ظالموں کے محلوں خانوں کا طواف کرنے کی بجائے

سرینگر//حضرت شیخ سید عبدالقادرجیلانیؒنے اپنی مجددانہ صلاحیتوں سے دین کے احکامات اور عقائدکو بگاڑنے والوں کو تائب کراکے راہ راست پر لایا۔اس بات کااظہارانجمن حمایت الاسلا م کے صدر مولاناخورشیداحمد قانون گو نے عرس مبارک حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانیؒ کے موقعہ پر خانیار میں نمازظہر سے قبل ایک بیان میں کیا۔ مولانانے کہا کہ حضرت شیخ نے اخلاقی قدروں کو مسخ کرنے والوں کو اخلاقی بلندی سے منور کرکے عظیم خدمت دین انجام دیں۔ حکام وقت کو عدل و انصاف سے نظام حکومت چلانے کیلئے نہ صرف پابند کیا ۔علمائے دین کو اپنے حقیر مفادات کیلئے ظالم بادشاہوں کے محلوں کا طواف کرنے کے بجائے غیرت کو کام میں لاتے ہوئے دین کی خدمت کرنا حقیقی جانشینی سمجھنا وقت کی اہم ضروت ہے۔ ورنہ عوام الناس کے حقیقی راستے سے بھٹکنے کا امکان ہے۔ حضرت پیر نے یہ لامثال تبدیلی تبلیغ، پراثر تقارین، تصنیف و تالیف، درس وتدریس اور خانقاہی نظام سے لاکر اپنی صلاحیتوں کے جھنڈے گاڑ دیئے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام مکاتب ہائے فکر اختلافات و مسالک سے بالاتر ہوکر ان کی رہنمائی تسلیم ہیں۔ حضرت پیر ؒنے ملت اسلامیہ کو خلافت ارض کی ترکیب تخلیق انسان کے ساتھ آسمانی روحانی نظام سے وابستگی کا یہ نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اشرف المخلوقات بنایا اور اسی شرف عظیم کی سرداری حضرت نبی کریم ؐ کو بخشی تھی اور اس کی ذات بابرکت کی تقلید ، اطاعت ، اتباء ، محبت ، تعظیم وتوقیر کا عالم اسلام کو مکلف بنایا گیا۔ اسی غلامی کو حقیقی آزادی کا نام دیا اور جو انسان ان زنجیروں کو کاٹنے کی کوشش کرے گا، وہ خواہشات نفس کا غلام بن گیا۔ یہی پیغام حضرت پیرؒ نے ہمیں دیا ہے۔