طرابلس// لیبیا میں قومی وفاق حکومت کی طرف سے دارالحکومت طرابلس میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے ہائی الرٹ کادرجہ مزیدبڑھا دیا ہے۔ دوسری جانب عالمی ادارہ صحت کے مطابق طرابلس میں متحارب فریقین کیدرمیان جاری لڑائی میں اب تک 227 افراد ہلاک اور 1128 زخمی ہونے کی تصدیق کی جا چکی ہے۔اتوار کیروز قومی وفاق حکومت کی وزارت داخلہ نے دارالحکومت طرابلس میں ہنگامی حالت کے نفاذکا اعلان کیا۔اتوار کے روز لیبی حکومت نے معیتیقہ ہوائی اڈے کو جنرل خلیفہ حفتر کی فوج کے قبضے سے واپس لے لیا۔ایک چینل کے ذرائع کے مطابق لیبی فوج نے طرابلس میں حکومت کے زیرانتظام "مشروع الموز"پر بمباری کی جس کے نتیجے میں تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔نامہ نگاروں کے مطابق ہفتے اور اتوار کے روز طرابلس میں بمباری کے باعث زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہی ہیں۔نامہ نگاروں کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ طرابلس پر ڈرون طیاروں اور دورسرے جنگی طیاروں کی مدد سے بمباری جاری ہے۔ادھرلیبی فوج کے ترجمان میجر جنرل احمد المسماری نے کہا ہیکہ اس وقت طرابلس اور اس کے اطراف میں قومی وفاق حکومت اور اس کی ملیشیائوں کے ساتھ گھمسان کی جنگ جاری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت العزیزیہ میں الکسارات کے مقام پر سخت لڑائی ہو رہی ہے۔