عالمی حیاتیاتی تنوع دن اور ہماری ذمہ داریاں

فطرت کو گہرائی سے دیکھو ، اور پھر آپ ہر چیز کو بہتر طور پر سمجھیں گے (البرٹ آئن اسٹائن)
لفظ حیاتیاتی تنوع کی وضاحت کرنا آسان کام نہیں ہے۔لفظ حیات کا اس میں داخل ہونے کے ساتھ ہی آپ خود ہی اس کی اہمیت کا اندازہ لگا سکتے ہے یہ لفظ اپنے اندر ایک وسیع معنی، ایک وسیع سونچ، ایک وسیع غوروفکر کرنے کی  عملی جستجو ہم سے چاہتا ہے توازن کا بگڑنا حیاتیاتی تنوع ہے اور اسے روکنا ،یا توازن کو بگڑنے سے بچانے کے اقدامات کرنا انسان کی ذمہ داری ہے لیکن ہم ناشکرے انسان  اپنے ذاتی ،عارضی مفاد کی خاطر اس توازن کو بگاڑنے کے درپے ہے  ۔ آسان الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ حیاتیاتی تنوع زندگی ہے۔ جس طرح آکسیجن انسانوں کے لئے بہت ضروری ہے۔ آکسیجن کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔  اسی طرح پانی ، ہوا ، بادل ، بارش ، ندی ، سمندر کائنات کی تمام شکلیں ہم سے کسی حد تک گزرنے کے بعد ہم تک پہنچ جاتی ہیں۔ اس خاص عمل کو برقرار رکھنے میں حیاتیاتی تنوع کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ قدرتی اور بشریاتی عمل کی وجہ سے جانوروں اور پودوں کی نایاب اقسام، ان کا قدرتی ماحول اور جغرافیائی محل وقوع شدید خطرے میں ہے۔ اس کرہ ارض کے نظام کو ایک خاص ترتیب میں رکھنے کے لئے یہی جاندار ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اگر یہ ختم ہو گئے تو کرہ ارض کا نظام بھی شدید طور پر متاثر ہو گا۔۔ کائنات میں موجو  یہ پودے، جانور جاندار ،پرندے،کیڑے مکوڑے،پہاڑ دریا،سمندر وغیرہ سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں. جنگلات کے ختم ہونے اور پرند وں و چرند وں کے کم ہونے کی صورت میں قدرتی آفات( سیلاب،آندھی،طوفان) کا آنا لازمی ہے اور پھر انسانوں میں مہلک بیماری جیسے Covid-19 کا اضافہ یقینی ہے۔اسی اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے حیاتیاتی تنوع کا عالمی دن منانے کا فیصلہ کیا گیا ۔یہ دن ہر سال 22 مئی کومنایا جاتا ہے ۔اس دن کو منا نے کا فیصلہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس منعقدہ 20دسمبر2000ء کو کیا گیا۔
 اس سال حیاتیاتی تنوع کا مرکزی خیال اس نعرے کے تحت ہے کہ "ہم اس حل کا حصہ ہیں"۔ یہ مرکزی خیال پچھلے سال کے مرکزی خیال کی ہی ایک کڑی ہے، پچھلے سال کی عالمی حیاتیاتی تنوع کا مرکزی خیال  ، "ہمارے حل فطرت میں ہیں" رکھا گیا تھا ۔جشن منانے کا مقصد حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے بارے میں شعور اجاگر کرنا اور اس مقصد کے حصول کے لئے اہم اقدامات کی ضرورت پر زور دینا ہے۔ آب و ہوا میں تبدیلی  ایک بہت بڑا چیلنج ہے کیونکہ یہ قدرتی ماحول کو  تیزی سے بدلتا ہے اور اس تیزی سے بدلتے ماحول سے متاثر ہوکر کہ بہت سے جانور اور پودے تیزی سے نئے حالات میں خود کو ڈھال نہیں پاتے ہیں۔
جنگلی جانوروں کا انسانی بستیوں کی طرف رکھ کرنا اور انسانی جانوں کا زیاں ہونا دراصل ہماری ہی لاپرواہی کا نتیجہ ہے اگر ہم ماحول کے توازن کو بگاڈینگے تو ایسے واقعات رونما ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں۔
