سپریم کورٹ کی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کوہدایت
ایجنسیز
نئی دہلی// سپریم کورٹ نے بدھ کے روز تمام ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں (یوٹیز) کو ہدایت دی کہ وہ متعلقہ ہائی کورٹس سے مشاورت کے بعد عدالتی افسران کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال سے بڑھا کر 61 سال کرنے کے معاملے پر فیصلہ کریں۔چیف جسٹس سریا کانت، جسٹس جوئملیہ باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے یہ ہدایت ضلع عدلیہ کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر پورے ملک میں یکساں طور پر 60 سے بڑھا کر 62 سال کرنے کی درخواست پر سماعت کے دوران جاری کی۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ تمام ریاستی حکومتیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے متعلقہ ہائی کورٹس سے مشاورت کے بعد اس معاملے پر فیصلہ کریں۔ اگر وہ اس سے اتفاق کرتے ہیں تو ایسے ریاستوں میں عدالتی افسران کو 61 سال کی عمر تک خدمات جاری رکھنے کی اجازت دی جائے گی۔ تاہم، یہ اجازت اس مقدمے کے حتمی فیصلے سے مشروط ہوگی۔عدالت نے واضح کیا کہ یہ عبوری انتظام یکم اپریل 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔فی الحال سپریم کورٹ کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال جبکہ ہائی کورٹ کے ججوں کی 62 سال ہے۔سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ یہ عبوری فیصلہ اس بنیادی قانونی سوال پر اثر انداز نہیں ہوگا کہ آیا ضلع عدلیہ کے افسران کی ریٹائرمنٹ کی عمر پورے ملک میں یکساں طور پر 60 سے بڑھا کر 62 سال کی جانی چاہیے یا نہیں۔بنچ نے کہا،’’قانونی سوال کا فیصلہ سپریم کورٹ آزادانہ طور پر کرے گی، خواہ ریاستیں یا ہائی کورٹس اس معاملے پر جو بھی مؤقف اختیار کریں۔‘‘عدالت نے تمام ریاستوں اور یوٹیز کو ہدایت دی کہ وہ متعلقہ ہائی کورٹس سے مشاورت کے بعد دو ہفتوں کے اندر اپنا مؤقف عدالت میں جمع کریں، جبکہ ہائی کورٹس کو بھی اسی مدت میں اپنے جوابات داخل کرنے کی ہدایت دی گئی۔تاہم عدالت نے واضح کیا کہ جن ریاستوں اور ہائی کورٹس نے پہلے ہی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے پر اتفاق کر لیا ہے، انہیں تفصیلی جواب داخل کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ مختصر بیان کافی ہوگا۔