لندن/یو این آئی /// امریکہ کے اپنے معاونین کے ساتھ روسی سپلائی پر ممکنہ پابندی پر بات چیت کرنے کے بیان کے مطابق خام تیل کی قیمت سال 2008کے بعد سے سب سے اونچی سطح 139ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔ حالانکہ بعد میں اس میں کچھ کمی آئی اور ابھی یہ 130ڈالر فی بیرل سے نیچے کاور بار کررہا ہے ۔لندن برینٹ کروڈ آج شروعاتی کاروبار میں 139ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہوگیا لیکن اس کے بعد اس میں فوری طورپر گراوٹ آئی لیکن اب بھی یہ 7.89فیصد کے اضافہ کے ساتھ 127.43ڈالر فی بیرل پر اور امریکی کروڈ 7.45فیصد کے اضافہ کے ساتھ 124.30ڈالر فی بیرل پر ہے ۔یوکرین پر روس کے حملے شروع کرنے کے بعد سے ہی خام تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں تیزی جاری ہے ۔ اس حملے کے بعد سے ہی عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافہ کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے اور اب اس کا اثر صارفین پر ہونے لگا ہے ۔روس یوکرین جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر شیئر بازار پر بھی بھاری دباو رہا ہے ۔ پیر کو اس کا اثر عالمی سطح پر نظر آیا۔ جاپان کا نکئی اور ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ کے ساتھ برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای، چین کا شنگھائی کمپوزٹ اور جرمنی کے ڈیکس کے ساتھ ہی بی ایس ای کا سنسیکس اور این ایس ای کا نفٹی بھی گراوٹ میں رہا ہے ۔