طالبان کی پیش قدمی جاری

کابل //افغانستان میں حکام کے مطابق افغان طالبان نے دارالحکومت کابل سے محض 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع صوبہ لوگر کے دارلحکومت پلِ علم پر قبضہ کر لیا ہے۔  اس سے قبل طالبان نے قندھار اور جنوب میں اہم شہر لشکرگاہ پر بھی قبضہ کرلیا تھا اور افغان سکیورٹی ذرائع نے اس کی تصدیق بھی کردی تھی۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اب تک طالبان کو افغانستان کے 34 میں سے 18 صوبوں کے دارالحکومتوں پر کنٹرول حاصل ہوگیا ہے۔ طالبان نے افغان صدر اشرف غنی کے آبائی صوبے لوگر کے دارالحکومت ’پل علم‘  کو کنٹرول میں لینے کے بعد گورنر اورشہری خفیہ ایجنسی کیسربراہ کو گرفتار کرلیا۔یاد رہے کہ جمعرات کو طالبان نے افغانستان کے تیسرے بڑے شہر ہرات پر بھی قبضہ کر لیا تھا جو گیارہواں صوبائی دارالحکومت تھا جو طالبان کے قبضے میں گیا ہے۔  طالبان کے ایک ترجمان نے ایک سرکاری طور پر تصدیق شدہ ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ ’قندھار کو مکمل طور پر قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ادھرافغانستان میں دو سو سے زائد افغان فوجیوں نے ان کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ طالبان نے اہم صوبائی دارالحکومتوں پر قبضے کے بعد فوج کے کور ہیڈ کوارٹر سمیت مزید 2 ائیرپورٹس پر قبضہ کرلیاہے ۔طالبان نے پہلی مرتبہ کسی فوجی ہیڈکوارٹر پر قبضہ کیا ہے ۔ طالبان نے افغان نیشنل آرمی کے 217 پامر کور ہیڈکوارٹر کا بھی کنٹرول حاصل کرلیا ہے ۔افغان میڈیا کا بتانا ہے کہ طالبان پہلی مرتبہ کسی فوجی کور ہیڈکوارٹر پر قابض ہوئے ہیں جب کہ طالبان کی جانب سے قندوز ائیرپورٹ پر موجود ایک فوجی ہیلی کاپٹر کو بھی قبضے میں لیا گیا ہے جسے ناکارہ بتایا جاتا ہے ۔ قندوز ائیرپورٹ اور کور ہیڈکوارٹرز پر حملے کی کچھ ویڈیوز سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہیں جس میں افغان فوجیوں کو طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالتے دیکھا گیا ہے ۔