سرینگر// عدالت نے جموں کشمیر فٹبال ایسو سی ایشن کو کسی بھی طرح کے پالیسی فیصلہ لینے سے روک دیا ہے۔ سماعت کے دوران فورتھ ایڈیشنل ڈسڑک اینڈ سیشن جج سرینگر حق نواز زرگر نے جموں کشمیر فٹ بال ایسو سی ایشن کو آئندہ سماعت تک کسی بھی طرح کا فیصلہ نہ لینے کی تاکید کی۔ عدالت نے کہا کہ وکیل کی جرح اور عرضی کے علاوہ دستاویزات اور بیان حلفی پیش کرنے بعد ان کو زیر غور لایا گیا۔ عدالت کا کہنا تھا ’’اس معاملے کو زیر غور لانے کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا کہ مقدے میں جو معاملے کو شامل کیا گیا وہ اہم نوعیت کا حامل ہے اور اس کو قانون کے تحت پیشگی نوٹس کی ضرورت ہے‘‘۔ عدالت نے کہا کہ اس مرحلے پراسکو منظوری نہیں دی گئی تو تاخیری سے عرض دہندگان کو کافی نقصان ہوگا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس وقت مرحلے پر نوٹس اجرا نہیں کی گئی ہے اور اس کا دفاع کرنے والے غیر قانون فیصلہ لینے میں کامیاب ہوئے تو عرض دہندگان کی عرضی غیر متعلق بن جائے گی۔عدالت کا کہنا تھا’’اس مرحلے پر اگر عبوری ہدایات کی منظوری عرض دہندگان کے حق میں نہیں دیا گیا،مقدمے کا مقصد فوت ہوجائے گا اور ان حقائق و وجوہات کو مد نظر رکھتے ہوئے عبوری درخواست میں اعتراضات اور مقدمے میں دوسرے فریق کی جانب سے تحریری بیان درج کرنے کیلئے نوٹس اجرا کی جائے گی۔ عدالت نے کہا کہ جب تک اعتراضات کو پیش کیا جاتا ہے اور آئندہ سماعت تک انہیں زیر غور لایا جاتا ہے جموں کشمیر فٹ بال ایسو سی ایشن کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ ایسو سی ایشن سے متعلق کوئی بھی پالیسی فیصلہ نہ لیں۔