طلاب ماحولیاتی تحفظ کیلئے شجرکاری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں :پروفیسر طلعت

سرینگر//کشمیریونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے طلباء پر زوردیا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ کی مہموں میں آگے بڑھ کر حصہ لیں تاکہ ان کے بہتر نتائج سامنے آئیں اور زمینی سطح پروہ زیادہ موثر ہو۔یونیورسٹی کے زبرون مہمان خانہ میں شجر کاری مہم میں مہماں خصوصی کے طور شرکت کے دوران انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو مقامی،قومی اور بین الاقوامی سطح پر ماحولیاتی تحفظ کو فروغ دینے کیلئے اس میںحصہ لے کرشراکت داروں کے ساتھ حکمت عملی مرتب کریں ۔  انہوں نے کہا کہ ماحول دوست سرگرمیوں میں طلاب کی عملی شرکت کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے اورمطلوبہ نتائج سامنے آئین گے ۔انہوں نے کہا کہ اس سے ماحولیاتی چیلنجز جن میں ہوا میں آلودگی،عالمی حدت،موسمیاتی تبدیلی اور حیاتیاتی تنوع کا نقصان  شامل ہیں ،کامقابلہ کیاجاسکے گا۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہماری یونیورسٹی کا احاطہ سبزہے اور ہم اِسے مزیدسرسبزبنانے کیلئے کام کررہے ہیں ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہمارے سٹیلائٹ کیمپس بھی مزیدشجرکاری سے اور زیادہ سرسبز ہو۔دن بھر جاری اس شجرکاری مہم کا اہتمام ڈیپارٹمنٹ آف استوڈنٹس ویلفیئر نے محکمہ جنگلات جموں کشمیر کے اشتراک سے کیا تھا۔اس موقعہ پرمہمان ذی وقار چیف کنسرویٹر جنگلار موہت گیرا نے کہا کہ جموں کشمیر کی سرسبزی میں اضافہ کرنے کیلئے محکمہ جنگلات سنجیدگی سے کام کررہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سبھی متعلقین کواحسا س ہواور وہ ہمیں اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے ہماری مدد کریں۔انہو ں نے کہا کہ ہماری خواہش نہ صرف صنوبر کے درختوں کی شجرکاری کرنا ہے بلکہ روایتی اور وراثتی اشجار کے پودوں کو لگانا بھی ہے ۔ہمارا ہدف جموں کشمیرمیں ایک کروڑ پودوں کی شجر کاری کرناتھااور ہمیں اس کے قریب پہنچ چکے ہیں ۔انہوں نے اس مہم کا اہتمام کرنے کیلئے کشمیر یونیورسٹی کو مبارکباد دی۔کشمیر یونیورسٹی کے رجسٹرارڈاکٹر نثار احمد نے کہا کہ یونیورسٹی شجر کاری مہم کادائرہ اننت ناگ،کپوارہ،اور بارہ مولہ کے علاوہ زکورہ کیمپسوں تک بڑھارہی ہے ۔کشمیر صوبے کے چیف کنسرویٹر جنگلات سید فاروق گیلانی نے کہا کہ تعلیمی اداروں کا جموں کشمیر کو سرسبز بنانے میں محکمہ جنگلات کی کوششوں کا تعاون کرنے میں بڑا رول ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے تعلیمی اور دیگر ادارے سرسبز ہواوراس کیلئے ہم ہرقسم کاتعاون  اور رہبری کرنے کیلئے تیار ہیں ۔