو اس کی ایک ہم جماعت سہیلی کے نام پر چل رہا تھا جو اس کی پرنسپل بھی تھیں‘اس لئے وہ اسی اسکول میں جاب کرنے پر خوشی محسوس کررہی تھی۔ایک دن وہ اسکول ذرا دیر سے کیا پہنچی کہ بچپن کی سہیلی نے اسے سارے اسٹاف کے سامنے ایسی کھری کھری سنائی کہ وہ دن بھراپنی قسمت کوکو ستی رہی ۔اسے یاد آیاکہ کتنی بار اسکول کے دونوں میںاس نے اس سہیلی کے ہوم ورک میں مدد کرکے اسے کلاس میں بے عزت ہونے سے بچایا تھا۔چھٹی کے بعد گھر آکر وہ ابھی اسی تناؤمیں تھی کہ ماں کے کھانسنے کی آواز کانوں سے ٹکرائی۔وہ اپنا تناؤ بھول کرماںکے کمرے میں چلی گئی۔ماں کے منہ سے خون کی لال ٹیک رہی تھی اورسامنے پڑے کمبل پر بھی خون کے دھبے پڑے تھے۔وہ یہ دیکھ کر پریشان ہوگئی اورجلد ہی ماں کو مناسب دوا پلا ئی۔ایک گھنٹے تک ماں کی کھانسی رک گئی لیکن وہ اسپتال میں دوبارہ اسکا چیک اپ کرانے کے بارے میں سوچنے لگی۔
دوسرے دن اسپتال جاتے ہوئے اسے ایک خوش گوار احساس ہورہا تھا کہ اس کے بچپن کی ایک سہیلی اسی اسپتال میں ڈاکٹر ہے۔اسپتال پہنچ کر وہ سیدھے اسی کے چیمبر میں چلی گئی۔سہیلی نے اسے دیکھتے ہی بڑے تپاک سے گلے لگایا اور پھر چند منٹوں تک دونوں بچپن کی یادوں کو یاد کرتے کرتے کھل کھل کر ہنسنے لگیں۔سہیلی اسے بار بار یاد دلا رہی تھی کہ بچپن کی وہ عقل اور شکل والی بات اسے آج بھی یاد ہے اور اسے جب کبھی سائنس کا کوئی سوال سمجھ نہیں آتا تھا تو وہ اس کے گھر جاکر چٹکیوں میں سمجھ جاتی تھی ۔سنہری یادوں کو یاد کرنے کے بعد شہناز نے سہیلی کے سامنے دکھ بھرا پلندہ رکھ دیا۔ڈاکٹرسہیلی نے سبھی ٹیسٹ دیکھنے کے بعد مشورہ دیا کہ وہ اپنی ماں کو اس کے پرائیوٹ کلینک میں ایڈمٹ کروائے تاکہ اس کا علاج وہ اچھے طریقے سے کرسکے‘کیونکہ سرکاری اسپتال میں مناسب انتظام نہیں ہے ۔شہناز یہ سن کر بہت خوش ہوئی کہ چلو بچپن کی سہیلی کے دل میں ابھی بھی دوستی کا جذبہ زندہ ہے، اسی لئے تو اس نے یہ اپنائیت دکھائی۔چند دنوں تک ماں کا علاج معالجہ ٹھیک طرح سے چلتا رہا لیکن جب ماں کی حالت کچھ زیادہ بگڑ گئی تو اس کی سہیلی نے اسے کہا کہ شہناز!ماں کا آپریشن کرنا پڑے گا۔
’’ٹھیک ہے ‘ اگرآپ کو ایسا لگ رہا ہے تو میں کیسے نا کرسکتی ہوں۔‘‘شہناز نے اطمینان سے کہا۔
’’لیکن اس کے لئے خرچہ کچھ زیادہ ہی آئیگا۔‘‘سہیلی نے بات دہرائی۔’’تھوڑی بہت چھوٹ تو میں
دے سکتی ہوںلیکن پھر بھی پنچاس ہزار  ۔۔۔۔۔۔۔؟‘‘
’’ میں نے کہا نا ٹھیک ہے۔ آپ آپریشن کی تاریخ بتا دیں ‘ہم اس دن آئینگے۔‘‘
گھر پہنچ کر شہناز نے ماں سے مشور ہ کرکے زیورات کے بارے میں پوچھا۔ ماں زیورات کی بات سن کرپوچھ بیٹھی کہ وہ تو تیری شادی کے لئے رکھے ہیں؟شہناز نے ماں کو بڑی مشکل سے زیورات بیچنے پر راضی کردیااور دوسرے ہی دن سنار کو زیورات دکھائے ۔تقریبا چالیس ہزار کے بارے میں سن کر وہ مطمئن ہوکر سوچنے لگی کہ اگر چند ہزار اور بھی ضرورت پڑیں گے تو وہ بھی سہیلی سے مہلت مانگ کر آہستہ آہستہ چکا دینگے۔اس رات وہ قدرے راحت سے سوچنے لگی کہ آپریشن کے بعد ماں ٹھیک ہوجائے گی اوروہ ڈاکٹر سہیلی کی دوستی کاشکریہ عمربھر ادا نہیں کر سکے گی۔
آپریشن کے دن وہ جب کلینک پہنچ کر رقم جمع کرنے کے کاونٹرکی طرف گئی تو وہاں پر بیٹھے ملازم نے کاغذات دیکھ کر جونہی اسے کُل رقم دینے کے لئے کہا تو وہ تھوڑی بہت پریشان ہوئی‘لیکن اس نے جب اپنی ڈاکٹر سہیلی سے بات کرنے کی مہلت مانگی تو ملازم مسکراتے ہوئے بول پڑا کہ انہوں نے ہی  توہمیں تفصیل لکھ کر بتا بھی دیا ہے کہ اگر ان لوگوں نے پوری رقم جمع کروائی تو ان کو آپریشن تھیٹر میں بھیج دینا ‘نہیں تو انہیں کسی اور تاریخ کے لئے کہنا۔
اس غیر متوقع جواب نے شہنازکے ہوش اڑ ادیئے ۔اس کی بے بس آنکھیں کبھی بیمار ماں کو دیکھتیں اور کبھی آپریشن تھیٹر کے بورڈ کوگھورتیں۔’’بلااجازت اندر آنا منع ہے ۔‘‘وہ سوچنے لگی کہ جیسے بورڑ کامعنی تبدیل ہوگیاہے’’ بلا رقم اندر آنا منع ہے ۔‘‘اسی پریشاں کن حالت میں جب وہ بیمار ماں کو سہارا دیتے ہوئے کلینک سے مایوس ہوکر وآپس نکلنے لگی تو اسے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ جیسے ماں کی بجائے اس کے اندر سے غریبی کھانس کھانس کر عقل و شکل کا مذاق اڑا رہی ہو۔
���
وڈی پورہ ہندوارہ کشمیر193221
mob:7006544358