رام بن //جموں کشمیرآل ٹرائبل کوآرڈی نیشن کمیٹی نے تنظیم کے چیئرمین اور کھٹوعہ معاملہ کے سلسلے میں جدوجہدکرنے والے سماجی کارکن طالب حسین کوفرضی کیس میں پھنسانے اورپولیس حراست میں مارپیٹ کرنے کی شدیدمذمت کرتے ہوئے احتجاجی ریلی نکالی۔اس دوران گوجربکروال طبقہ کے لوگوں کی کثیرتعدادنے ریلی میں شمولیت کرکے سانبہ پولیس کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے طالب حسین کی رہائی کامطالبہ کیا۔اس دوران مقررین نے جموں صوبہ میں گوجربکروال طبقہ کے تئیں انتظامیہ کے رویے کی شدیدالفاظ میں مذمت کی گئی اوربعدازاں ڈپٹی کمشنررام بن کے دفترمیں ایک میمورنڈم پیش کیاگیا۔اس دوران مظاہرین نے کہاکہ طالب چوہدری پر جھوٹے مقدمات درج کیے گئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ یہ سارا مسئلہ ایک ڈرامہ ہے اور اصل میں یہ کٹھوعہ کیس کو دبانے کی ایک سازش رچائی گئی ہے جس کو کسی بھی قمیت پر طبقہ کامیاب نہیں ہونے دے گا۔انہوں نے کہا جو شخص تھانے میں بند ہے اور اسی کو مارا پیٹا گیا ہے اور اسی کے خلاف خود کشی کا معاملہ درج کیا جاتا ہے یہ انتہائی شرمناک کام ہے ۔گوجر بکروال طبقے نے نے انتباہ دیاکہ اگر طالب حسین پر لگائے گئے الزامات کوفوری طور کیس سمیت واپس نہیں لیا گیا تو تمام گوجر بکروال طبقہ سڑکوں نکلنے کے لئے مجبور ہو گا جس کی تمام ذمہ داریاں حکومت پر عائد ہوںگے۔اس دوران مظاہرین نے بٹھنڈی میں مرفادشاہ اورگول کوہلی میں محمدرفیع نامی نوجوانوں کی ہلاکت کی بھی شدیدالفاظ میں مذمت کی ۔واضح رہے طالب حسین کی گرفتاری اور مارپیٹ کے حوالے سے پہلے بھی عدالت عالیہ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے ۔جس پر گزشتہ روز عدالت نے ریاستی حکومت سے جواب طلبی کر کے کیس کی شنوائی کے لئے دوبارہ 21اگست کا تاریخ مقرر کیا ہے ۔