اللہ تعالٰی نے انسان کو شعور کے ساتھ تخلیق کیا اور اچھے بُرے کی تمیز انسان میں الہامی طور پیوست ہے  انسان کو یہ شعور الہامی طور پر عطا کیا گیا ہے کہ اللہ نے جن  خوبصورت دنیاوی مناظروں سے اسے نوازا ہے اس کی بقاء کی حفاظت اور قدر کرے اور اگر کوئی طبقہ یا کوئی فرد اس خوبصورتی کو زک پہنچانے کی سعی کرے تو اُسے روکنا بھی ہماری  اجتماعی  و انفرادی زمہ داری ہے، ہمارے سامنے شہرہ آفاق جھیل ڈل کی مثال واضح مثال سامنے ہے اگر ہم نے ابتدائی مراہلوں میں جھیل ڈل کی صاف صفائی کا خیال رکھا ہوتا تو آج حکومتِ وقت کو اربوں روپے اس کی بقاء پر ہر  سال خرچ نہیں کرنے پڈھتے وہ پیسہ کشمیر کی ترقی میں کئی اور کام آتا، یہی حالت جھیل ولر، مانسبل جھیل اور بہت سارے مشہور  جھیلوں کی ہے،   ماہرین ماحولیات نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ جھیل ڈل کا 75 فیصد حصہ تباہ ہو چکا ہے. جھیل ڈل  اور دیگر جھیلوں کی شانِ رفتہ بہال کرنے کے لئے قائم کیا گیا ادارہ لاوڈا ہر سطح پر ناکام ہوگیا ہے اور جھیل کی آبی دنیاں بھی بے ہد متاثر ہوگئی ہے یہی حال  ہم نے اپنی جنگلاتی زندگی ، جنگلات کی زندگی ، ماحولیاتی نظام اور دیگر قدرتی وسائل کے ساتھ کیا ہے۔  ؎
اس گھر کو آگ لگی گھر کے ہی چراغ سے
ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے پیروں پر کلہاڑی ماری ہے، ٹورزم ڈپارٹمنٹ جو کشمیر کی معشیت میں ریڈ کی ہڈی کا کام کرتا ہےاگر ہم  اب بھی کوئی ٹھوس اقدام نہیں اُٹھاینگے تو ہماری معاشیات کے دیگر وسائل بھی شدید مشکلات سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ ایک ماہ قبل حکومتِ وقت نے ایک نئی ایڈوائزری جاری کی جو کچھ یوں ہے:
چیف سکریٹری نے محکمہ جنگلات کو ہدایت کی کہ جو گیلے علاقوں میں ڈیجیٹل انوینٹری کی تیاری ، دستاویزات اور جو مقامی ڈیٹا بیس کی تیاری کا نوڈل محکمہ ہے۔ جموں وکشمیر کے مختلف گیلے علاقوں کی پروفائلنگ کرنے اور اس کے بعد انوویشنمنٹ انوائرمنٹ پروٹیکشن ایکٹ ، 1986 اور ویٹ لینڈ (گفتگو اور انتظامیہ) قواعد ، 2017 کے تحت تجویز کریں۔ محکمہ سے مطلع کیا گیا ہے کہ وہ متعلقہ گیلے علاقوں اور ان کے اثر و رسوخ کے زون میں سرگرمیوں کے ضابطے کی حکمت عملی تیار کرے ، اس کے علاوہ آبی وسائل کے پائیدار استعمال کے لئے تحفظ کے منصوبوں کی بھی سفارش کرے۔  جموں و کشمیر میں کل 3754 آبی ذخائر موجود ہیں جن کو مختلف محکموں اور ایجنسیوں کے ذریعہ کنٹرول کیا جارہا ہے جن میں جنگلات ، جنگلات کی زندگی ، مٹی اور پانی کے تحفظ ، اور مقامی حکومت کے ادارے شامل ہیں۔ چیف سکریٹری نے نوڈل ڈیپارٹ کو ہدایات جاری کی ہے کہ وولر ، جھیل ڈل ، نگین ، سنسار ، مانسبال جھیلوں اور پرمنڈل کو بطور پروٹیکٹ ویلی ویٹ لینڈس تحفظ  میں لایا جائے۔ اُمید ہے کہ اب محکمہ سنجیدگی سے کام کر کے صدیوں سے چلی آ رہی  روایت پرانی بوتل نئ شراب کو غلط ثابت کرینگے۔
اگر ہم اس کی دیکھ بھال کریں تو فطرت مستقل طور پر پائیدار ہوتی ہے صحت مند زمین کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا ہماری آفاقی ذمہ داری ہیں۔(سلویہ ڈولسن ) 
 رابطہ :ساکنہ پاندریٹھن سرینگر حال اومپورہ ہاؤسنگ کالونی 9205000010