عرس شاہِ ہمدانؒ

سرینگر// وادی کے بلند پایہ ولی کامل حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانیؒ ،جنہیں وادی میں شاہ ہمدان کے نام سے جانا جاتا ہے، کا 652 واں  سالانہ عرس نہایت ہی عقیدت واحترام کے ساتھ منایا گیا۔صرف وادی میں ہی نہیں بلکہ تاجکستان میں بھی امیر کبیر کا دن انتہائی عقیدت سے منایا گیا۔وادی میںاس سلسلے میں مساجد، زیارت گاہوں اور خانقاہوں میں شب خوانی، درودواذکار اور ختمات المعظمات کی روح پرور مجالس منعقد کی گئیں جن میںکثیر تعداد میں عقیدتمندوں نے شرکت کی۔ علماء کرام اور ائمہ مساجد نے حضرت امیر کبیر کی سیرت، تبلیغی مشن، روحانی کمالات اور کشمیر پر اُن کے احسانات پر تفصیلی سے روشنی ڈالی۔ عرس مبارک کے سلسلے میں سب سے بڑی تقریب پائین شہر میں واقع تاریخی خانقاہ معلی میں منعقد ہوئی جہاں علمائے کرام نے حضرت امیر کبیرؒ کی سیرت ، اُن کے ارشادات و تعلیمات، دین کے تئیں اُن کی خدمات، روحانی کمالات اور کشمیر پر اُن کے احسانات پر روشنی ڈالی۔نماز فجر کے موقعہ پر ہزاروں کی تعداد میں عقیدتمندوں جن میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شامل تھی،حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانی ؒ ؒ کے تبرکات کے دیدار سے فیضیاب ہوئے اور یہ عمل ہر نماز کے بعد دہرایا گیا۔ وادی کے دوسرے علاقوں آثار شریف شہری کلاش پورہ ، جناب صاحب صورہ ، زیارت دستگیر صاحب سرائے بالا میں بھی خصوصی تقاریب کا انعقاد کیا گیا جبکہ وادی کے دیگر مقامات کعبہ مرگ، کھرم سرہامہ ، اسلام آباد ، ڈورو،سیر ہمدان ، ترال، متریگام پلوامہ،وچی ، اہم شریف بانڈی پورہ ، بڈگام ، کپوارہ ، بارہمولہ ، ہندوارہ ، گاندربل اورکنگن وغیر ہ میں بھی خصوصی تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔ دریں اثناء جموں و کشمیرکے ساتھ ساتھ عرس پاک کی تقریبات دوشنبے تاشقند میں بھی منائی گئیں۔تاجکستان کے شہر کلاد میں امیر کبیر کے آستانیہ عالیہ پر پروقار تقریب منعقد کی گئی۔حضرت امیر کبیر چودہویں صدی میں ہمدان ایران سے کشمیر تشریف لائے تھے جہاں انہوں نے تبلیغ اسلام کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کو دستکاریاں بھی سکھائیں جن سے لوگ روزگار کمانے کے قابل بن گئے تھے۔ مورخین کے مطابق حضرت امیر کبیر پہلے ولی کامل ہیں جنہوں نے وادی کشمیر کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تھی۔ حضرت امیر کبیر کا شجرہ نسب حضرت امام زین العابدینؓ  کے ذریعے پیغمبر اسلام حضرت محمدسے ملتا ہے۔ مورخین کا کہنا ہے کہ حضرت شاہ ہمدان کشمیر اپنے 7 سو سیدوں اور پیروکاروں کے ساتھ یہاں تشریف لائے تھے جنہوں نے یہاں نہ صرف کشمیریوں کو مشرف بہ اسلام کرنے کی سعادت حاصل کی تھی بلکہ انہیں دستکاریاں بھی سکھائی تھیں جن کے ذریعے لوگ روزگار کمانے کے قابل بن گئے تھے۔ ادھر ترال میں بھی عرص شاہمدان بڑے عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا ، جہاں ہزاروں لوگوں نے خانقاہ فیض پناہ پر حاضری  دیکر تبرکات کے دیدارسے فیض یاب ہوئے۔انتظامیہ نے زائرین کے لئے تمام طرح کے انتظامات کئے تھے جس پر لوگوں اور ادارہ اوقاف نے اطمینان کا اظہار کیا ۔اس دوران ڈپٹی کمشنر پلوامہ نے بھی علاقے کا دورہ کر کے انتظامات کا جائزہ لیا ۔