عصمت دری کیخلاف قانون سازی کی ضرورت

 جموں // نیشنل کانفرنس صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ کٹھوعہ میں آٹھ سالہ کمسن بچی کی وحشیانہ عصمت دری اور قتل واقعہ کے ملزمان کو پھانسی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کٹھوعہ جیسے واقعات کے مرتکب ملزمان کو پھانسی پر چڑھانے والے قانون کی اشد ضرورت ہے۔ فاروق عبداللہ نے ضلع کٹھوعہ کے لکھن پور میں ایک پارٹی تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ کرنے والوں کو عدالتی نظام پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا ’کٹھوعہ کیس عدالت کے اندر ہے۔ اگر عدالت کو محسوس ہوگا کہ اس میں کمی ہے اور سی بی آئی انکوائری کی ضرورت ہے تو عدالت حکم دے سکتی ہے۔ سی بی آئی انکوائری کرانا نہ میرے ہاتھ میں ہے اور نہ ان لوگوں کے ہاتھ میں جو ایجی ٹیشن کررہے ہیں‘۔ فاروق عبداللہ نے ایجی ٹیشن کرنے والوں سے عدالتی نظام پر بھروسہ کرنے کی گذارش کرتے ہوئے کہا ’ان کو عدالت پر بھروسہ ہونا چاہیے۔ اگر ان کو عدالت پر بھروسہ ہے تو اس کیس کے فیصلے کو عدالت پر چھوڑ دیں۔ ہمارا کہنا ہے اگر کوئی بے گناہ ہے تو اس کو چھوڑ دیا ئے اور جو گنہگار ہیں، ان کو پھانسی دے دی جائے ۔ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلاکر پھانسی کا قانون بنایا جائے یا آرڈی ننس لاکر ایسے گناہ کرنے والوں کے لئے پھانسی کی سزا مقرر کی جائے‘۔