سرینگر // جموں و کشمیر سرکار نے محکمہ صحت و طبی تعلیم نے کورونا وائرس متاثرین کو علاج و معالجہ فراہم کرنے والے 17ہزار467جونیئرو سینئر ریذیڈنٹ ڈاکٹر، میڈیکل افسران، نیم طبی عملہ، ڈرائیوروں اور نرسنگ آرڈرلیز کو 3ماہ تک خصوصی مرعات دینے کا علان کیا گیاہے لیکن فرنٹ لائن ورکروں کی اس فہرست میں کوویڈ اسپتال چلانے والے ایڈمنسٹریٹیو سٹاف اور سیکورٹی گارڈوں کو نظر انداز کیاگیا ہے۔ جموں و کشمیر میں گذشتہ سال سے کورونا متاثرین کو طبی خدمات فراہم کرنے والے فرنٹ لائن ورکروں کو کورونا وائرس کی دوسری لہر میں 3ماہ کیلئے ماہوار 10ہزار، 7ہزار اور 5ہزار روپے بطور خصوصی مراعات دینے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں۔ 4مئی 2021کو جاری کئے گئے حکم نامہ زیر نمبر 360میں17467فرنٹ لائن ورکروں کی فہرست مرتب کی گئی ہے۔ جن میں 1921جونیئر و سینئر ریذیڈنٹ ڈاکٹر ،1735میڈیکل افسران ، نیم طبی عملہ کے 8ہزار 650ارکان، 4650نرسنگ آرڈرلی/صفائی کرمچاری اور435ڈرائیور شامل کئے گئے ہیں ۔ سرکاری حکم نامہ میں جی ایم سی سرینگر کے1958ملازمین کو شامل کیا گیا ہے۔ ان میں 748جونیئر و سینئر ریذیڈنٹ،73میڈیکل افسران،نیم طبی عملہ کے 626افراد، 450نرسنگ آرڈرلی اور 25ڈرائیور شامل ہیں لیکن سکمز صورہ ، صدر اسپتال سرینگر اور دیگر طبی اداروں کے ایڈمنسٹریٹو سٹاف اور سیکورٹی گارڈوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ سکمز صورہ اور صدر اسپتال سرینگر میں انتظامی امور چلانے والے عملہ کا کہنا ہے کہ کورونا مریضوں کو ٹکٹ فراہم کرنا ، ادویات اور دیگر طبی سہولیات فراہم کرنے کیلئے طبی اور نیم طبی عملہ سمیت ایڈمنسٹریٹیو عملہ کی چھٹیاں بھی منسوخ کی گئی ہیں اور چھٹیاں منسوخ کرنے اور فرنٹ لائن ورکروں کو معاونت فراہم کرنے کیلئے ایڈمنسٹرٹیٹو عملہ اور سیکورٹی گارڈوں کو ترجیحاتی بنیادوں پر ڈیوٹی پر بلایا جاتا ہے لیکن جب خصوصی مراعات کا اعلان کیا گیا تو انہیں نظر انداز کیا گیا ہے‘‘۔ ایڈمنسٹر ٹیٹو سٹاف اور سیکورٹی گارڈوں کو نظر انداز کئے جانے پر بات کرتے ہوئے فائنانشل کمشنر صحت و طبی تعلیم اتل ڈلو نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’فرنٹ لائن ورکروں کی فہرست پر دوبارہ نظر ثانی کی جاسکتی ہے اور ہم کوشش کریں گے، جو رہ گئے ہیں ، انہیں بھی اس فہرست میں شامل کیا جائے‘‘۔