عالمی وبا ء اور سیاحتی شعبہ

تیرہ سال قبل سرینگر میں زبرون پہاڑیوں کی گود میں ایک وسیع رقبے کو باغبانی اور سیاحتی شعبوں کی ترویج و ترقی کیلئے منتخب کرکے اس پر گل لالہ اُگانے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔تب سابق ریاست جموں کشمیر میں پی ڈی پی۔کانگریس کی مخلوط سرکار قائم تھی اور غلام نبی آزاد وزارت اعلیٰ کے منصب پر براجمان تھے۔ شایدکانگریس کے اثر و نفوذ کا ہی نتیجہ تھا کہ اس باغ کو ملک کی سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے نام سے منسوب کیا گیا۔ 30ایکڑ اراضی پر محیط اس باغ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ بر اعظم ایشیا کا سب سے بڑا باغ گل لالہ ہے جس کی سیر کے دوران عالمی شہرت یافتہ ڈل جھیل کا نظارہ بھی آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قدرت اپنی ساری رعنائیوں کے ساتھ یہاں جلوہ گر ہے۔ 
 ایک دہائی سے زیادہ کا عرصہ گذر گیا کہ سرینگر کے باغ گل لالہ کا کھلنا آمد بہار کی سمجھو علامت بن گیا ہے ۔یہاں تک کہ ہر سال کے ماہ مارچ کے آخری ایام میں شروع ہونے والا ٹیولپ میلہ مقامی و غیر مقامی سطح پر سرخیوں میں رہتا ہے۔بے شک اس میں حکومت کا ہاتھ ہوتا ہے اور سرکاری سطح پر اس میلے کی تشہیر میں موٹی رقومات صرف کی جاتی ہیں۔طویل سرما کے بعدایسا لگتا ہے کہ حکومت نے شمالی کشمیر میں واقع گلمرگ سے اپنی توجہ سرینگر کی طرف مبذول کی ہے۔ اس سال تو اس تیرہ برس پرانے میلے کا آغاز ہی کچھ خاص تھا کیونکہ وزیر اعظم نریندر  مودی نے ملک کے عوام کو باغ گل لالہ کی سیر کرنے کی اپیل کرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں باغ ،اس میں اُگنے والے لاکھوں انمول پھولوں کے ساتھ ساتھ کشمیر کی مہمان نوازی کی بھی تعریف توصیف کی۔حالانکہ ٹیولپ میلہ شروع ہونے کے ساتھ ہی وادی کشمیر کے اندر کورونا وائرس کے پھیلائو میں تشویشناک اضافہ درج ہورہا ہے لیکن اس کے باوصف وزیر اعظم کے ٹویٹ سے یہ اُمید بندھ گئی ہے کہ اس سال باغ گل لالہ اور یہاں منعقد ہونے والے میلے میں سیاحوں کی بھاری تعداد سے چار چاند لگ جائیں گے۔ حالانکہ اس سال کا ٹیولپ میلہ بھی کورونا وائرس کے پھیلائو کے دوران ہی منعقد ہورہا ہے جس نے اس میلے پر بھی اپنے منحوس سائے ڈال رکھے ہیں یہاں تک کہ باغ کی سیر کو آنے والوں کو مخصوص پروٹوکول پر عمل پیرا ہونا پڑ رہا ہے ۔  
کورونا وائرس سے پیدا وبائی صورتحال جدید دنیا کو درپیش اب تک کا سخت ترین چیلنج ہے جس کی وجہ سے عالمی سطح پر اقتصادی نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے ۔چونکہ مہلک وائرس کے خوف نے لوگوں کی نقل و حمل کو ہی محدود کرکے رکھ دیا ہے جس کے نتیجے میں سب سے زیادہ سیاحتی شعبے کو نقصان سے دوچار ہونا پڑرہا ہے۔ اب جن ممالک اور خطوں میں یہ شعبہ جتنا بڑا ہے اُن میں نقصان بھی اُتنا ہی بڑا ہورہاہے۔وادی  کشمیر ویسے بھی نامساعد حالات کی وجہ سے لامتناہی مسائل سے دوچار ہے اور اس پر کورونا وائرس سے پیدا صورتحال رہی سہی کسر نکال رہا ہے۔یہاں کا سیاحتی شعبہ وبائی صورتحال کے نتیجے میں انتہائی بری طرح متاثر ہوا ہے یہاں تک کہ واقف کار حلقوں کا کہنا ہے کہ پہلے 2019کی سخت ترین پابندیوں اور بعد میں کورونا لاک ڈاون نے اس شعبے کو کم و بیش ختم کرکے رکھ دیا ہے۔
