واشنگٹن//یو این آئی// عالمی بینک نے توقع ظاہر کی ہے کہ عالمی سطح پر اشیا کی قیمتوں میں رواں سال کے دوران نمایاں کمی ہوگی لیکن اگلے مالی سال کے دوران پاکستان میں اوسط سالانہ مہنگائی 21 فیصد رہے گی۔ڈان کی رپورٹ کے مطابق اشیا کی منڈیوں کے حالیہ منظرنامے میں عالمی بینک نے امید ظاہر کی ہے کہ کووڈ-19 کے بعد رواں برس اشیا کی قیمتوں میں تیز رفتار کمی ہوگی، جس کے سبب دو تہائی ترقی پذیر ملکوں میں معاشی نمو کی صورتحال غیر واضح ہوگی جن کا انحصار اشیا کی برآمدات پر ہوتا ہے ۔عالمی بینک نے بتایا کہ تاہم قیمتوں میں کمی سے دنیا بھر میں تقریباً 35 کروڑ افراد کو معمولی ریلیف ملنے کی توقع ہے جنہیں خوارک کے عدم تحفظ کا سامنا ہے ۔
اس میں مزید کہا کہ اگرچہ اشیائے خور و نوش کی قیمتیں 2023 میں 8 فیصد گرنے کی توقع ہے لیکن یہ 1975 کے بعد سے بدستور دوسری بُلند ترین سطح پر رہیں گی۔یہ رپورٹ وزارت خزانہ کی جانب سے اگلے مالی سال کے لیے تخمینے کے چند روز بعد سامنے آئی ہے ، جس میں بتایا گیا تھا کہ رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ (جولائی سے دسمبر) میں قرضوں میں عدم توازن کے بعد خدشہ ہے کہ مالی ضروریات بدستور بلند رہیں گی اور اگلے مالی سال میں مہنگائی کی شرح 21 فیصد ہوگی جو رواں برس 28.5 فیصد ہے ۔عالمی بینک نے نوٹ کیا کہ رواں برس فروری میں عالمی سطح پر غذائی مہنگائی 20 فیصد رہی جو 2 دہائیوں کی بُلند ترین سطح ہے ۔عالمی بینک کے چیف اکانومسٹ اور ڈیولپمنٹ اکنامکس کے سینئر نائب صدر اندرمِت گِل نے بتایا کہ روس کی جانب سے یوکرین پر جارحیت کے بعد اشیائے خور و نوش اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ تقریباً گزر چکا، اس کی وجہ معاشی نمو میں سست روی، مناسب سردیاں اور اجناس کی تجارت میں تبدیلیاں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ لیکن کئی ممالک میں اس تنزلی سے صارفین کو کم فائدہ ہوگا، حقیقی معنوں میں اشیائے خور و نوش کی قیمتیں گزشتہ 5 دہائیوں کی بُلند ترین سطح پر رہیں گی، حکومتوں کو تجارتی پابندیوں کو ختم کرنا چاہیے اور اپنے غریب شہریوں کا ٹارگیٹڈ انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے تحفظ کرنا چاہیے نا کہ قیمتوں کو کنٹرول کرنا چاہیے ۔