عالمی سطح کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا کی اقتصادیات میں دس فیصد حصہ سیاحتی شعبے سے تعلق رکھتا ہے ۔یہ سیاحت ہی ہے جس پر کئی ممالک کے غیر ملکی زر مبادلہ کی در آمدو بر آمد منحصر ہے۔اس شعبے کے ساتھ دوسرے کئی چھوٹے بڑے شعبے بھی جڑے ہیں جو براہ راست روزگار سے وابستہ ہیں اور یوں موجودہ عالمی سطح کی وبائی صورتحال نے لوگوں کے روزگار کو ہی خطرے میں ڈالدیا ہے۔حالانکہ کروڑوں افراد ، جو دوسرے شعبوں سے روزگار حاصل کررہے تھے پہلے ہی انتہائی بری طرح متاثر ہوگئے ہیں جن میں صحافت کا شعبہ بھی شامل ہے،مہاجر کامگار وںاور مزدوروں کا حال تو 2020سے ہی قابل رحم بنا ہوا ہے۔کورونا وائرس سے پیدا عالمی سطح کی وبائی صورتحال نے دنیا کو اقتصادی اعتبار سے کس حد تک نقصان پہنچایا اُس کے بارے میں پہلے ہی ماہرین نے کئی رپورٹیں منظر عام پرلائی ہیں اور جن میں انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ کی وہ رپورٹ بھی شامل ہے جس کے اقتباس راقم نے پہلے ہی اسی کالم کے ذریعے قارئین تک پہنچائے ہیں۔
حال ہی میں شائع ایک طویل مضمون میں مصنف نے گذشتہ سات دہائیوں کا جائزہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کے دوران کس طرح سیاحتی شعبے نے ترقی کی ناقابل یقین منازل طے کیں لیکن کورونا وبا کی وجہ سے اس ترقی میں کس قدر گراوٹ پیش آئی ہے۔مصنف نے سیاحتی شعبے کے اس تنزل کو ’نوز ڈائیو‘ سے تعبیر کیا ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ کورونا صورتحال سے قبل سفر اور سیاحت عالمی اقتصادیات کے دو اہم شعبے بن گئے تھے جن سے عالمی جی ڈی پی میں10فیصد کی حصہ داری تھی اور320ملین افراد کا روزگار ان شعبوں کے ساتھ وابستہ تھا۔1950میں جسکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ’جیٹ ایج‘ کا آغاز تھا،محض25ملین لوگ غیر ملکی سفر کرتے تھے ۔2019میں ایسے افراد کی تعداد1.5ملین تک پہنچ گئی تھی۔اب صورتحال یہ ہے کہ دنیا بھر میں ایک سو ملین کام خطرے میں مبتلاء ہیں۔یونائٹیڈ نیشنز ورلڈ ٹورازم آرگنائزیشن کی ایک سروے کے مطابق ان میں اکثریت خواتین کے کاموں کی ہے۔
ماہرین کی ایک سروے کے مطابق جن ممالک اور خطوں کی اقتصادیات زیادہ تر سیاحت پر منحصر ہے اُن پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں، ان میں زیادہ تر لاطینی امریکہ اور کیریبین ممالک شامل ہیں۔واقف کار حلقوں کا کہنا ہے کہ ہر سال کم و بیش دس لاکھ سے زائد سیاح وادی کشمیر کا رخ کرتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ گذشتہ تین دہائیوں سے یہاں کے مخصوص حالات کے علاوہ اب گذشتہ ایک سال سے کورونا کی صورتحال کی بدولت اب یہاں شاذ و نادر ہی غیر ملکی سیاح دیکھے جارہے ہیں۔کشمیر میں شعبہ سیاحت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ وہ بھی ایک زمانہ تھا جب غیر ملکی سیاح کشمیر کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے کیلئے بیتاب نظر آتے تھے لیکن اب حالات بدل چکے ہیں، ہوٹلوں کے کمرے خالی پڑے ہیں، مشہور ڈل جھیل میں کشتیوں میں سیاح نہیں ہیں اور گلمرگ اور پہلگام کی وادیوں میں سناٹا چھایا ہوا  ہے۔یہاں کے سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اگست2019میں پیدا ہوئے حالات نے اُن کی کمر توڑ کے رکھ دی جب خود حکام نے ہی سیاحوں کو وادی چھوڑنے کی ایڈوائزری جاری کی، بعد ازاں رہی سہی کسر کورونا کی پیدا صورتحال نے پوری کردی۔اب یہاں سیاحتی شعبے سے وابستہ سبھی افراد یعنی شکارا والے، ہائوس بوٹ مالکان، ٹیکسی ڈرائیور، ہوٹل مالکان اور گھوڑے بان حکام کی اس یقین دہانی کے ساتھ جی رہے ہیں کہ اس سال اُن کی اچھی خاصی کمائی ہونے والی ہے۔ بے شک وزیر اعظم کے ٹویٹ نے ان سبھی افراد کی اُمیدوں کو یقین کی حد تک بڑھایا ہے اور سیاحتی شعبے سے وابستہ ہر فرد یہی اُمید لگائے بیٹھا ہے کہ اُن کا طویل انتظار شاید اب ختم ہو!لیکن یہ سوال بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا کورونا کی موجودہ صورتحال ،جو ہر گذرنے والے دن کے ساتھ پیچیدہ تر ہوتی چلی جارہی ہے، کے دوران ایسا ممکن اور مناسب ہے؟